85 فیصد سینماوں میں پاکستانی فلمیں لگانے کا حکم کیوں آیا؟

عید کے موقع پر ملک بھر کے سینماؤں میں پاکستانی اردو فلموں کی بجائے غیر ملکی انگلش فلموں کو ترجیح دینے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے والے فلمسازوں کی بالآخر سنی گئی یے اور سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا ہے کہ اب سے مقامی سینما مالکان 85 فیصد سینما سکرینز کو پاکستانی فلموں کی نمائش کے لیے مختص کریں گے۔ سندھ ہائی کورٹ نے فلم پروڈیوسرز عدنان صدیقی، اختر حسین، شازیہ اور رؤف وجاہت، ندا اور یاسر نواز کی درخواست پر مختصر حکم نامے میں کہا کہ سینما مالکان موشن پکچرز آرڈیننس

1979 کے تحت مقامی فلموں کو زیادہ ترجیح دینے کے پابند ہیں

۔ عدالتی حکم کے مطابق قانون کے تحت سینما انتظامیہ مقامی فلموں کے لیے 85 فیصد جبکہ غیر ملکی فلموں کے لیے محض 15 فیصد اسکرینز مختص کرنے کی پابند ہے۔ مقدمے میں درخواست گزاروں نے وزارت اطلاعات و نشریات، سینٹرل بورڈ آف فلم سینسر، پنجاب فلم سینسر بورڈ، سندھ بورڈ آف فلم سینسرز، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان، جے بی فلمز، نیو پلیکس سینماز، سائن پیکس سینماز، سائن گولڈ سینماز، ایچ کے سی انٹرٹینمینٹ اور کراچی ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر کو فریق بنایا تھا۔
عدالت کی جانب سے تمام مدعا عالیان کو حکم دیا گیا کہ وہ 2 جون کو کیس کی اگلی سماعت تک سینماؤں میں مقامی فلموں کے لیے 85 فیصد اسکرینز مختص کرنے کے انتظامات کو یقینی بنائیں۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل مقامی فلم پروڈیوسرز اور ہدایت کاروں نے الزام عائد کیا تھا کہ سینما مالکان مقامی فلمز کے بجائے غیر ملکی فلموں کی نمائش کو ترجیح دے رہے ہیں اور پاکستانی فلموں کو انتہائی کم دکھایا جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں تقریباً دو سال اور چار عیدوں کے بعد اس بار عید الفطر پر 4 اردو اور ایک پنجابی فلم ریلیز ہوئی تھی لیکن عید کے کچھ دن بعد فلم سازوں نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی سینما مالکان مقامی فلموں کو کم دکھا رہے ہیں اور غیر ملکی فلموں کی خاطر پاکستانی فلموں کو اپ ی دوسری ترجیح بنا رکھا ہے۔

عمران کو نکالنے کی سازش امریکہ نے کی یا فوج نے؟

یاد رہے کہ پاکستانی فلم سازوں نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس کی تھی جس میں ہم ٹی وی نیٹ ورک کے بدر اکرام نے موشن پکچرز ایکٹ 1979 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس قانون کے تحت کوئی بھی سنیما 15 فیصد سے زیادہ غیر ملکی فلم نہیں دکھا سکتا۔ لیکن ابھی یہ واضح نہیں کہ سینما مالکان عدالتی فیصلے کے خلاف اپنا کیس کس طرح لڑیں گے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے یا نہیں، سینما مالکان کا دعویٰ ہے کہ شائقین مقامی فلموں کے مقابلے غیر ملکی فلموں کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں، جس وجہ سے وہ مجبوری میں غیر ملکی فلمیں دکھاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اگر بزنس انگریزی فلموں کو ملے گا تو وہ پاکستانی فلمیں دکھا کر اپنا نقصان کیوں کریں گے۔

Related Articles

Back to top button