عمران خان کی میڈیکل رپورٹ پر لطیف کھوسہ کا سپریم کورٹ کو خط

عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی کو خط لکھ کر عمران خان کی طبی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میڈیکل رپورٹ فراہم کرنے کا مطالبہ کردیا۔
مرکزی رہنما پی ٹی آئی لطیف کھوسہ نے چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کو خط لکھا جس میں عمران خان کی میڈیکل رپورٹس فراہم کرنےکا مطالبہ کیا گیا ہے۔خط کے مطابق عمران خان کے ذاتی معالجین ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم کو معائنے کی اجازت دی جائے، عمران خان کو الشفاء ہسپتال منتقل کرنےکا حکم بھی دیا جائے۔
لطیف کھوسہ کے مطابق عمران خان کی خراب ہوتی ہوئی صحت اہلخانہ اور عوام کےلیے تشویش کا باعث ہے اور بیماری کے دوران بھی عمران خان کو بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا،عدالتی حکم پر عمران خان کا طبی معائنہ ہوا لیکن اہلخانہ کو لا علم رکھا گیا۔
وکیل لطیف کھوسہ نے اس دعوے کو بےبنیاد قراردیا کہ عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قائدین کو بلایاگیا لیکن وہ نہیں آئے۔
عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی 6/6 اور دوسری چشمہ لگا کر تقریباً 70 فیصد ہے، اعظم نذیر تارڑ
خط کے مطابق عمران خان کے اہلخانہ اور پارٹی قیادت کو طبی معائنے کے وقت بلانے کا دعویٰ بالکل غلط ہے،اہلخانہ کو آگاہ کیے بغیر خفیہ طبی معائنے نےکئی خدشات کو جنم دیا ہے،طبی معاملے سے اہلخانہ کو باہر رکھنے سے پریشانی اور خدشات میں اضافہ ہورہا ہے۔
