ججز تعیناتی پر وکلاء احتجاج چیف جسٹس کو سمجھ نہیں آیا


چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد نے کہا ہے کہ ججز کی تعیناتی کے معاملے پر ہمیشہ بار کونسلز کی رائے لی گئی ہے، لہذا انہیں سمجھ نہیں آتا کہ وکلا تنظیموں کے احتجاج کے پیچھے چھہے اصل محرکات کیا ہیں۔ سپریم کورٹ میں نئے عدالتی سال کے حوالے سے فل کورٹ ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ججز تعیناتی کے معاملے پر بار کونسلز نے یک طرفہ مؤقف اپناتے ہوئے معاملے کو اٹھایا، حالانکہ انہوں نے اس معاملے پر بار کونسلز کے صدور کو متعدد مرتبہ ملاقات کی دعوت دی لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کیا۔ جیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بار کونسلز اور وکلا کے لیے انکے دروازے اب بھی کھلے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان کی تمام بڑی وکلا تنظیموں نے حال ہی میں جوڈیشل کونسل کی جانب سے سنیارٹی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جونیئر ججوں کو سپریم کورٹ میں تعینات کرنے کی مخالفت کی تھی۔ وکلاء نے سب سے پہلے سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد علی مظہر کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی مخالفت کی تھی لیکن اس کے باوجود انہیں سپریم کورٹ میں ترقی دے دی گئی۔ بعد ازاں جوڈیشل کونسل نے ایک اور جونیئر جج جسٹس عائشہ ملک کو سپریم کورٹ میں ترقی دینے کی کوشش کی لیکن مخالفت کی وجہ سے ایسا نہ ہو پایا۔
13 ستمبر کو سپریم کورٹ میں ہونے والے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ اس ریفرنس کا مقصد گزشتہ سال کی کارکردگی اور نئے سال کی منزل کا تعین کرنا ہے۔ جسٹس عائشہ ملک کی سپریم کورٹ میں ترقی پر اتفاق نہ ہونے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ میں خاتون جج کی کمی آدھی آبادی کو نمائندگی سے محروم رکھے گی۔ اٹارنی جنرل نے مزید کہا کہ گزشتہ عدالتی سال کے دو فیصلے اہم رہے ایک فیصلے کی وجہ سے بہت سے لوگ بے روزگار ہوئے جبکہ دوسرے فیصلے نے ظاہر کیا کہ خواتین کی ہراسانی سے متعلق اعلیٰ عدلیہ کتنی بے بس تھی۔
انہوں نے کہا کہ آج سے قبل بینچ اور بار کے درمیان اتنی دوریاں کبھی نہ تھیں، انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ میں سینیارٹی کی بنیاد پر ججز کی تعیناتی کا مسئلہ بنچ اور بار کے تعلقات میں بگاڑ کی وجہ بن گیا ہے، چنانچہ ججز کی تعیناتی میں شفافیت سے پسند اور ناپسند کے عنصر کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جسٹس وقار سیٹھ اور سندھ ہائی کورٹ بار کی سپریم کورٹ میں زیر التوا درخواستیں جلد نمٹا کر شکوک و شبہات کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وفاقی حکومت ججز کے تقرر سمیت عدلیہ کے تمام مسائل کے حل کے لیے ہر وقت تیار ہے۔
اس موقع پر وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل امجد شاہ نے فل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کا عدالتی نظام بالخصوص ماتحت عدلیہ میں شفاف اور فوری انصاف کی فراہمی اطمینان بخش نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت عظمی میں کئی اہم مقدمات زیر التوا ہیں جن کی اب تک ایک بھی سماعت نہیں ہوئی۔ رکن پی بی سی کا کہنا تھا کہ یہ بات قابل ستائش ہے کہ عدالتوں نے سابق وزیراعظم کے مقدمات کی جلد شنوائی کر کے جلد فیصلے کیے تاہم دو مرتبہ آئین کو پامال کرنے والے آمر جنرل مشرف کا کیس آج تک سماعت کے لیے مقرر نہیں کیا گیا۔ امجد شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری عدلیہ مختلف ادوار میں نشیب و فراز سے گزری ہے. منتخب وزرائے اعظم کبھی پھانسی، کبھی توہین عدالت کی تلوار سے کچل دیے جاتے ہیں، لہازا اعلیٰ عدلیہ کے ججز کو ریٹائرمنٹ کے بعد کوئی عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ نے اپنی ساکھ بچانی ہے تو اسے سنیارٹی اصول پر عمل کرنا ہو گا اور جونیر ججوں کو سینئرز پر ترجیح دے کر عدالت عظمیٰ میں تعینات کرنے کی روش ترک کرنا ہو گی۔

Back to top button