ملالہ یوسف زئی کے والد کا انصار عباسی کو منہ توڑ جواب

ملالہ یوسف زئی کے والد ضیاء الدین یوسف زئی نے روزنامہ جنگ سے وابستہ دقیا نوسی ذہنیت کے حامل انصار عباسی کو منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہر معاملہ ایک مرد اور مسلمان کے زاویے سے دیکھتے ہیں، جس روز وہ ایک آزاد انسان کی حیثیت سے سوچیں گے اور اپنی آنکھیں کھول کر دیکھیں گے تو انہیں نہ صرف دنیا بلکہ آخرت بھی زیادہ وسیع نظر آئے گی۔
انصار عباسی کی لکھی تحریر کا جواب ایک خط کی صورت میں دیتے ہوئے ضیاء یوسف زئی نے کہا ہے کہ آپ کا موقف جانبدارانہ اور گمراہ کن ہے۔
یاد رہے کہ انصار عباسی نے 15 جنوری 2026 کو شائع ہونے والے اپنے کالم ”کیا یہ پاکستان کا فخر ہے“ میں ملالہ یوسف زئی کے ایران میں حکومت مخالف مظاہروں سے متعلق بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ ایران میں ہونے والے احتجاج محض عوامی ردِعمل نہیں بلکہ بیرونی قوتوں کے ایجنڈے کا حصہ ہیں، اور یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ آیا ملالہ اس نوعیت کے بیانات دے کر اپنے عالمی تشخص اور نوبل انعام جیسے اعزازات کو محفوظ رکھنا چاہتی ہیں۔
ضیاءالدین یوسف زئی نے اپنے خط کے آغاز میں سوال اٹھایا کہ ملالہ یوسف کا ذکر آتے ہی انصار عباسی کی غیر جانبدار صحافت کو موت کیوں پڑ جاتی ہے۔ انکے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملالہ کے معاملے میں انصار عباسی کی بصارت اور بصیرت پر نفرت کے پردے پڑ جاتے ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ملالہ کی پہلی کتاب کی اشاعت کے وقت بھی ایک طباعتی غلطی کو بنیاد بنا کر ان کی بدترین کردار کشی کی گئی، انکے مطابق انصار عباسی کا یہ رویہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ملالہ پر تنقید اور ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔
ایران سے متعلق ملالہ کے بیان پر بات کرتے ہوئے ضیاءالدین یوسف زئی نے کہا کہ جس طرح ایران میں ہونے والے احتجاج کو صرف بیرونی سازش قرار دینا ایک سادہ اور ادھورا بیانیہ ہے، اسی طرح ملک بھر میں شہروں اور دیہاتوں سے لاکھوں افراد کے سڑکوں پر نکل آنے کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا بھی حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق ملالہ نے اپنے بیان میں بیرونی قوتوں اور جابرانہ نظام، دونوں کی مخالفت کی تھی، مگر انصار عباسی نے اس اہم نکتے کو محض تکلف قرار دے کر رد کر دیا، جو ان کے نزدیک واضح تعصب کی مثال ہے۔ خط میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ انصار عباسی کو ایران میں سرکاری سرپرستی میں جمع ہونے والے ہجوم تو نظر آتے ہیں، مگر باوثوق ذرائع کے مطابق ہزاروں مظاہرین کی اموات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر ان کے تجزیے میں شامل نہیں۔ ضیاءالدین یوسف زئی کے مطابق یہ طرزِ تجزیہ قاری کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
نوبل انعام سے متعلق انصار عباسی کے جملے پر ضیاءالدین یوسف زئی نے خاص طور پر سخت ردِعمل دیا، جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ملالہ کے نوبل انعام کے حصول میں ان کے والد نے اہم کردار ادا کیا۔ ضیاءالدین یوسف زئی نے کہا کہ اس الزام کی نہ کوئی وضاحت دی گئی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ اس کردار سے کیا مراد ہے۔ ان کے مطابق بطور باپ ان کا کردار صرف اتنا تھا کہ انہوں نے ملالہ کی صلاحیتوں، جرأت اور اعتماد پر یقین رکھا اور اس کی آزادی کو محدود نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نوبیل انعام کسی اور وجہ سے ملا کرتے تو صدر ٹرمپ تمام تر لابنگ کے باوجود اسے حاصل کرنے میں ناکام نہ رہتے۔
ضیاء الدین یوسف زئی نے اپنے معروف جملے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ جب لوگ پوچھتے ہیں کہ ملالہ اتنی باصلاحیت کیسے بنی تو ان کا جواب یہی ہوتا ہے کہ مجھ سے یہ نہ پوچھیں کہ میں نے کیا کیا، یہ پوچھیں کہ میں نے کیا نہیں کیا، میں نے صرف یہ کیا کہ اس کے پر نہیں کاٹے۔ ضیاءالدین یوسف زئی نے اس مؤقف کو بھی مسترد کیا کہ ملالہ نوبل انعام کے تحفظ کے لیے محتاط بیانات دیتی ہیں، اور واضح کیا کہ نوبل انعام واپس نہیں لیا جا سکتا۔ انہوں نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف مظالم کے باوجود آنگ سان سوچی سے نوبل انعام واپس نہ لیے جانے کی مثال بھی دی۔
افغان طالبان امیر کے ہاتھوں سراج حقانی اور ملا یعقوب سائیڈ لائن
اپنے خط کے آخری حصے میں ضیاءالدین یوسف زئی نے انصار عباسی کے سامنے چند سوالات رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ملالہ اور ان کی تنظیم نے فلسطین، شام اور دنیا کے دیگر بحران زدہ علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کے لیے عملی اور مؤثر کام کیا، مگر انصار عباسی نے کبھی اس جدوجہد کو سراہنے کے لیے ایک جملہ بھی نہیں لکھا۔ اسی طرح انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ بعض طاقتور مسلم حکمرانوں کی جانب سے اسلامی اقدار کے منافی اقدامات پر انصار عباسی کی خاموشی کیوں رہی، حالانکہ وہ اکثر دینی حمیت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔
خط کے اختتام پر ضیاءالدین یوسف زئی نے انصار عباسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ معاملات کو ہمیشہ ایک مرد اور مسلمان کے زاویے سے دیکھتے ہیں، جبکہ اگر وہ ایک دن کے لیے ایک آزاد انسان کی حیثیت سے سوچیں تو نہ صرف دنیا بلکہ آخرت بھی انہیں زیادہ وسیع نظر آئے گی۔
