کراچی: مظاہرین کے امریکی میرینز کے ہاتھوں قتل کی تصدیق ہو گئی

بالآخر امریکی حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ کراچی میں اس کے قونصلیٹ پر حملہ کر کے اسے نذر آتش کرنے کی کوشش میں ملوث مظاہرین پر فائرنگ ان امریکی میرینز نے کی تھی جو کہ قونصلیٹ کی حفاظت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ قونصلیٹ کے سٹاف کی جانیں بچانے کے لیے فائرنگ کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ یاد رہے کہ اس واقعے میں 9 مظاہرین مارے گئے تھے۔
امریکی اعتراف کے بعد واقعے کی سنگینی اور سفارتی سطح پر اس کے ممکنہ اثرات کے حوالے سے سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، جبکہ کراچی میں پیش آنے والا یہ واقعہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
خیال رہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد اتوار کی صبح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کی اپیل پر بڑی تعداد میں مظاہرین صدر اور ٹاور کے علاقوں سے مارچ کرتے ہوئے امریکی قونصل خانے کی جانب بڑھے۔ ابتدا میں احتجاج پُرامن تھا تاہم دوپہر تک صورتحال کشیدہ ہو گئی جب مشتعل افراد نے سکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور مرکزی گیٹ کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔ چند افراد گیٹ عبور کر کے اندرونی حصے تک پہنچ گئے اور انھوں نے استقبالیہ کے شیشوں کو نقصان پہنچایا۔ اس کے بعد کچھ مظاہرین نے امریکن قونصلیٹ کی عمارت کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ اور ربر کی گولیوں کا استعمال کیا۔ تاہم حالات تب مزید بگڑ گئے جب قونصل خانے کی عمارت کے اندر تعینات امریکی میرین سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے فائرنگ شروع ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں 9 افراد موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے جبکہ بتیس زخمیوں کو طبی امداد کے لیے کراچی کے مختلف ہسپتالوں میں پہنچایا گیا۔ حکام کی جانب سے فوری طور پر اس خونریزی میں امریکی میرینز کے ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی گئی تھی تاہم اب امریکی حکام نے خود امریکی میرینز کے ہاتھوں پاکستانی مظاہرین کے قتل کا اعتراف کر لیا ہے
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق دو امریکی سرکاری عہدیداروں کے مطابق اتوار کو کراچی میں قائم امریکی قونصل خانے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے مظاہرین پر امریکی فوجی اہلکاروں نے فائرنگ کی۔ قونصل خانے کے کمپاؤنڈ کی بیرونی دیوار توڑنے کی کوشش کرنے والے کم از کم 10 مشتعل مظاہرین امریکی میرینز کی گولیوں کا نشانہ بنے۔ تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ مرینز کی جانب سے چلائی گئی گولیاں کسی کو لگیں یا ان کی وجہ سے کوئی جانی نقصان ہوا۔ ان کے مطابق یہ بھی معلوم نہیں کہ آیا قونصل خانے کی حفاظت پر مامور دیگر سکیورٹی گارڈز یا پولیس اہلکاروں نے بھی فائرنگ کی۔ مبصرین امریکی عہدیداروں کے بیان کو میرینز کے پاکستانی مظاہرین کے قتل میں ملوث ہونے کی پہلی باضابطہ تصدیق قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ترجمان سندھ حکومت سکھدیو اسرداس ہیمنائی کا بھی کہنا ہے کہ کراچی میں مظاہرین پر فائرنگ امریکی قونصلیٹ پر تعینات ’سکیورٹی‘ اہلکاروں کی جانب سے کی گئی تھی، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ اہلکار کس ادارے سے وابستہ تھے۔ کراچی پولیس کے ایک اہلکار نے بھی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گولیاں قونصل خانے کے احاطے کے اندر سے چلائی گئی تھیں جس کے نتیجے میں 9 افراد جان کی بازی ہار گئے۔
خیال رہے کہ امریکہ کے سفارتی مشنز کی سکیورٹی عموماً نجی کنٹریکٹرز اور مقامی فورسز کے سپرد ہوتی ہے، تاہم کراچی قونصلیٹ فائرنگ میں امریکی مرینز کی براہِ راست شمولیت اس بات کی غماز ہے کہ قونصل خانے نے کراچی میں احتجاجی صورتحال کو غیر معمولی خطرہ تصور کیا۔ جس کے بعد میریز نے مظاہرین پر فائر کھول دیا۔ ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد امریکی مرینز نے واقعہ کی تمام تفصیلات اپنی فوج کو بھجوا دی ہیں جنہیں آگے محکمہ خارجہ کو ارسال کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ تبصرہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم مبصرین کے مطابق کراچی کا اس واقعہ نے نہ صرف ملکی امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات اٹھادئیے ہیں بلکہ اس قتل گری کے پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ، اسرائیل، ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان مشکل میں کیوں؟
یاد رہے کہ امریکہ کا سفارت خانہ دارالحکومت اسلام آباد میں واقع ہے جبکہ لاہور، کراچی اور پشاور سمیت ملک کے دیگر شہروں میں بھی امریکی قونصل خانے موجود ہیں۔ واقعے کے بعد کراچی میں امریکی قونصل خانے جانے والی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ اسلام آباد اور لاہور میں بھی امریکی مشنز کے اطراف سکیورٹی سخت کر دی گئی ہے۔
