اسرائیلی وزیراعظم کے خاندان کو پھرگولی سمیت قتل کی دھمکی کا خط موصول

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کے خاندان کو ایک بار پھر قتل کی دھمکی کا خط موصول ہوا ہے ، جس میں پہلے خط کی طرح گولی موجود تھی۔
عالمی خبر رساں ادارے نے اسرائیلی پولیس کے حوالے سے بتایا کہ وزیر اعظم کے اہل خانہ کو اس ہفتے دوسری بار خط میں موت کی دھمکی اور گولی موصول ہوئی۔ اس معاملے سے واقف ایک اسرائیلی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دھمکیوں کا ہدف وزیر اعظم کا 17 سالہ بیٹا ہے۔ تاہم دھمکیوں کے پیچھے کون ہوسکتا ہے، اس حوالے سے حکام ابھی تک لاعلم ہیں۔
خیال رہے کہ نفتالی بینیٹ اسرائیلی انتہا پسندوں کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں جو ان پر یہودیوں کے نظریے کو ترک کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔
یادر ہے کہ1995 میں وزیر اعظم یتزاک رابن کو بھی فلسطینیوں کے ساتھ امن قائم کرنے کی کوششوں کی پاداش میں ایک متعصب یہودی الٹرا نیشنلسٹ نے قتل کر دیا تھا۔
ایران چند ہفتوں کے دوران جوہری ہتھیار تیار کر سکتا ہے
واضح رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی شہروں میں متعدد مہلک فلسطینی حملوں، مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کے متشدد چھاپوں اور مقدس مقامات پر مسلمانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد فلسطینیوں کے ساتھ کشیدگی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
