ابا جی کی خواہش پوری کرنے پر مریم نواز تنقید کی زد میں

مریم نواز کی جانب سے ابا جی کی خواہش پر پنجاب بھر میں سخت پابندیوں کے ساتھ بسنت منانے کی مشروط اجازت دینے کا اعلان عوامی و سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہے جہاں ایک طرف 25سال بعد بسنت منانے کے فیصلے کو صوبے میں ثقافتی روایات کا احیاء اور خوشیوں کا امین قرار دیا جا رہا ہے وہیں دوسری جانب بسنت کو ایک قاتل تہوار کا نام دیتے ہوئے اس پر دوبارہ مکمل پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔
خیال رہے کہ پنجاب میں 2021 میں پتنگ بازی پر لگائی گئی مکمل پابندی ختم کرتے ہوئے پتنگ بازی بارے نیا آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔جس کے تحت یکم دسمبر سے پنجاب میں پتنگ بازی کی اجازت دے دی گئی ہے۔پنجاب میں نئی قانون سازی کے تحت پتنگ بازی کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن ماضی میں ہونے والے جانی و مالی نقصان کو مد نظر رکھتے ہوئے سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔نیا آرڈیننس پتنگ بازی کو پہلی بار واضح قانونی دائرے میں لاتا ہے۔ اس کے تحت ڈپٹی کمشنر کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مخصوص ایام، مخصوص مقامات اور طے شدہ شرائط کے مطابق پتنگ بازی کی اجازت جاری کرے۔ یہ اجازت صرف ایسے میٹریل کے لیے ہو گی جسے حکومت نے ’پرمیسیبل‘ قرار دیا ہو، جبکہ دھاتی ڈور، کیمیکل ملی ڈور اور ’تندی‘ کا استعمال، فروخت یا ذخیرہ مکمل طور پر ممنوع رہے گا۔ آرڈیننس ان اشیا کی تیاری اور خرید و فروخت کو سنگین جرم قرار دیتا ہے اور اس کی خلاف ورزی پر قید اور بھاری جرمانے شامل کیے گئے ہیں۔
قانون کے مطابق ممنوعہ ڈور یا غیرقانونی پتنگ بازی پر کم از کم تین برس اور زیادہ سے زیادہ پانچ برس قید کی سزا دی جا سکتی ہے، جبکہ جرمانہ 20 لاکھ روپے تک ہو سکتا ہے۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مزید ایک برس قید کا اضافہ ہو گا۔ اگر بچے اس قانون کی خلاف ورزی کریں تو ان کے خلاف کارروائی جیوینائل جسٹس سسٹم ایکٹ کے تحت کی جائے گی، جہاں پہلی خلاف ورزی پر 50 ہزار روپے اور دوبارہ خلاف ورزی پر ایک لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔
خیال رہے کہ پتنگ بازی میں دھاتی ڈور کے استعمال اور حد سے بڑے سائز کی پتنگیں اڑائے جانے پر موٹر سائیکل سواروں کی گردنوں پر ڈور پھرنے کے واقعات کے بعد پرویز مشرف دور حکومت میں حکومت پنجاب نے 2021 میں کائیٹ فلائینگ آرڈیننس جاری کرتے ہوئے اس کھیل کو قابل جرم عمل قرار دے کر مکمل پابندی عائد کر دی تھی لیکن مریم نواز حکومت نے حال ہی قانون سازی کے بعد پتنگ بازی کی اجازت کا آرڈیننس جاری کر دیا ہے، اس اقدام کے بعد کم از کم 25 برس بعد پنجاب میں پتنگ بازی کی اجازت دی گئی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اس پیش رفت پر دلچسپ تبصروں اور آرا کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر کئی افراد #BasantReturns کے ہیش ٹیگ سے اپنے پیغامات پوسٹ کر رہے ہیں۔
مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما سعد رفیق نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’عوام کی خوشیاں لوٹانے، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور پنجاب کے کلچر کی پرموشن کے لیے رنگوں بھری بسنت کی واپسی پر پنجابیوں کی جانب سے محترمہ مریم نواز کی حکومت شاباش اور مبارکباد کی حقدار ہے۔‘
صحافی منیب فاروق کا کہنا ہے کہ 25 سال بعد بسنت واپس آئی ہے۔ ایکس پر جاری بیان میں انھوں نے کہا کہ ہماری زندگی میں خوشی اور روایت کو زندہ کرنے میں پنجاب حکومت کا شکریہ۔انھوں نے کہا کہ بسنت اب غیر محفوظ نہیں ہو گی۔
ایکس پر ایک صارف زارا بلال نے لاہور کی خوبصورت تصاویر شائع کیں اور ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ 25 سال کے بعد لاہور کا آسمان دوبارہ زندہ ہو گا۔
ایکس پر ایک صارف صفدر لغاری نے لکھا کہ 25سال بعد بسنت کے رنگوں بھرے تہوار کی مشروط واپسی! پنجاب ایک بار پھر ثقافتی خوبصورتی اور روایتی جشن سے جگمگا اٹھے گا
نوازشریف کے اصرارپرپنجاب میں بسنت منانے کا فیصلہ
ایکس صارف شعود احمد نے لکھا کہ ’25سال بعد بسنت کی واپسی، بسنت سے ايک بار پھر لاہور دوبارہ رنگوں اور خوشی سے بھر جائے گا۔ آسمان پتنگوں سے سج جائے گا اور شہر کی پرانی رونق لوٹ آئے گی۔ بسنت کی واپسی لاہور کی ثقافت کو نئی زندگی دے گی۔‘
حافظ امیر حمزہ نے اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’عوام متوجہ ہو ہیلمٹ کے ساتھ گلے پر ایک لوہے کا ماسک بھی پہنیں کیونکہ بسنت آرہی ہے۔‘
صارف سلیم رحمانی نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ سب کام ہوں گے اور بہت سے لوگ بھی بسنت کی بھینٹ چڑھیں گے۔‘
نادیہ پنجابی نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ پاکستان ہے، یہاں قانون پر مکمل عمل نہیں ہوتا، عوام بے شعور ہے، یہ کسی قانون کو بطور مہذب شہری فالو نہیں کرتے، ایسی قوم کو بسنت کی اجازت دینا موت کے مترادف ہے۔‘
اعوان نامی صارف نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ ’بہت ہی غلط ہے، اجازت نہیں دینی چاہیے، اس سے مافیا تو پیسے کما لیتا ہے مگر لوگوں کا نقصان بہت ہوتا ہے، کیا گارنٹی ہے 18 سال سے کم پتنگ بازی نہیں کریں گے، وہی تو سب سے زیادہ پتنگ بازی کرتے ہیں، ایسے تہوار پر سختی سے پابندی ہونی چاہیے۔‘
