9 مئی کے کیسز: 8 اگست کی ڈیڈ لائن یوتھیوں کیلئے ڈراونا خواب

سپریم کورٹ کی جانب سے 9 مئی 2023 کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں ملوث پی ٹی آئی کارکنان اور رہنماؤں کے خلاف درج مقدمات کے فیصلے 8 اگست 2025 تک کرنے کی ڈیڈ لائن انصافیوں کے لیے ایک ڈراونا خواب بن گئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ 9 مئی کے کیسز کے فیصلے تیزی سے آنا شروع ہو چکے ہیں جنکے نتیجے میں نہ صرف پی ٹی آئی کے لیڈرز اور کارکنان کی گرفتاریاں شروع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ یہ لوگ اسمبلیوں سے بھی نا اہل ہو جائیں گے۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف نے 9 مئی کے کیسز کے فیصلے جلد از جلد کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ایک پٹیشن دائر کی تھی۔ سپریم کورٹ نے 8 اپریل 2025 کو ٹرائل کورٹس کو ہدایت کی تھی کہ وہ 9؍ مئی سے متعلق تمام مقدمات 4؍ ماہ کے اندر نمٹائیں۔ اس ڈیڈ لائن کہ ختم ہونے میں اب صرف 6 ہفتے باقی رہ ہیں، لہذا کیسز کے فیصلے آنا شروع ہو گئے ہیں جن کے نتیجے میں کئی مرکزی رہنماؤں کو 10، 10 برس قید کی سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ سزائوں کی صورت میں نہ صرف منتخب اراکین اسمبلی گرفتار ہو سکتے ہیں بلکہ وہ نااہل بھی قرار پائیں گے، جس سے پارٹی کی عددی طاقت مزید کمزور ہو جائے گی۔
سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جون میں دیے گے فیصلے کی روشنی میں مخصوص نشستوں سے محرومی نے پہلے ہی اسمبلیوں میں تحریک انصاف کی حیثیت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، لیکن 9؍ مئی کے مقدمات کے فیصلے اس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر پارٹی کے سرکردہ رہنما سزا یافتہ قرار پاتے ہیں تو پی ٹی آئی کو قومی و صوبائی اسمبلیوں، اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں بھی مزید نشستوں سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لہذا 9 مئی کے کیسز کا سامنا کرنے والے پارٹی ارکان میں اپنی ممکنہ نااہلی کا خدشہ ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے ذرائع کے مطابق، 9 مئی کے کیسز کا سامنا کرنے والے منتخب ارکان کو اندیشہ ہے کہ ٹرائل کورٹس منصفانہ فیصلے دینے سے قاصر ہوں گی، اور سزائوں کی صورت میں قومی اسمبلی، سینیٹ یا صوبائی اسمبلیوں سے نااہلیوں کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ ایسے میں تحریک انصاف کیلئے مشکلات میں کوئی کمی آتی دکھائی نہیں دے رہی، پی ٹی آئی کو جہاں آئینی مقدمات میں شکست کا سامنا ہے وہیں فوجداری کیسز میں بھی اس کی لیڈر شپ کے گرد گھیرا تنگ ہونا شروع ہو چکا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ تحریک انصاف کے مرکزی قائدین کو اتنی بڑی تعداد میں 9 مئی کے کیسز میں لمبی قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔
عمران کے بیٹے امریکہ سے پاکستان آنے کی بجائے واپس لندن چلے گئے
سب سے پہلے سرگودھا کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھجر اور حامد ناصر چٹھا کے بیٹے ایم این اے احمد چٹھا کو 10 برس قید کی سزائیں سنائیں۔ اسکے بعد لاہور کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے یاسمین راشد، محمود الرشید، اعجاز چودھری اور عمر سرفراز چیمہ سمیت آٹھ ملزموں کو دس دس سال قید کی سزائیں سنائیں جبکہ شاہ محمود قریشی سمیت چھ ملزموں کو بری کر دیا۔
اس سے پہلے دسمبر 2024 میں بھی فوجی عدالتوں نے 9 مئی کے کیسز میں 85 مجرمان کو سزائیں سنائی تھیں جس میں جناح ہاؤس حملے میں ملوث حسان نیازی کو 10 سال قید با مشقت سنائی گئی تھی، ملٹری کورٹس نے 21 دسمبر 2024 کو 25 مجرمان کو سزائیں سنائیں جبکہ 26 دسمبر 2024 کو 60 مجرمان کو سزائیں سنائی گئی تھیں۔ اسکے بعد 2 جنوری 2025 کو 9 مئہ کے 19 مجرمان کو رحم اور معافی کی درخواستیں دائر کرنے پر معاف کیا گیا تھا۔
