ایران کی مزاحمت نے امریکی فوجی طاقت کا بت کیسے توڑا؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ایران نے عالمی طاقتوں کے شدید دباؤ اور مسلسل فوجی کارروائیوں کے باوجود جس ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے ثابت کیا ہے کہ اگر کوئی کمزور ملک بھی عوام کی سپورٹ سے طاقتور ریاست کے سامنے ڈٹ جائے تو کامیاب ٹھہرتا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے نہ صرف اپنی خودمختاری کا دفاع کیا بلکہ عالمی نظام میں موجود طاقت کے عدم توازن اور دوہرے معیار کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیاں دراصل اس وسیع تر سوچ کی عکاسی کرتی ہیں جس میں امریکہ جیسے طاقتور ممالک خود کو قانون، اخلاقیات اور انصاف سے بالاتر سمجھنے لگتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے مطابق اگر عالمی نظام میں انصاف کا فقدان ہو جائے تو طاقتور ممالک کمزور ریاستوں پر اپنی مرضی مسلط کرنے لگتے ہیں، جو عالمی امن کے لیے خطرناک رجحان ہے۔

 

انکا کہنا ہے کہ ایران کے پاس قدرتی وسائل، خصوصاً تیل اور گیس کے وسیع ذخائر، بھی اس کشیدگی کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ امریکہ کی توانائی کے عالمی ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنے کی خواہش نے ہی اسے ایران پر بار بار حملے کرنے پر مجبور کیا ہے تاہم وہ ابھی تک اپنا مقصد حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ جاوید چوہدری نے کہا کہ ایران نے تمام تر دباؤ کے باوجود ہتھیار ڈالنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا، جو عالمی سیاست میں ایک اہم مثال بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ دیگر خطوں میں بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، جہاں چھوٹے ممالک بڑی طاقتوں کے سامنے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کر سکتے ہیں۔

 

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دور میں عالمی اداروں کی اہمیت کم ہوئی اور یکطرفہ فیصلوں میں اضافہ ہوا، جس سے بین الاقوامی توازن متاثر ہوا۔ ان کے مطابق اس طرزِ عمل نے دنیا میں عدم استحکام کو فروغ دیا اور کئی تنازعات کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکہ کے تنازع میں اقوام متحدہ خاموش رہا اور پاکستان کو بین الاقوامی ثالث کا کردار ادا کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ خلیجی ریاستیں ایران کی بجائے امریکہ کو اپنا اتحادی بنائے بیٹھی ہیں حالانکہ موجودہ تنازع میں ثابت ہو چکا ہے کہ خلیجی ریاستوں میں قائم امریکی فوجی اڈے ان کا دفاع نہیں کر سکتے۔

 

جاوید چوہدری نے اپنے مؤقف کی وضاحت کے لیے ایک نفسیاتی مثال پیش کی جس کے ذریعے انہوں نے یہ واضح کیا کہ جب انسان یا ریاست خود کو کسی قانون یا احتساب کا پابند نہ سمجھے تو اس کے رویے میں شدت اور جارحیت بڑھ جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی رویہ عالمی طاقتوں میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو اپنی طاقت کے بل بوتے پر فیصلے مسلط کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمت نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی قوم عزم اور استقلال کے ساتھ کھڑی ہو جائے تو وہ بڑی سے بڑی طاقت کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اور عالمی قوانین اور اخلاقی اصولوں کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے پوری فوجی طاقت کے استعمال کے باوجود ایران اب تک ڈٹا ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہاں کے عوام اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاکستان میں دوبارہ امن مذاکرات ہونے کا کتنا امکان ہے ؟

جاوید چوہدری نے کہا کہ ایران کی اصل کامیابی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں بلکہ اس نے ایک فکری اور اخلاقی بحث کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر دنیا میں انصاف، قانون اور اخلاقیات کو نظر انداز کیا گیا تو اس کے نتائج نہ صرف کمزور ممالک بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button