گلگت بلتستان میں مارخور کے شکار سے 550 کروڑ روپے کی آمدن

حالیہ دنوں پاکستان میں ایک مار خور کے شکار کیلئے لائسنس کی 10کروڑ روپے میں ہونے والی مہنگی ترین نیلامی نے سوشل میڈیا پر دھوم مچا رکھی ہے۔عوامی سطح پر یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے پرمٹ کی بولی کیسے لگائی جاتی ہے؟ اس کا طریقہ کار کیا ہے؟ بولی کے پراسس میں شرکت کے تقاضے کیا ہیں اور مارخور اور آئی بیکس کے شکار کیلئے پرمٹ اتنا مہنگا کیوں فروخت کیا جاتا ہے؟
ماہرین کے مطابق مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور اس کی خوبصورتی، طاقت اور پہاڑی علاقوں میں بقا کی علامت کے باعث یہ دنیا بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب مارخور کی نسل تیزی سے ختم ہو رہی تھی، جس کے بعد حکومتِ پاکستان نے عالمی ماہرین کے تعاون سے ایک کمیونٹی بیسڈ ٹرافی ہنٹنگ پروگرام شروع کیا۔ اس پروگرام کے تحت اب صرف محدود تعداد میں غیر ملکی و مقامی شکاریوں کو بھاری فیس کے عوض شکار کا لائسنس دیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق مارخور یا آئی بیکس کے شکار کیلئے لائسنس جاری کرنے کا عمل باقاعدہ نیلامی کے ذریعے ہوتا ہے۔ نیلامی کا عمل محکمہ وائلڈ لائف یا متعلقہ صوبائی حکومت کی زیر نگرانی انجام پاتا ہے۔ اس عمل کے دوران ملکی و غیر ملکی شکاری مختلف بولیاں لگاتے ہیں اور سب سے زیادہ رقم دینے والے کو پرمٹ دے دیا جاتا ہے۔ عموماً اس پرمٹ کے ذریعے مخصوص شرائط کے ساتھ شکاریوں کو منتخب علاقے میں شکار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جبکہ شرائط کی خلاف ورزی پر متعلقہ شکاری کو بلیک لسٹ کرنے کے علاوہ بھاری جرمانہ بھی عائد کیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ جنگلی حیات خیبر پختونخوا ہر سال ستمبر کے آغاز میں مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے پرمٹ کے لیے بولی کا اعلان کرتا ہے، جس میں غیر ملکی، ملکی اور مقامی افراد کیلئے 3 مختلف کیٹیگریز رکھی جاتی ہیں۔ مقامی شکاریوں کو فی پرمٹ 15 ہزار روپے کے بینک ڈرافٹ جمع کرانے ہوتے ہیں۔ اس کے بعد ہی وہ بولی میں حصہ لے سکتے ہیں۔ غیر ملکیوں کے لیے ابتدائی قیمت 2 لاکھ ڈالر سے زائد ہوتی ہے۔پاکستانی شکاریوں کے لیے ابتدائی قیمت 900 ڈالر ہے۔مقامی شکاریوں کے لیے ابتدائی قیمت 525 ڈالر رکھی جاتی ہے۔ محکمہ وائلڈ لائف رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد تمام شکاریوں کو بولی کی ایک تاریخ دیتا ہے۔ مارخور یا آئی بیکس کے شکار کیلئے پرمٹ کی بولی عموما پشاور میں منعقد ہوتی ہے۔جس میں دنیا بھر کے شکاری حصہ لے سکتے ہیں، جبکہ بولی میں شرکت کرنے والے پاکستانی اور مقامی شکاریوں کو خصوصی رعایت دی جاتی ہے جبکہ بولی کے عمل کے دوران شکاری اپنی مرضی سے مزید بولی بڑھاتے ہیں۔ جس کے بعد سب سے زیادہ بولی دینے والے شخص کو پرمٹ جاری کر دیا جاتا ہے۔
رواں سال کے دوران گلگت بلتستان میں ٹرافی ہنٹنگ کے تحت جنگلی جانوروں کے شکار کے لیے ہونے والی لائسنس کی نیلامی میں پاکستان کے قومی جانور مارخور کی 10 کروڑ کی تاریخی بولی لگی۔ استور مارخور کے شکار کا سب سے مہنگا پرمٹ شکار سفاریز کے مالک نے 3 لاکھ 70 ہزار ڈالر کی بولی لگا کر نانگا پربت کنزروینسی ایریا کے لیے حاصل کیا، جسے اب تک مارخور کے شکار کے حوالے سے دنیا کا سب سے مہنگا پرمٹ قرار دیا جا رہا ہے، دوسرا پرمٹ 2 لاکھ 86 ہزار ڈالر میں فروخت ہوا، جبکہ باقی 2 پرمٹس 2 لاکھ 70 ہزار اور 2 لاکھ 40 ہزار ڈالر میں نیلام ہوئے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا کے شمالی اضلاع کے سنگلاخ پہاڑوں کی بلندیوں پر آزاد گھومنے والے قومی جانور مارخور اور آئی بیکس کے شکار کی مہنگی ترین بولی پشاور میں لگی، جو مجموعی طور پر 19 لاکھ 13 ہزار امریکی ڈالر سے زائد میں فروخت ہوئے۔رواں سال مارخور اور آئی بیکس کے شکار کے 39 پرمٹ خریدے گئے جن میں 4 مارخور جبکہ باقی آئی بیکس کے تھے۔ ان سے حکومت کو مجموعی طور پر 542 کروڑ 70 لاکھ روپے کی آمدنی ہوئی۔
مغربی دنیا کا پاکستان میں مقیم افغانوں کو پناہ دینے سے انکار
ماہرین کے مطابق سخت پہاڑوں کی چوٹیوں پر گھومنے والے پاکستان کے قومی جانور مارخور کو بین الاقوامی ٹرافی ہنٹنگ کا کنگ مانا جاتا ہے،لمبے سینگوں، لمبی داڑھی اور بے مثال پھرتی والے یہ جانور پہاڑوں کی چوٹیوں پر رہتے ہیں اور سردیوں میں خوراک کی تلاش میں نیچے آتے ہیں۔ ان کا شکار شکاریوں کے لیے بڑا چیلنج اور ایڈونچر سمجھا جاتا ہے۔ کئی ہزار فٹ بلندی پر آکسیجن کی کمی، طویل سفر اور کئی دن کا انتظار مارخور کے شکار کو مزیدمشکل بنا دیتا ہے۔ اسی ایڈونچر کی وجہ سے شکاری مارخور کے شکار کیلئے زیادہ سے زیادہ رقم دینے پر تیار ہو جاتے ہیں۔
