کامران مرتضیٰ نے اسپیکر قومی اسمبلی سے مدارس بل پر صدر کے اعتراضات مانگ لیے

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کو خط لکھ کر سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل پر صدر مملکت آصف زرداری کے اعتراضات مانگ لیے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کو لکھےگئے خط میں سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل پر صدر آصف علی زرداری کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کی نقول فراہم کی جائیں۔
سینیٹر کامران مرتضی نے کہاکہ ہمیں صدر مملکت کی طرف سے اٹھائے گئے اعتراضات کی نقول فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسپیکر کی جانب سے ان اعتراضات کو ایڈریس کرنے کےلیے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کیا جائے۔
یاد رہےکہ اس بل کے تحت ہی پارلیمنٹ میں دینی مدارس کی رجسٹریشن کی منظوری دی گئی تھی۔
تاہم صدر مملکت آصف زرداری نے دینی مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اس پر دستخط سے انکار کر دیا تھا۔
20 اکتوبر 2024 کو مدارس کی رجسٹریشن کےحوالے سے ایک بل سینیٹ میں پیش کیاگیا جس میں ذیل میں درج شقیں شامل کی گئی ہیں۔
بل کو ’سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024‘ کا نام دیاگیا ہے،بل میں متعدد شقیں شامل ہیں۔
بل میں 1860 کے ایکٹ کی شق 21 کو تبدیل کر کے ’دینی مدارس کی رجسٹریشن‘ کےنام سے ایک نئی شق شامل کی گئی ہے۔
اس شق میں کہاگیا ہےکہ ہر دینی مدرسہ چاہے اسے جس نام سے پکارا جائے اس کی رجسٹریشن لازم ہوگی،رجسٹریشن کےبغیر مدرسہ بند کر دیا جائے گا۔
شق 21۔اے میں کہاگہا ہےکہ وہ دینی مدارس جو ’سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی ایکٹ 2024‘ کے نافذ ہونے سےقبل قائم کیے گئے ہیں،اگر رجسٹرڈ نہیں تو انہیں 6 ماہ کے اندر اپنی رجسٹریشن کرانی ہوگی۔
شق بی میں کہاگیا ہےکہ وہ مدارس جو اس بل کے نافذ ہونے کےبعد قائم کیے جائیں گے انہیں ایک سال کے اندر اپنی رجسٹریشن کرانی ہوگی، بل میں واضح کیا گیا ہےکہ ایک سے زائد کیمپس پر مشتمل دینی مدارس کو ایک بار ہی رجسٹریشن کرانی ہوگی۔
بل کی شق 2 میں کہاگیا ہےکہ ہر مدرسے کو اپنی سالانہ تعلیمی سرگرمیوں کی رپورٹ رجسٹرار کو جمع کرانی ہو گی۔
بل کی شق 3 کےمطابق کہ ہر مدرسہ کسی آڈیٹر سے اپنے مالی حساب کا آڈٹ کروانے کا پابند ہوگا، آڈٹ کے بعد مدرسہ رپورٹ کی کاپی رجسٹرار کو جمع کرانےکا بھی مجاز ہو گا۔
بل کی شق 4 کےتحت کسی دینی مدرسے کو ایسا لٹریچر پڑھانے یا شائع کرنے کی اجازت نہیں ہو گی جو عسکریت پسندی،فرقہ واریت یا مذہبی منافرت کو فروغ دے۔
تاہم مذکورہ شق میں مختلف مذاہب یا مکاتب فکر کے تقابلی مطالعے،قران و سنت یا اسلامی فقہ سےمتعلق کسی بھی موضوع کےمطالعے کی ممانعت نہیں ہے۔
بل کی شق 5 کےمطابق ہر مدرسہ اپنے وسائل کےحساب سے مرحلہ وار اپنے نصاب میں عصری مضامین شامل کرنے کا پابند ہوگا۔
بل کی شق 6 میں کہاگیا ہےکہ ایکٹ کے تحت دینی مدارس کی رجسٹریشن کےلیے کسی بھی مدرسے کو اس وقت نافذالعمل کسی دوسرے قانون کے تحت رجسٹریشن درکار نہیں ہوگی۔
بل کی شق نمبر 7 کےمطابق ایک بار اس ایکٹ کےتحت رجسٹر ہونے کےبعد کسی بھی دینی مدرسے کو کسی دوسرےقانون کے تحت رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہو گی۔
لاہور کے مقدمات میں پی ٹی آئی کے اڈیالہ جیل میں قید 200 کارکنوں کو شامل تفتیش کرنے کی درخواست منظور
مذکورہ شق میں دینی مدرسے سےمراد مذہبی ادارہ یا جامعہ دارالعلوم شامل ہے یا کسی بھی دوسرے نام سے پکارے جانے والا ادارہ جس کو دینی تعلیم کےفروغ کےلیے قائم کیا گیا ہو۔
