فوج میں عمرانڈوز کے خلاف ایکشن تیز ہو گیا

طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پراجیکٹ عمران کھڑا کرنے میں مرکزی کردار ادا کرنے والوں کیخلاف ایکشن تیز کر دیا یے۔
اسٹیبلشمنٹ کے شروع کردہ پراجیکٹ عمران کو لپیٹنے اور اداروں میں موجود ان کے سہولتکاروں کیخلاف آپریشن جاری ہے۔ اس حوالے سے پہلے پہل بڑا کلین اپ آپریشن اس ادارے میں کیا گیا جنھوں نے یہ پراجیکٹ لانچ کیا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ میں موجود کٹر عمرانڈوز کو انجام تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ اب دیگر ریاستی اداروں میں موجود عمران خان کے سہولتکاروں کی سرکوبی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ جس کے تحت جلد بڑے پیمانے پر برطرفیوں اور گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے۔ اسی آپریشن کلین اپ کے دوران سینئرصحافی سید عمران شفقت نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کی بجائے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں خفیہ معلومات فراہم کرنے والا اسلام آباد کے ایک ایس پی یعنی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس  پکڑا گیا ہے۔

اپنے یوٹیوب چینل پر ایک حالیہ بلاگ میں سینئر صحافی نے بتایا کہ اسلام آباد کے ایس پی کو 18 مارچ کو لاہور اسلام آباد موٹر وے پر پی ٹی آئی کے ہجوم کے حجم کو کم سے کم کرنے کی  ڈیوٹی سونپی گئی تھی۔ لیکن اس کے برعکس انہوں نے عمران خان کو اطلاع دی اور راستہ بدلنے کا مشورہ دیا۔ جس کی وجہ سے عمران خان ایک ہجوم کے ساتھ اسلام آباد جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ اس روز ہونے والی سماعت پر 2500-3000 افراد موجود تھے۔

عمران شفقت کا کہنا تھا کہ اسلام آباد کے ایس پی نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کو عدالت کے احاطے میں داخل نہ ہونے کا مشورہ بھی دیا تھا کیونکہ سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں نے انہیں گرفتار کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا تھا۔ ایس پی نے سابق وزیراعظم کو بتایا کہ ایجنسیوں نے ان کی گرفتاری کے لیے پولیس ڈیپارٹمنٹ سے یونیفارم لیے ہیں۔

سید عمران شفقت نے کہا کہ عمران خان متعدد بار اس بات کا اعادہ کر چکے ہیں کہ انہیں اندر سے معلومات ملتی ہیں اور وہ اپنے خلاف کی جانے والی ہر حکمت عملی سے آگاہ ہیں۔اسلام آباد کے ایس پی کو شواہد کے ساتھ پکڑا گیا کیونکہ متعلقہ حکام کی جانب سے ایس پی کا فون ٹیپ کیا گیا تھا۔ ایس پی کے خلاف انکوائری بھی شروع کر دی گئی ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال کا حوالہ دیتے ہوئے عمران شفقت نے کہا کہ بندیال اینڈ کمپنی اب بھی عمران خان کی حمایت کر رہی ہے، اور پی ٹی آئی اپنی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے دور میں انتخابات چاہتی ہے۔صحافی نے ذکر کیا کہ پارلیمنٹ نے عدلیہ میں ان افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے جو عمران خان کی ہر صورت حمایت کر رہے ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ میں اپنی تقریر میں کہا تھا کہ اداروں میں چند افراد اب بھی پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی حمایت کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات محدود کرنے کے لیے بل بھی پاس کیا گیا ہے۔بل کے مطابق بینچ کی تشکیل کا فیصلہ 3 ججز پر مشتمل کمیٹی کرے گی جو چیف جسٹس، 2 سینئر ترین ججز پر مشتمل ہوگی۔ کمیٹی کی اکثریت کا فیصلہ تسلیم کیا جائے گا۔منظور شدہ بل میں بتایا گیا ہے کہ آرٹیکل 184 تین کے تحت کیس کمیٹی کے سامنے رکھا جائے گا۔ معاملہ قابل سماعت ہونے پر بینچ تشکیل دیا جائے گا۔معاملے کی سماعت کے لئے بنچ کم سے کم 3 رکنی ہوگا جب کہ تشکیل کردہ بینچ میں کمیٹی سے بھی ججز کو شامل کیا جا سکے گا۔اس کے علاوہ از خود نوٹس کے فیصلے پر 30 روز میں اپیل دائر کی جا سکے گی۔ 14 روز میں اپیل کی سماعت کے لئے لاجر بینچ تشکیل دیا جائے گا۔ اپیل کرنے والے فریق کو مرضی کا وکیل مقرر کرنے کا حق ہوگا اور آئین کی تشریح کے لئے 5 سے کم ججز پر مشتمل بینچ تشکیل نہیں ہوگا۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی چیف آرگنائزر اور سینئر نائب صدر مریم نواز بھی کافی دفعہ اس بات کا تذکرہ کر چکی ہیں کہ عمران خان اسٹیبلشمنٹ سے دھتکارے جانے کے بعد جوڈیشل اسٹیبلشمنٹ میں سہارے تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کے ذریعے وہ دوبارہ اقتدار حاصل کر سکیں۔مریم نواز واضح الفاظ میں جسٹس منیب اختر، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس مظاہر نقوی کو عمران خان کا سہولتکار قرار دیتی ہیں۔

کیا بغاوت کا قانون واقعی ختم ہو جائے گا؟

Back to top button