ججز کی تعیناتیوں کے خلاف وکلا کا احتجاج جاری، پولیس سے جھڑپیں

نئے ججز کی تقرری کے خلاف وکلا کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج کیا جا رہا ہے، وکلا کی ریڈ زون میں داخلے کی کوشش کے دوران پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔
وکلا کے احتجاج کے پیش نظر سپریم کورٹ کے احاطےمیں بھی پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے اور سپریم کورٹ جانے کےلیے صرف مارگلہ روڈ کھلا رکھا گیا ہے۔
ریڈ زون کے داخلی راستےبند ہونے کےباعث کشمیر چوک میں شدید ٹریفک جام ہے،سرینا چوک،نادرا، میریٹ،ایکسپریس چوک اورٹی کراس بری امام بھی بند ہیں جب کہ جناح انڈر پاس بھی کنٹینرز رکھ کر بند کردیا گیا ہے۔
سرینا چوک پر وکلا اور پولیس اہلکاروں کےدرمیان جھڑپ بھی ہوئی جب کہ ریڈ زون میں داخلہ نہ ملنےپر وکلا نے سری نگر ہائی وے بلاک کردی۔
ادھر پولیس نے سپریم کورٹ میں داخلے کےلیے وکلا کےلیے مختص داخلی دروازہ بند کر دیا اور پولیس اہلکاروں کا وکلا سے گفتگو کرتےہوئے کہنا تھا کہ ہمیں آرڈر ہےکہ اندر نہیں جانے دینا،پولیس نے فاروق ایچ نائیک کو تالا کھول کر خصوصی طور پر اندر آنے کی اجازت دی۔
احتجاج کے پیش نظر راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس سروس کے آپریشن کو بھی محدود کردیا گیاہے،میٹرو بس سروس فیض احمد فیض اسٹیشن سے پاک سیکرٹریٹ تک بند ہے۔
سپریم کورٹ میں ججوں کی تعینانی پر اجلاس، وکلا کے احتجاج پر ریڈ زون میں سکیورٹی سخت
میٹرو انتظامیہ کاکہنا ہےکہ راولپنڈی صدر اسٹیشن سے فیض احمد فیض اسٹیشن تک بس سروس بحال ہے،اسلام آباد میں میٹرو بس سروس سکیورٹی وجوہات کےباعث بند کی گئی ہے۔
