مولانا کا صدر زرداری اور شہباز سے کس معاملے پر میچ پڑنے والا ہے؟

صدرمملکت آصف علی زرداری کی جانب سے مدارس رجسٹریشن بل پر اعتراضات لگاکر وزیراعظم آفس کو واپس بھیجنے پرجے یو آئی، پیپلزپارٹی اور حکومت کے درمیان کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ جہاں ایک طرف سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان بل کی عدم منظوری کیخلاف اسلام آباد مارچ کا عندیہ دے چکے ہیں وہیں حکومت مولاناکو رام کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل نظر آتی ہے۔

خیال رہے کہ بلاول بھٹو نے بدھ کو وفد کے ہمراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات میں مدارس رجسٹریشن بل پر دستخط کروانے کی یقین دہانی کروائی تھی تاہم اس کے اگلے ہی روز صدر مملکت نے بل پر دستخط کرنے کی بجائے اعتراضات لگا کر بل واپس بھیج دیا۔ قانونی ماہرین کے مطابق صدر مملکت کے اعتراضات لگاکر بل واپس بھیجنے کے بعد اب یہ قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے ہی منظورہوسکتا ہے۔ تاہن ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ بل صوبائی معاملہ ہے اس لیے تمام صوبوں کو یہ بل پاس کروانا ہوگا۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ سے یہ بل پی پی پی اور مسلم لیگ(ن) نے جے یوآئی کے ساتھ مل کر پاس کروایا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی حالیہ سیاسی تاریخ میں پیپلز پارٹی اور جمیعت علمائے اسلام (ف) کو ایک دوسرے کا فطری اتحادی سمجھا جاتا ہے۔ لیکن مولانا فضل الرحمان ان دنوں پیپلز پارٹی سے خاصے کھچے کھچے نظر آ رہے ہیں، جس کا اظہار انہوں نے دورۂ سندھ میں اپنی گفتگو اور خطابات میں بار بار کیا۔اس ناراضگی کی بنیادی وجہ مولانا فضل الرحمان کے مطالبے پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیے گئے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1960 میں ترمیم کے بل پر صدر مملکت کی جانب سے دستخط نہ ہونا ہے۔

اس ترمیمی بل کے ذریعے پاکستان میں دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن کے حوالے سے قانون سازی کی گئی ہے۔ بظاہر تو پاکستان کے علماء اور سیاسی جماعتیں مدارس کی رجسٹریشن کے خلاف ہوتی ہیں، لیکن یہ بل مولانا فضل الرحمان کے مطالبے پر منظور کیا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جونہی مولانا فضل الرحمان نے اس بل پر صدر مملکت کی جانب سے دستخط نہ ہونے کے معاملے کو اٹھایا، اور اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو اگلے ہی دن بلاول بھٹو زرداری مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور انہیں منانے کی کوشش کی۔ اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری نے مولانا فضل الرحمان کو یقین دلایا کہ صدر مملکت مدارس رجسٹریشن سے متعلق بل پر دستخط کر دیں گے۔ تاہم صدرِمملکت نے بل پر دستخط کرنے کی بجائے اعتراضات لگا کر بل واپس بھیج دیا۔

تاہم یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بل میں مدارس کے حوالے سے کیا ہے؟ اور صدر مملکت کو اس پر کیا اعتراضات ہیں؟مبصرین کے مطابق سوسائٹیز ایکٹ 1960 میں ترمیم کا بل 20 اکتوبر کو سینیٹ اور قومی اسمبلی سے منظور ہوا تھا۔ اس بل کے ذریعے مدارس کی رجسٹریشن کا تقاضا پورا ہو گیا ہے، اور سوسائٹیز ایکٹ 1860 کی شق 21 میں سات بنیادی اور دو اضافی ضمنی شقیں شامل کر لی گئی تھیں۔

اب حکومت الگ سے مدارس رجسڑیشن ایکٹ نہیں لائے گی اور مدارس کو بآسانی رجسٹریشن اور اکاؤنٹ کُھلوانے کی سہولیات بھی میسر ہوگی۔ جس سے نہ صرف پہلے سے قائم مدارس کو بڑا قانونی تحفظ مل جائے گا بلکہ رجسٹریشن کے لیے چھ ماہ سے ایک سال کی مہلت بھی دی جائے گی۔

جبکہ پہلے سے موجود مدارس چھ ماہ جبکہ ایکٹ کے بعد بننے والی درس گاہ ایک سال میں رجسٹر ہوگی۔ اس بل سے ایک سے زائد شاخیں رکھنے والے مدارس کی بھی بڑی مشکل آسان ہوجائے گی کیونکہ بل کت تحت صرف مین کیمپس کی رجسٹریشن کے علاوہ کوئی مدرسہ رجسٹر کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور ہر مدرسہ تعلیمی سرگرمیوں کی سالانہ رپورٹ رجسٹرار کو پیش کرنے کا پابند ہوگا جبکہ مدرسہ سالانہ اکاؤنٹس کے آڈٹ اور رپورٹ کی نقل بھی رجسٹرار کے پاس جمع کرانے کا پابند ہوگا۔

مدارس بل بارے پیپلز پارٹی اور جے یو آئی ف میں تنازع کے سوال کے جواب میں مبصرین کا کہنا ہے کہ 20 اکتوبر کو جب سوسائٹیز ایکٹ 1960 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی اور سینٹ سے منظور ہوا، تو پیپلز پارٹی نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیے۔ اس طرح بظاہر دونوں جماعتیں اس معاملے پر ایک پیج پر تھیں۔

لیکن ڈیڑھ مہینہ گزر جانے کے باوجود صدر مملکت کی جانب سے اس بل پر دستخط نہ ہونے سے جمیعت علمائے اسلام (ف) کی قیادت میں تشویش دوڑی اور انہوں نے اس معاملے کو نہ صرف حکومت بلکہ پیپلز پارٹی کے ساتھ بھی اٹھانا شروع کیا اورواضح کیا کہ بل۔پر دستخط نہ کئے گئے تو پھر مولانا فضل الرحمان تنگ آمد بجنگ آمد فارمولے پر عمل کرنے میں حق بجانب ہونگے۔ جس کا راستہ روکنا نہ ڈائیلاگ اور نہ ہی لاٹھی سے ممکن ہو گا۔‘

دوسری جانب دھمکیوں کے باوجود صدر مملکت آصف علی زرداری نے منظوری کے بغیر اور قانونی اعتراض کے ساتھ مدارس رجسٹریشن بل کو وزیراعظم آفس واپس بھیج دیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ایوان صدر کی جانب سے بل پر اعتراض لگایا گیا ہے کہ مدارس صوبوں کی وزارت تعلیم کے ماتحت آتے ہیں، اور ان کی رجسٹریشن ایک صوبائی معاملہ ہے۔ اسلام آباد میں بھی مدارس کی رجسٹریشن کے دو قوانین پہلے سے موجود ہیں۔ اس لئے کسی نئے بل کی کوئی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی نئے مدارس رجسٹریشن بل میں کہیں نہیں لکھا کہ بل کا اطلاق اسلام آباد میں موجود قوانین کے اوپر ہوگا۔ ماہرین کے مطابق صدر مملکت کے اعتراضات کے بعد بل کو اب صرف پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرایا جا سکتا ہے۔ تاہم  دیکھنا یہ ہے کہ مدارس رجسٹریشن بل حکومت اور مولانا کے مابین کوئی بڑی وجہ تنازع بنتا ہے یا حکومت مولانا کو پھر رام کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

Back to top button