پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل اور کتنا مہنگا ہونے والا ہے ؟

مشرقِ وسطیٰ کی اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 94 ڈالر سے بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ اس غیر معمولی اضافے نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد آئندہ چند روز میں پٹرول کی قیمت میں10 سے 30روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کے بقول پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آنے والے دنوں میں عوام کے لیے ایک نئے مہنگائی کے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض سپلائی اور ڈیمانڈ کا مسئلہ نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست اور کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انرجی ایکسپرٹس کے بقول آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے، اس لیے یہاں معمولی خطرہ بھی عالمی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے آئل ٹینکرز کو لاحق خدشات کے باعث شپنگ اور انشورنس اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے درآمد کیے جانے والے تیل پر ہے، جو زیادہ تر اسی راستے سے پاکستان آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران امریکہ کشیدگی کے اثرات براہِ راست ملک کے توانائی سیکٹر پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں پیٹرول کی قیمت میں 10 سے 30 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے، تاہم اگر کشیدگی میں مزید شدت آتی ہے تو یہ اضافہ 40 روپے یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستانی روپے کی قدر میں کمی بھی درآمدی لاگت کو مزید بڑھا رہی ہے، جس سے عوام پر پڑنے والا بوجھ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت پیٹرول کی قیمت 366 روپے فی لیٹر ہے اور ڈیزل کی قیمت 385 روپے فی لیٹر ہے، وزیراعظم نے آخری مرتبہ 10 اپریل کو جب پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کیا تھا تو اس وقت خام تیل کی قیمت 94 ڈالر فی بیرل تھی جو کہ اب بڑھ کر 105 ڈالر ہو گئی ہے، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ یقینی ہے۔ دوسری جانب حکومتی ذرائع کا بھی ماننا ہے کہ مالی دباؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں مزید کمی کے چانسز کم ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ براہِ راست صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت توانائی کے متبادل ذرائع کی کمی، محدود سٹریٹجک آئل ذخائر اور زیادہ درآمدی انحصار جیسے مسائل کا شکار ہے، جو اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔
پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کا مستقبل تاریک کیوں ہونے لگا؟
معاشی ماہرین کے مطابق توانائی کا عالمی بحران وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔ اس لئے پاکستان کو فوری طور پر اپنی توانائی پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی۔مستقبل میں کسی بھی مشکل سے بچنے کیلئے متبادل توانائی ذرائع جیسے سولر اور ونڈ انرجی کو فروغ دینا ہو گا، جبکہ سٹریٹجک آئل ذخائر میں اضافہ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانے اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کو فروغ دینے سے بھی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر ان شعبوں میں سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہر عالمی بحران پاکستان میں مہنگائی کے نئے طوفان کو جنم دیتا رہے گا۔
