مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو کہا تھا کہ آئینی عدالت کے معاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے  : سینیٹر کامران مرتضیٰ

جے یوآئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے حکومت کو کہا تھا کہ آئینی عدالت کےمعاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے لیکن آئینی عدالت سپریم کورٹ سے اوپر نہیں ہونی چاہیے۔

جے یوآئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ آئینی ترمییم کی ابتدائی دستاویز ہمیں ووٹنگ سےپہلے آدھی رات کو دی گئی تھی،تھوڑی دیربعد بلاول بھٹو ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سےکہا کہ آپ نےاس سےکیسے اتفاق کرلیا؟

پوچھنے پر بلاول نےجواب دیاکہ ہمارےبھی تحفطات تھے لیکن مجبوری ہے۔ جواب میں ہم نےکہا کہ ہماری توکوئی مجبوری نہیں ہے۔

کامران مرتضیٰ کاکہنا تھاکہ مشاورت کےبعد حکومت کو پیغام بھیجاکہ ترامیم کےبعد تو شاید ہم گھروں کو بھی نہیں جاسکیں گے۔
کامران مرتضی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہنا تھا کہ آئینی عدالت کےمعاملے پر آگے بڑھا جاسکتا ہے لیکن آئینی عدالت سپریم کورٹ سے اوپر نہیں ہونی چاہیے اور اگر عمروں کا فرق ڈال رہے ہیں تو اس کا مطلب ہوگاکہ حکومت اپنے پسندیدہ کو آئینی عدالت میں لگا دے گی۔

کامران مرتضیٰ نےکہا کہ کوئی اگر سمجھے کہ ہم اس کےساتھ سڑکوں پر ہوں گے تو یہ بھی درست نہیں ہے،کوئی اگر سمجھےکہ ہم حکومت میں ہوں گےتو یہ بھی درست نہیں ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہاکہ نواز شریف کی مولانا فضل الرحمٰن سےملاقات طے نہیں ہوئی تھی البتہ وزیر اعظم شہباز شریف سےایک اور ملاقات کا کہا جارہا تھا جس پر مولانا فضل الرحمٰن ناراض ہوئےاور کہاکہ مجھے اس مشکل میں نہ ڈالیں کہ پرائم منسٹر میرےگھر چل کر آئیں اور میں انکار کروں۔

مولانا فضل الرحمٰن کے بغیر آئینی ترامیم نہیں ہوسکیں گی : عرفان صدیقی

Back to top button