کیا ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور بھی پاکستان میں ہو گا؟

ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچنے کے باوجود یہ عمل ختم نہیں ہوا بلکہ اس کے اگلے مرحلے کے مذاکرات بھی پاکستان میں ہی ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق 22 اپریل کو متوقع جنگ بندی کی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے قبل ہی پاکستان نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور منعقد کروانے کی باضابطہ تجویز دے دی ہے، یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور جمعرات کو اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے۔
اگرچہ ایران اور امریکا کے مابین اسلام آباد میں ہونے والے ابتدائی مذاکرات کسی بریک تھرو پر منتج نہیں ہوئے، تاہم اس عمل نے دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست رابطے کی راہ ہموار کر دی ہے، جسے سفارتی سطح پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے پیچیدہ تنازعات میں مذاکرات کا تسلسل ہی اصل کامیابی سمجھا جاتا ہے، نہ کہ فوری نتائج۔ پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیر مقدم نے بھی مذاکراتی عمل کو ایک مسلسل سفارتی پیش رفت قرار دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ اسلام آباد مذاکرات کسی ایک واقعے کا نام نہیں بلکہ ایک جاری عمل ہے، جو باہمی اعتماد اور سنجیدہ کوششوں سے آگے بڑھ سکتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی قیادت، بالخصوص وزیر اعظم شہباز شریف اور فوجی قیادت کا کردار سراہتے ہوئے اس عمل کو مثبت قرار دیا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق مذاکرات کا اگلا مرحلہ دوبارہ پاکستان میں ہونے کا امکان اس لیے ذیادہ ہے کہ ایران کا اسلام آباد پر اعتماد ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں دیگر مقامات پر ہونے والے مذاکرات ایران کے لیے زیادہ محفوظ یا قابلِ اعتماد ثابت نہیں ہوئے، جس کے بعد پاکستان ایک قابلِ قبول اور نسبتاً محفوظ مقام کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق اگرچہ یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ مذاکرات کب اور کہاں ہوں گے، تاہم اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں کہ دونوں فریق بات چیت جاری رکھنے میں سنجیدہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو مذاکرات کے دوران فریقین واک آؤٹ کر جاتے، جبکہ اس کے برعکس دونوں جانب سے تحریری تجاویز کا تبادلہ بھی ہو چکا ہے۔ ویسے بھی ایران کے لیے عمان اور جنیوا جیسے مقامات پر مذاکرات کے تجربات حوصلہ افزا نہیں رہے، اس لیے پاکستان ایک مضبوط متبادل کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں نہ صرف سفارتی سہولت کاری ممکن ہے بلکہ اعتماد کی فضا بھی موجود ہے۔
ایران کی مزاحمت نے امریکی فوجی طاقت کا بت کیسے توڑا؟
اقوام متحدہ میں سابق پاکستانی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان اعتماد کا فقدان اس وقت سب سے بڑا چیلنج ہے، اور پاکستان اس خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نہ صرف ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے بلکہ وہ سیکیورٹی کے حوالے سے بھی ایک قابلِ اعتماد ماحول فراہم کر سکتا ہے، جو ایسے حساس مذاکرات کے لیے انتہائی اہم ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت مؤقف، بشمول بحری ناکہ بندی اور محدود فضائی کارروائیوں کے اعلانات، خطے میں کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ تاہم امریکی حکام نے یہ عندیہ بھی دیا ہے کہ اگر ایران مخصوص شرائط قبول کر لے تو واشنگٹن دوبارہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، جو اس عمل کے جاری رہنے کا ایک اور اشارہ ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق پاکستان کا اس تنازع میں ثالث کے طور پر سامنے آنا بظاہر غیر متوقع تھا، تاہم اس کی جغرافیائی اہمیت، ایران کے ساتھ قریبی تعلقات اور امریکا کے ساتھ سفارتی روابط اسے ایک منفرد پوزیشن دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نہ صرف اس عمل کو جاری رکھنے کا خواہشمند ہے بلکہ اس نے عملی طور پر دوسرا دور جلد منعقد کروانے کی پیشکش بھی کر دی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات کے پہلے راؤنڈ نے ایک ایسا فریم ورک طے کر دیا ہے جس کے تحت آئندہ پیش رفت ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور ڈیڈ لائن کے دباؤ کے پیش نظر مذاکرات کا اگلا دور بھی پاکستان میں ہی ہونے کا امکان سب سے زیادہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
