بنگلہ دیش میں اقتدار اور انتقام کا ایک اور گھومتا چکر مکمل

 

 

 

بنگلہ دیش میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے نتیجے میں سابق وزیراعظم خالدہ ضیا کی جماعت کی جیت کے بعد یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش میں اقتدار اور انتقام کا گھومتا ہوا چکر ایک بار پھر مکمل ہو رہا ہے۔

 

معروف صحافی رؤف کلاسرا کے مطابق یہ محض ایک انتخابی تبدیلی نہیں بلکہ ایک ایسے سیاسی بیانیے کی واپسی ہے جسے ماضی میں ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوشش کی گئی تھی۔

رؤف کلاسرا کہتے ہیں کہ 2008ء کے بعد جب شیخ حسینہ واجد اقتدار میں آئیں تو 1971ء کی جنگ کے تناظر میں احتساب کا ایک سخت اور متنازع عمل شروع ہوا۔ بین الاقوامی جرائم ٹریبونلز قائم کیے گئے اور اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے متعدد رہنماؤں کو سزائیں سنائی گئیں۔ ان میں صلاح الدین قادر چوہدری بھی شامل تھے، جنہیں 2015ء میں سزائے موت دے دی گئی۔ اس فیصلے نے بنگلہ دیشی سیاست میں گہری خلیج پیدا کی۔

 

روف کلاسرا یاد کرتے ہیں کہ وہ 2008ء کے انتخابات کے بعد ڈھاکہ میں موجود تھے۔ ان کے مطابق اس وقت فضا جذباتی نعروں سے گونج رہی تھی، نوجوان نسل 1971ء کے بیانیے کے گرد منظم تھی اور پاکستان مخالف جذبات کھل کر سامنے آ رہے تھے۔ پاکستان کے خلاف سخت بیانات اور جنگی جرائم کے مقدمات کو انتخابی مہم کا مرکزی نکتہ بنایا گیا۔ اقتدار میں آنے کے بعد حکومت نے انہی وعدوں پر عمل کرتے ہوئے تیزی سے ٹریبونلز قائم کیے اور سزاؤں کا سلسلہ شروع ہوا۔

 

رؤف کلاسرا کے مطابق انہوں نے خود صلاح الدین قادر چوہدری سے ملاقات کی تھی، جنہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نئی حکومت انہیں زندہ نہیں چھوڑے گی کیونکہ انہیں پاکستان کا حامی سمجھا جاتا ہے۔ بعد ازاں ان کی گرفتاری اور پھانسی نے اس خدشے کو حقیقت میں بدل دیا۔ اس پورے عمل کے دوران بھارت کے کردار پر بھی بحث ہوتی رہی اور علاقائی سیاست کے تناظر میں مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی رہیں۔

 

کلاسرا اس صورتحال کو عالمی سیاسی تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ اقتدار کے عروج پر کیے گئے فیصلے اکثر وقتی طور پر مضبوط دکھائی دیتے ہیں، مگر وقت کا پہیہ گھومتا ہے تو منظر بدل جاتا ہے۔ وہ صدام حسین، حسنی مبارک اور معمر قذافی کی مثال دیتے ہیں کہ طاقت کا انجام کیسے بدل سکتا ہے، جبکہ نیلسن منڈیلا کو وہ مفاہمت کی سیاست کی علامت قرار دیتے ہیں جنہوں نے انتقام کے بجائے قومی ہم آہنگی کو ترجیح دی۔ ان کے مطابق آج اگر طارق رحمان کے اقتدار میں آنے کے امکانات مضبوط ہو رہے ہیں تو یہ محض سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک علامتی موڑ ہے۔ بنگلہ دیش کی سیاست میں وہی قوتیں دوبارہ ابھر رہی ہیں جنہیں کبھی حاشیے پر دھکیل دیا گیا تھا۔

بنگلہ دیشی وزیراعظم کی حلف برداری میں پاکستان کی نمائندگی احسن اقبال کریں گے

رؤف کلاسرا کے بقول یہ منظر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار عارضی ہوتا ہے، مگر اس کے نام پر کیے گئے فیصلوں کی بازگشت طویل عرصے تک سنائی دیتی رہتی ہے۔

Back to top button