خیبرپختونخوا حکومت کا قیام امن کے لیے اپنا وفد افغانستان بھیجنے کا فیصلہ

خیبرپختونخوا حکومت نے قیام امن اور مذاکرات کےلیے افغانستان اپنا وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے امارات اسلامی افغانستان سے مذاکرات کےلیے رابطہ کیا ہے۔
تاہم امارات اسلامی افغانستان کے دو اہم حکومتی عہدیداروں کی بیرون ملک موجودگی کے باعث ملاقات تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں پاک افغان سرحد کے اطراف قیام امن، تجارتی تعلقات کے فروغ دیگر امور پر غور کیا جائے گا۔
ابتدائی بات چیت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان گرینڈ جرگہ ہوگا۔
یاد رہے کہ کچھ روز قبل مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت افغانستان سے مذاکرات کے ٹی او آر تیار کر رہی ہے، ٹی او آر منظوری کےلیے وفاقی حکومت کو بھیجےجائیں گے، خوارج سےکوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، قواعد وضوابط کی منظوری کےبعد وفد افغانستان روانہ کیاجائے گا، یہ مذاکرات خطے میں جاری بدامنی کے خاتمے کے لئے مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔
مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کی منظوری کےبعد وفد افغانستان جائے گا جس میں قبائلی عمائدین، مذہبی اور سیاسی رہنما شامل ہوں گے۔ وفد بھیجنےکا مقصد قبائلی اضلاع سمیت خیبرپختونخوا میں امن و امان قائم کرنا ہے۔
کسانوں کو ہراساں کرناافسوناک،تنہانہیں چھوڑیں گے،گورنرپنجاب
بیرسٹر سیف نے بتایا تھا کہ افغانستان کی صورت حال کا براہ راست اثر خیبرپختونخوا اورقبائلی اضلاع پر پڑتا ہے،افغانستان کےساتھ 2 ہزار 650 کلومیٹر طویل سرحد پر دونوں جانب پختون قبائل آباد ہیں۔
انہوں نے مزید کہا تھا کہ قبائلی اضلاع میں امن و امان کا مسئلہ حل کرنا خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داری ہے۔خیبرپختونخوا حکومت کو سفارتی تعلقات اور قانونی پیچیدگیوں کا بخوبی ادراک ہے۔
