ماڈل ٹاؤن لاہور، ملکی سیاست کا نیا پاور سینٹر کیسے بنا؟

لاہور کا پوش اور تاریخی علاقہ ماڈل ٹاؤن اب صرف رہائشی کالونی نہیں رہا بلکہ پاکستان کی قومی سیاست کا ایک اہم ترین مرکز بن چکا ہے۔ حیران کن طور پر ملک کی چار بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی دفاتر چند سو میٹر کے فاصلے پر موجود ہیں، مگر ان کے نظریات، سیاسی بیانیے اور مقاصد ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی طاقتور سیاسی مشینری، پیپلز پارٹی کی تنظیمی بحالی، استحکام پاکستان پارٹی کی نئی سیاسی حکمت عملی اور عوامی تحریک کی انقلابی سیاست، سب کا مرکز آج ماڈل ٹاؤن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین اسے پاکستان کا "سیاسی پاور ہاؤس” قرار دے رہے ہیں۔
مبصرین کےئ مطابق پاکستان کی سیاست میں لاہور ہمیشہ سے ایک فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے، لیکن گزشتہ چند برسوں میں ماڈل ٹاؤن نے خصوصی اہمیت اختیار کر لی ہے۔ اس علاقے میں نہ صرف اہم سیاسی رہنماؤں کی رہائش گاہیں موجود ہیں بلکہ ملک کی متعدد بڑی سیاسی جماعتوں کے مرکزی سیکریٹریٹس بھی قائم ہیں۔
ماڈل ٹاؤن کے ایچ بلاک میں قائم پاکستان مسلم لیگ (ن) کا مرکزی سیکریٹریٹ کئی دہائیوں سے پارٹی کا اعصابی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ یہاں سے پارٹی کی انتخابی حکمت عملیاں، پارلیمانی فیصلے اور اہم سیاسی سرگرمیاں ترتیب دی جاتی ہیں۔نواز شریف اور شہباز شریف کی سیاسی تاریخ بھی ماڈل ٹاؤن سے جڑی ہوئی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی رہائش گاہ بھی اسی علاقے میں واقع ہے، جس کے باعث یہ علاقہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست کا مضبوط ترین گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔
سی بلاک ماڈل ٹاؤن میں قائم پاکستان پیپلز پارٹی کا صوبائی سیکریٹریٹ پنجاب میں پارٹی کی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا ہے۔آصف علی زرداری کے دور میں قائم ہونے والے اس سیکریٹریٹ سے بلاول بھٹو زرداری متعدد سیاسی سرگرمیوں کی قیادت کر چکے ہیں۔ پارٹی لاہور اور پنجاب میں اپنی سیاسی بنیادیں مضبوط بنانے کیلئے مسلسل تنظیمی سرگرمیوں میں مصروف ہے۔بلاول ہاؤس کی تعمیر بھی اسی علاقے کے قریب جاری ہے جو مستقبل میں پیپلز پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔
2023 میں قائم ہونے والی استحکام پاکستان پارٹی نے بھی ماڈل ٹاؤن کو اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔سی بلاک میں واقع پارٹی سیکریٹریٹ سے پنجاب بھر میں تنظیم سازی اور عوامی رابطہ مہمات چلائی جاتی ہیں۔ اگرچہ پارٹی کے بانی رہنماؤں میں شامل جہانگیر ترین اب فعال کردار سے پیچھے ہٹ چکے ہیں، لیکن ماڈل ٹاؤن میں موجود دفتر اب بھی پارٹی کی سیاسی شناخت کا اہم مرکز ہے۔
ایم بلاک میں واقع پاکستان عوامی تحریک کا سیکریٹریٹ ایک مختلف سیاسی تاریخ رکھتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں 17 جون 2014 کے سانحہ ماڈل ٹاؤن نے ملکی سیاست کا رخ بدل دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف انقلاب مارچ شروع ہوا جس نے کئی ماہ تک ملکی سیاست کو اپنی لپیٹ میں لیے رکھا۔آج بھی عوامی تحریک کی سیاسی شناخت کا مرکز یہی علاقہ ہے۔
ماڈل ٹاؤن سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر پاکستان تحریک انصاف کا مرکزی سیکریٹریٹ اور زمان پارک بھی واقع ہیں۔یوں تقریباً دس کلومیٹر کے دائرے میں پاکستان کی پانچ بڑی سیاسی قوتوں کے مراکز موجود ہیں، جو کسی بھی دوسرے شہر یا علاقے کیلئے ایک منفرد مثال سمجھی جاتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ماڈل ٹاؤن اب صرف ایک رہائشی کالونی نہیں بلکہ قومی سیاست کی نرسری بن چکا ہے۔یہاں سے حکومتی فیصلوں کی بازگشت بھی سنائی دیتی ہے، اپوزیشن کی حکمت عملی بھی تشکیل پاتی ہے اور مستقبل کی سیاسی صف بندیوں کے اشارے بھی ملتے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی حکومتی سیاست، پیپلز پارٹی کی تنظیمی حکمت عملی، استحکام پاکستان پارٹی کی نئی سیاسی سوچ اور عوامی تحریک کے انقلابی نعروں نے ماڈل ٹاؤن کو پاکستان کے سب سے اہم سیاسی مراکز میں شامل کر دیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج ماڈل ٹاؤن کو محض لاہور کا ایک پوش علاقہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست کا "پاور سینٹر” کہا جا رہا ہے، جہاں چند سو میٹر کے فاصلے پر مختلف نظریات رکھنے والی جماعتیں مستقبل کی سیاسی بساط بچھا رہی ہیں۔
