نوازشریف کے اصرارپرپنجاب میں بسنت منانے کا فیصلہ

18 سال بعد لاہور سمیت پنجاب بھر میں ایک بار پھر خونی کھیل بسنت منانے کی راہ ہموار ہو گئی- مریم نواز کی پنجاب حکومت نے میاں نواز شریف کی خواہش پر بسنت منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب بھر کے ڈپٹی کمشنرز کو پتنگ بازی کی اجازت دینے کا اختیار دے دیا ہے جبکہ عوامی حلقوں کی سخت مخالفت کے باوجود پنجاب کائٹ فلائنگ آرڈیننس 2025 بھی جاری کردیا ہے۔ حکومتی ذارئع کے مطابق چالیس روز قبل دھاتی ڈور سے دو نوجوانوں کی اموات کے بعد بسنت کی بحالی کا منصوبہ معطل ہو گیا تھا، تاہم اب ایک بار پھر اس پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فروری 2026 میں لاہور میں بسنت منائی جائے گی۔
خیال رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر صوبے بھر میں بسنت منانے کی تیاریاں زور و شور سے جاری تھیں، تاہم لاہور میں ڈور پھرنے سے دو افراد کی اموات کے بعد صورتحال یکسر تبدیل ہو گئی تھی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ متاثرین کی گردن پر پتھر لگنے سے اموات واقع ہوئیں، تاہم واقعے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد بسنت کی اجازت دینے والی وزیراعلیٰ مریم نواز نے ہی نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا بلکہ بسنت کی تمام تیاریاں بھی عارضی طور پر روک دی تھیں۔ تاہم اب ڈور پھرنے سے21 سالہ نوجوان کی موت کے 40روز بعد پنجاب حکومت دوبارہ بسنت منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے پنجاب کائٹ فلائینگ آرڈیننس 2025 جاری کر دیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے بسنت کے حوالے سے جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق پنجاب میں پتنگ بازی ڈپٹی کمشنرز کی اجازت سے مشروط ہو گی جبکہ پتنگ سازی اور پتنگ فروخت کرنے کےلیے رجسٹریشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے اسی طرح پتنگ باز تنظیموں کو بھی رجسٹریشن کروانے کا پابند بنایا گیا ہے۔ آرڈیننس میں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کروانے کے بعد پتنگیں بنانے اور فروخت کرنے کا لائسنس جاری کیا جائے گا،حکام کے مطابق حکومت نے 2001 کا پتنگ بازی پابندی آرڈیننس مکمل طور پر منسوخ کردیا ہے تاہم سابق آرڈیننس کے تحت کیے گئے تمام اقدامات کو درست قرار دیا گیا ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کردہ آرڈیننس حکومت اور ڈپٹی کمشنرز کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ مخصوص مقامات، مخصوص دنوں، مقررہ وقت اور محفوظ مواد کے ساتھ محدود پیمانے پر پتنگ بازی کی اجازت دے سکیں، تاہم ناقدین کے مطابق جاری کردہ آرڈیننس میں غیر خطرناک مواد کی تشریح نہیں کی گئی ہے اس سے اس بات کا تعین کرنا مشکل ہے کہ کون سی ڈور یا کس سائز کی پنتگ خطرناک ہے اور کس طرح کی ڈور محفوظ ہے۔ پنجاب حکومت کے آرڈیننس میں پولیس کو بے پناہ اختیارات دئیے گئے ہیں جس کے مطابق سب انسپکٹر رینک کا پولیس افسر بغیر وارنٹ گرفتاری کر سکے گا اور اُسے کسی بھی مقام پر داخل ہو کر تلاشی لینے اور ممنوعہ سامان قبضے میں لینے کے وسیع اختیارات حاصل ہونگے جبکہ جاری کردہ آرڈیننس کے مطابق حکومت ضرورت پڑنے پر کسی بھی ادارے یا ایجنسی کو یہی اختیارات تفویض کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں بسنت کا تہوار پہلی بار 2007 میں اس وقت ممنوع قرار دیا گیا جب پتنگ کی ڈور سے سینکڑوں افراد، جن میں زیادہ تر بچے شامل تھے، جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ 2018 میں حمزہ شہباز شریف کے دور اقتدار پتنگ بازی پر سے پابندی مختصر طور پر اٹھائی گئی تھی، لیکن درجنوں اموات کے بعد فوری طور پر دوبارہ پابندی نافذ کر دی گئی تھی۔
یاد رہے کہ بسنت لاہور کا روایتی اور قدیمی تہوار ہے جو بہار کی آمد پر منایا جاتا تھا، لوگ چھتوں پر جمع ہوتے تھے، رنگ برنگی پتنگیں اڑاتے تھے، گانے بجائے جاتے تھے جبکہ چھتوں پر روایتی کھانوں کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا تاہم خطرناک ڈور کی وجہ سے ہونے والے حادثات نے اس خوشیوں کے تہوار کو ماتم میں تبدیل کر دیا تھا انھی حادثات کی وجہ سے 2007 کے بعد سے لاہور میں بسنت پر مکمل پابندی عائد ہے۔ 18 سال سے یہ تہوار نہیں منایا گیا۔ تاہم مسلم لیگ ن کے صدر نواز شریف چاہتے ہیں کہ پنجاب میں نہ سہی لاہور میں بسنت ضرور ہو، پارٹی قائد کی خواہش کی تکمیل کیلئے پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت کے تہوار کی محدود بحالی کا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ یہ تہوار فروری 2026 میں دو دن ہفتہ اور اتوار منائے جانے کا امکان ہے۔ پورے پنجاب کی طرح لاہور کے مخصوص علاقوں میں بسنت کا تہوار منایا جائے گا۔حکام کے مطابق لاہور کے مخصوص علاقوں میں سخت پابندیوں کے ساتھ پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی۔ جس کے تحت مخصوص مقامات جیسے کھلے میدانوں اور ہوٹلوں کی چھتوں پر سخت شرائط کے ساتھ جشن منانے کی اجازت دینے بارے تجاویز زیر غور ہیں۔ ذرائع کے مطابق رہائشی علاقوں میں پتنگ بازی پر پابندی برقرار رہے گی، جبکہ بسنت کے حوالے سے فروری 2026 میں ہونے والی محدود تقریبات کے تحت بسنت نائٹ 12 فروری اور بسنت ڈے 13 فروری کو ہو گا۔
نون لیگ 20 ماہ بعد بھی PPP سے پاور شیئرنگ پر تیار کیوں نہیں؟
ذرائع کے مطابق بسنت کی تقریبات اب صرف اندرونِ لاہور تک محدود نہیں رہیں گی، بسنت کے لیے جن مقامات کے نام تجویز کیے گئے ہیں ان میں والڈ سٹی، ریس کورس، ماڈل ٹاؤن اور جلو پارک شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی سی ہوٹل، آواری ہوٹل اور فلیٹیز ہوٹل کی چھتوں پر بھی پتنگ بازی کی اجازت دی جائے گی۔قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کو دو لاکھ سے 10 لاکھ روپے تک جرمانہ اور 6 ماہ تک قید کی سزا کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق لاہور سمیت پنجاب بھر میں بسنت منانے کا حتمی فیصلہ ہو چکا ہے اگر سب ٹھیک رہا تو فروری 2026 میں 18 سال بعد لاہور ایک بار پھر بوکاٹا کے نعروں سے ضرور گونجے گا۔
