عمران خان کی فوری جیل سے رہائی ناممکن کیوں؟

بانی پی ٹی آئی عمران خان کو قید میں تقریباً تین سال مکمل ہونے والے ہیں اور ان کی رہائی سے متعلق قیاس آرائیاں ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہیں۔ ایک طرف ان کے وکلا عدالتوں میں ریلیف کے لیے سرگرم ہیں، جبکہ دوسری طرف مقدمات کی سماعتوں میں مسلسل تاخیر بھی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ اب نظریں اسلام آباد ہائیکورٹ پر لگی ہیں جہاں آنے والے چند ہفتے عمران خان کے سیاسی مستقبل کا رخ متعین کر سکتے ہیں۔تاہم اس وقت ملکی سیاست کا سب سے بڑا سوال ایک بار پھر زبان زدِ عام ہے: کیا واقعی عمران خان عید الاضحیٰ کے بعد اڈیالہ جیل سے باہر آنے والے ہیں؟ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ملک اس وقت درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، حکومت اور اسٹیبلشمنٹ بھی ایک پیج پر ہے ایسے میں حکومت یا مقتدر حلقے عمران خان کو کبھی بھی باہر لا کر سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کا رسک نہیں لینگے اس لئے نہیں لگتا کہ آنے والے چند مہینوں تک عمران خان جیل سے باہر آئینگے۔
مبصرین کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی ممکنہ رہائی ایک بار پھر ملکی سیاست کا مرکزی موضوع بن چکی ہے۔ عید الاضحیٰ کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہونے والی سماعتوں کو نہ صرف پی ٹی آئی بلکہ ملکی سیاسی حلقے بھی غیر معمولی اہمیت دے رہے ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر 5 اگست 2026 تک عمران خان جیل سے باہر نہیں آتے تو انہیں قید میں تین سال مکمل ہو جائیں گے، جو پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ کے طویل ترین اور متنازع سیاسی مقدمات میں شمار ہوگا۔
خیال رہے کہ اس وقت عمران خان بنیادی طور پر دو مقدمات میں سنائی گئی سزاؤں کے باعث جیل میں ہیں۔پہلا مقدمہ القادر ٹرسٹ کیس ہے جبکہ دوسرا توشہ خانہ ٹو کیس ہے جو سعودی عرب سے ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر ان دونوں مقدمات میں اسلام آباد ہائیکورٹ سزاؤں کو معطل کر دیتی ہے تو عمران خان کی فوری رہائی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس کو عمران خان کی قانونی مشکلات کا سب سے اہم مقدمہ سمجھا جاتا ہے۔20 مئی کو ہونے والی آخری سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے اپنی صحت کی خرابی کے باعث التوا کی درخواست دی، جس کے بعد سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی گئی۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے واضح کیا کہ اگلی سماعت پر دلائل ضرور دیے جائیں اور اگر مرکزی وکیل دستیاب نہ ہوں تو کوئی دوسرا وکیل عدالت میں پیش ہو۔یہ مقدمہ اب عید کے بعد دوبارہ سماعت کے لیے مقرر ہونے کا امکان ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اور عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر کے مطابق القادر ٹرسٹ کیس قانونی طور پر کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ان کا مؤقف ہے کہ پی ڈی ایم حکومت کے دور میں نیب قوانین میں کی گئی ترامیم کے بعد کابینہ کے فیصلوں کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، جبکہ القادر ٹرسٹ کیس میں اسی نوعیت کے معاملات زیر بحث ہیں۔پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اگر ہائیکورٹ اس قانونی نکتے کو تسلیم کر لیتی ہے تو عمران خان کو بڑا ریلیف مل سکتا ہے۔
عمران خان کے خلاف دوسرا اہم مقدمہ توشہ خانہ ٹو کیس ہے جس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔یہ کیس سعودی عرب سے ملنے والے بلغاری جیولری سیٹ سے متعلق ہے۔دونوں رہنماؤں نے سزا معطل کرنے کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر رکھا ہے، تاہم اب تک یہ اپیل باقاعدہ سماعت کیلئے مقرر نہیں ہو سکی۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اس کیس کی جلد سماعت ہوتی ہے تو عمران خان کی رہائی کے امکانات مزید بڑھ سکتے ہیں۔
عمران خان کے خلاف متعدد دیگر مقدمات بھی زیر سماعت رہے ہیں، تاہم کئی اہم مقدمات میں انہیں ریلیف مل چکا ہے۔تحفے میں ملی گھڑی کی فروخت سے متعلق مقدمے میں سزا معطل ہو چکی ہے جبکہ 9 مئی واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں سپریم کورٹ ضمانت دے چکی ہے۔اسی وجہ سے اس وقت عمران خان کی قید کا انحصار بنیادی طور پر القادر ٹرسٹ اور توشہ خانہ ٹو کیسز پر ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر اسلام آباد ہائیکورٹ دونوں مقدمات میں سزاؤں کو معطل کر دیتی ہے تو عمران خان کی رہائی فوری طور پر ممکن ہو سکتی ہے۔تاہم دوسری جانب یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ مقدمات میں بار بار التوا، وکلا کی عدم دستیابی اور عدالتی کارروائی میں تاخیر کے باعث کسی حتمی پیشگوئی سے گریز کیا جا رہا ہے۔بعض مبصرین یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی رہائی کو ترجیح دیتی ہے تو پھر سماعتوں میں التوا کی درخواستیں کیوں دی جا رہی ہیں؟ مبصرین کے بقول اگر عمران خان عید کے بعد رہا ہوتے ہیں تو یہ صرف ایک قانونی پیشرفت نہیں بلکہ پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔پی ٹی آئی کے کارکنان اسے سیاسی فتح قرار دیں گے جبکہ حکومت کیلئے بھی نئی سیاسی حکمت عملی مرتب کرنا ضروری ہو جائے گا۔ فی الحال تمام نظریں اسلام آباد ہائیکورٹ پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے فیصلے نہ صرف عمران خان بلکہ پاکستان کی آئندہ سیاسی سمت کا بھی تعین کر سکتے ہیں۔
