اختلافات چھوڑ کرتحریک پرفوکس کریں،عمران خان کا قیادت کو سخت پیغام

بانی تحریک انصاف عمران خان نےقیادت کے نام پیغام میں کہاہے کہ ذاتی اختلافات کو چھوڑ کر تحریک پر مکمل توجہ دیں۔
عمران خان نے پارٹی رہنماؤں کوکہا کہ لاہور اجلاس کے حوالے سے پیدا ہونے والے اختلافات کو جان بوجھ کر ہوا دی جا رہی ہے۔یہ بات ان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے، دیگر دو بہنوں کے ہمراہ، اڈیالہ جیل میں عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں بتائی۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے دو اہم پیغامات دیے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے، اور ان کے بنیادی انسانی حقوق سلب کیے جا رہے ہیں۔ "میری آواز ٹی وی اور اخبارات سے غائب کر دی گئی ہے، جیل کے سپرنٹنڈنٹ اور ایک کرنل صاحب انسانی حقوق پامال کر رہے ہیں، ان سب مظالم کا حساب ہونا چاہیے۔ یہ سب کچھ ایک شخص کے کہنے پر ہو رہا ہے۔”
عمران خان نے پارٹی کارکنان اور رہنماؤں پر زور دیا کہ "ذاتی اختلافات ختم کریں، تحریک کو کمزور کرنے والے عناصر کو نظر میں رکھیں۔ تین سو سے زائد پارلیمنٹیرینز کا لاہور اجلاس میں یکجا ہونا خوش آئند ہے۔ جو پارٹی میں جان بوجھ کر اختلاف پیدا کرے گا، اس کا میں خود نوٹس لوں گا۔ ہم جیلوں میں بیٹھے ہیں اور آپ لوگ باہر اختلافات پیدا کر رہے ہیں، یہ قابل قبول نہیں۔”
علیمہ خان نے کہا کہ ان کی فیملی گزشتہ دو سال سے جیل آ رہی ہے اور ہمیشہ پارٹی فیصلوں کے ساتھ کھڑی رہی ہے۔ "ہماری خواہش ہے کہ عمران خان کے پیغامات پر مکمل عمل ہو، اور ان کی رہائی کے لیے اب فیصلہ کن راستہ اختیار کیا جائے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کا مؤقف ہے کہ اب یہ پارلیمنٹیرینز کو فیصلہ کرنا ہے کہ انہیں سیاست میں رہنا ہے یا نہیں۔ "اگر بانی کے مقدمات سن لیے جائیں تو بات یہیں ختم ہو جائے گی، مذاکرات کس بات پر کرنے ہیں؟” انہوں نے مطالبہ کیا کہ جیل انتظامیہ، خصوصاً سپرنٹنڈنٹ، عمران خان کے ساتھ غیر انسانی سلوک بند کرے۔
