ڈرامہ ’’101 طلاقیں‘‘ شادی شدہ جوڑوں کیلئے سبق آموز کیوں؟

شہزاد غیاث اور عمر اکرام کے تحریر کردہ سکرپٹ پر مبنی ڈرامہ ’’101 طلاقیں‘‘ نام سے تو تنازعات میں الجھی داستان معلوم ہوتا ہے لیکن حقیقت میں اس میں بات پیار کی، رشتوں کو نبھانے کی اور تعلق کو برقرار رکھنے کی ہوئی ہے۔رستم کاؤس جی کسی کو انٹرویو بھی نہیں دیتا، لوگوں سے الگ رہتا ہے، اس نے اپنی ایک الگ دنیا بسائی ہے جو بہت پروفیشنل مگر ایک خواب جیسی بھی ہے، آپ شادی کرنے جا رہے ہیں، آپ کے درمیان طلاق کی بات چل رہی ہے، آپ کو کسی سے محبت ہو گئی ہے یا کسی کو آپ سے محبت ہو گئی ہے، کسی بھی دوستانہ تعلق میں ہیں تو آپ کو بھی یہ ڈراما ایک بار غور سے دیکھ لینا چاہئے جس کا نام تو طلاقیں 101 ہے مگر اس میں بات پیار کی ہوئی ہے۔رستم کاؤس جی وکیل ہے اور ساتھ ہی وہ مصنف ایک تخلیق کار بھی ہے۔ ایک طرف وکالت جیسا سفاک کام ہے دوسری طرف لکھنے جیسا حساس شعبہ ہے۔ اس نے کبھی کوئی کیس نہیں ہارا، اس کی فیلڈ میں اس کا نام ہی اس کی پہچان ہے۔اب تک وہ 99 طلاقوں کے کیس فائل کر چکا ہے، سینچری پہ جو کیس اس کے پاس آتا ہے اسے وہ خود لٹکا دیتا ہے۔ وہ اس جوڑے سے سیکھ رہا ہے اور کسی حد تک اس کا خیال ہے کہ یہ جوڑا ساتھ رہ سکتا ہے، وہ ڈگمگاتے رشتوں کے مسیحا سمجھے جاتے ہیں مگر اس کی طلسماتی ذات ابھی راز ہے۔ایک صحافی لڑکی معاشرے میں طلاق کے بڑھتے رحجان پہ ڈاکومینٹری کرنے امریکہ سے آتی ہے تو ادارے کا مالک اسے تین شخصیات کے نام بتاتا ہے جن میں ایک نام بیریسٹر رستم کا بھی ہے، دوسرا رشتے کروانے والی پروفشنل خاتون مسز خان کا ہے۔ تیسرا ملک کے معروف موٹیوشنل سپیکر ثاقب علی شاہ کا ہے۔رستم کاؤس جی کسی کو انٹرویو بھی نہیں دیتا، فیس اپنے مطلب کی لیتا ہے اور کام دفتر میں آنے والے کے مطلب کا کرتا ہے اور اس کا کوئی کیس ناکام نہیں ہوتا، یہی وجہ ہے کہ شہر بھر میں لوگوں کو اس سے کوئی مسئلہ سا رہتا ہے جیسے ایک کامیاب انسان سے عام انسانوں کو ہوا ہی کرتا ہے۔زاہد احمد نے کردار کو بہت خوب نبھایا ہے، لباس، ہیئر سٹائل، منفرد دھیما، شائستہ انداز تکلم ہر اعتبار سے داد کے مستحق ہیں، رستم کاؤس جی کا خیال ہے کہ اللہ نے مرد کو آنکھ اور عورت کو زبان دے کر حساب برابر کر دیا ہے گویا بہت سے مسائل آنکھ اور زبان کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں، پیار کے بارے میں ان کا فلسفہ کہتا ہے کہ ’ہم جسے پیار سمجھتے ہیں وہ اصل میں ہارمونز کی لڑائی ہے۔مرد عورت ایک دوسرے کو شادی کے بعد ملکیت سمجھ لیتے ہیں۔ ایک دوسرے پہ حد سے زیادہ انحصار کرنے لگتے ہیں۔دونوں فریقین کے والدین مسلسل اس نئے گھر میں مداخلت کرتے رہتے ہیں۔ ان کو اپنا تجربہ کرنے کی آزادی نہیں دیتے بلکہ ان سے اپنے مطلب کے نتائج کی تمنا و اظہار کرتے ہیں جس کی وجہ سے نئی شادی شدہ زندگی منفی طور پہ متاثر ہونے لگتی ہے۔ایک ورکشاپ میں رستم کہتا ہے کہ ’دنیا میں طلاق کا رحجان اس لیے بڑھ رہا ہے کہ شاید انسان ایک ساتھ رہتے ہوئے اپنی خواہشات پہ ہی فوکس کرتا ہے۔ اپنی خواہشات کو اپنے ساتھی کی خواہشات پہ ترجیح دیتا ہے۔ اپنی خواہشات کو زیادہ ضروری سمجھتا ہے۔ اپنی غلطی کو غلطی اور اپنے پارٹنر کی غلطی کو گناہ سمجھتا ہے یوں محسوس ہوتا ہے کہ اصل نتیجہ یہ نکلے گا کہ شادی جذبات نہیں، ایک سائنس ہے، طب ہے، کیمسٹری ہے۔ ہم اسے آرٹ

پاکستان میں بڑھتی فضائی آلودگی کی وجوہات کیا ہیں؟

سمجھ کر چلانا و نبھانا چاہ رہے ہیں۔

Back to top button