پنکی لمبی اندر جائےگی یا رہائی پائے گی؟ کوکین کوئین کے گرد گھیرا تنگ

کراچی کی”کوکین کوئین” انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے جبکہ اس نیٹ ورک میں ملوث متعدد ڈرگ ڈیلرز کے ساتھ ساتھ کئی پولیس اہلکار بھی نشانے پر آ چکے ہیں۔ تمام تر شواہد اور گرفتاریاں سامنے آنے کے بعد اب سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا پنکی ڈان ماضی کی طرح اب بھی قانون کے شکنجے سے بچ نکلے گی یا عمر قید جیسی سخت سزا کا سامنا کرے گی؟ منشیات فروشی، قتل اور غیر قانونی اسلحہ سمیت 21 مقدمات میں نامزد ملزمہ اس وقت وومن جیل میں قیدی نمبر 318 کے طور پر عام قیدیوں کی زندگی گزار رہی ہے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات مضبوط اور شواہد ناقابل تردید ہوئے تو یہ کیس پاکستان کی تاریخ کے اہم ترین منشیات مقدمات میں شمار ہو سکتا ہے اور پنکی پوری زندگی کیلئے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جا سکتی ہے۔

خیال رہے کہ کراچی میں مبینہ منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار سمجھی جانے والی انمول عرف پنکی کی گرفتاری کے بعد مقدمات کی قانونی حیثیت، ممکنہ سزا اور تفتیشی عمل پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ پولیس کی جانب سے درج مقدمات اور حاصل کیے گئے شواہد کو دیکھتے ہوئے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تفتیش مؤثر انداز میں مکمل کی گئی تو ملزمہ کو عمر قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔

انمول عرف پنکی اس وقت وومن جیل میں عدالتی تحویل کے تحت قید ہے جہاں اسے قیدی نمبر 318 الاٹ کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ہائی پروفائل کیس ہونے کے باوجود اسے کوئی خصوصی سہولت فراہم نہیں کی گئی اور وہ دیگر خواتین قیدیوں کی طرح جیل قوانین کے مطابق زندگی گزار رہی ہے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق انمول عرف پنکی کے خلاف مجموعی طور پر 21 مقدمات درج ہیں۔ ان میں 19 مقدمات منشیات فروشی سے متعلق، ایک مقدمہ قتل اور ایک غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں قائم کیا گیا ہے۔ مختلف تھانوں میں درج یہ مقدمات 2020 سے لے کر اب تک کے عرصے پر محیط ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق گرفتاری کے بعد ملزمہ کو 9 روزہ جسمانی ریمانڈ پر رکھ کر پوچھ گچھ کی گئی، جس دوران مبینہ طور پر اہم شواہد حاصل کیے گئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ ملزمہ کی نشاندہی پر منشیات برآمد ہوئیں جبکہ اس سے 850 مبینہ گاہکوں کی فہرست بھی حاصل کی گئی۔ تفتیشی دعوؤں کے مطابق ملزمہ نے اپنے بیان میں منشیات کی تیاری اور مختلف شہروں میں سپلائی کے حوالے سے معلومات فراہم کیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے بڑے کیس میں الگ الگ تفتیش کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق جب ایک ہی ملزم کے خلاف مختلف تھانوں میں متعدد مقدمات درج ہوں تو تحقیقات کا مربوط ہونا ضروری ہوتا ہے تاکہ تمام شواہد ایک ہی قانونی فریم ورک میں اکٹھے کیے جا سکیں۔ماہرین کی رائے ہے کہ اگر جے آئی ٹی میں انسداد منشیات فورس (ANF)، پولیس، رینجرز اور دیگر تحقیقاتی اداروں کو شامل کیا جائے تو مقدمات کی مضبوط پیروی ممکن ہو سکتی ہے۔ بصورت دیگر مختلف تفتیشی افسران کی الگ الگ تحقیقات سے مقدمات کمزور پڑنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔منشیات کے مقدمات میں سزا کا انحصار بنیادی طور پر شواہد پر ہوتا ہے۔ عدالت میں برآمدگی، گواہوں کے بیانات، کیمیکل ایگزامینیشن رپورٹس، فرانزک شواہد اور ضبط شدہ مواد کی مکمل قانونی زنجیر (Chain of Evidence) انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اگر ان مراحل میں کوئی قانونی خامی رہ جائے تو ملزم کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

دوسری جانب انمول عرف پنکی کے خلاف قتل کا مقدمہ بھی خصوصی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ الزام ہے کہ اس کی فروخت کردہ منشیات کے استعمال سے ایک شہری جان کی بازی ہار گیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق اس مقدمے میں سزا دلانے کے لیے صرف الزام کافی نہیں ہوگا بلکہ استغاثہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ منشیات اور ہلاکت کے درمیان براہِ راست تعلق موجود تھا۔

کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ ملزمہ کے خلاف موجود مبینہ مجرمانہ ریکارڈ استغاثہ کے مؤقف کو تقویت دے سکتا ہے، جبکہ دیگر قانونی ماہرین کے مطابق ہر مقدمے کا فیصلہ اس کے اپنے شواہد کی بنیاد پر ہوگا اور صرف سابقہ مقدمات کسی نئے کیس میں خودکار سزا کا سبب نہیں بن سکتے۔قانونی حلقوں میں یہ بھی بحث جاری ہے کہ اگر تفتیش اور پراسیکیوشن مؤثر ثابت ہوئی تو منشیات کے مقدمات میں سخت سزاؤں کا امکان موجود ہے، لیکن اگر شواہد کمزور یا قانونی تقاضے نامکمل رہے تو مقدمات پیچیدہ رخ اختیار کر سکتے ہیں۔فی الحال انمول عرف پنکی کے خلاف تحقیقات جاری ہیں اور حتمی فیصلہ عدالتوں نے شواہد، گواہیوں اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی کرنا ہے۔

Back to top button