آئی ایم ایف 30 روپے فی لیٹر اضافے پر بھی خوش نہیں ہوا

.÷[؛embed]https://youtu.be/Anu4JD-Ic_E[/embed]
کپتان حکومت اور آئی ایم ایف کے مابین ماضی میں ہونے والے معاہدے کے نتیجے میں مخلوط حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 30 روپے فی لیٹر اضافہ تو کر دیا ہے لیکن عالمی مالیاتی ادارہ پھر بھی خوش نہیں ہوا اور مرحلہ وار قیمتوں میں اضافے پر عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ فیول کی قیمت میں سبسڈی واپس لی جائے اور یکمشت ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی جائیں۔ اوگرا کے تخمینے کے مطابق حکومت عوام کو ڈیزل پر 85 روپے فی لیٹر اور پٹرول پر 43 روپے فی لیٹر سبسڈی دے رہی ہے۔ اب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مذید بڑھانے کا انحصار وزیراعظم شہباز شریف پر ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ چند روز میں قیمتوں میں اور کتنا اضافہ کرتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات اس وجہ سے ناکام ہوگئے کہ حکومت پاکستان یکمشت پٹرولیم مصنوعات پر عوام کو دی جانے والی سبسڈی واپس لینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ اس وقت پاکستان کو پیسوں کی اشد ضرورت ہے اور اگر وہ آئی ایم ایف کا مطالبہ مانتے ہوئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مطلوبہ اضافہ نہیں کرتا تو اسے ایک ارب ڈالرز قرض کی اگلی قسط نہیں ملے گی جس سے پاکستان میں معاشی بحران سنگین تر ہو جائے گا۔
لہٰذا دیکھنا یہ ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کس طرح آئی ایم ایف کو فنڈ بحالی پروگرام کے لیے راضی کرتے ہیں۔ آئی ایم ایف اب تک حکومت کے مجوزہ منصوبے سے مطمئن نہیں ہے اور چاہتا ہے کہ پاکستان 6 ارب ڈالرز کے پروگرام کو بحال کروانے کے لیے سب سے پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حقیقی اضافہ کرے۔ دوسری جانب پاکستان کے غیر ملکی کرنسی ذخائر میں بھی کمی ہورہی ہے۔ 20 مئی، 2022 تک اس میں ساڑھے سات کروڑ ڈالرز کی کمی ہوئی اور یہ گھٹ کر 10 ارب ڈالرز رہ گے ہیں۔ اس لیے اسلام آباد کو دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے آئندہ چند ہفتوں میں ڈالرز کے بہائو کا انتظام کرنا ہوگا۔
فیصد سینماوں میں پاکستانی فلمیں لگانے کا حکم کیوں آیا؟
سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ اے پاشا کا کہنا ہے کہ شہباز حکومت کو سخت فیصلے کرنا ہوں گے تاکہ سبسڈیاں واپس لے کر 6 ارب ڈالرز کی توسیعی فنڈ سہولت کو فوری بحال کروایا جائے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا جائے۔ انہوں نے یاددہانی کروائی کہ پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں 2008 میں پٹرول کی قیمتوں میں 40 فیصد اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 فیصد اضافہ کیا گیا تھا، خصوصا جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں 140 ڈالرز فی بیرل تک پہنچ گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی بےعملی سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مستقل کمی دیکھی جارہی ہے لہٰذا مہنگائی میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ غیرملکی کرنسی ذخائر نچلی سطح پر آچکے ہیں، لہٰذا حکومت کو فنڈ پروگرام بحال کروانے کے لیے آئی ایم ایف کی پیشگی شرائط پوری کرنا ہوگی۔ دوسری جانب شہباز حکومت کے لیے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے عمران خان دور میں کیے گئے فیصلوں کے نتائج بھگتنا پڑے ہیں جن سے ملک میں مہنگائی کا طوفان آئے گا اور اس کا سیاسی نقصان اسے اگلے الیکشن میں اٹھانا پڑے گا۔
