9 مئی مقدمات: شاہ محمود قریشی کسی غیرقانونی احتجاج میں شامل نہیں، تفصیلی فیصلہ جاری

9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی سزاؤں اور بریت سے متعلق عدالت نے تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ فیصلے کے مطابق شاہ محمود قریشی کسی بھی غیر قانونی احتجاج میں شریک نہیں تھے اور وہ 9 مئی کے روز کراچی میں موجود تھے۔
لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کے شیر پاؤ پل جلاؤ گھیراؤ کیس کا 42 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق تفتیش کے دوران تمام نامزد ملزمان ان واقعات میں ملوث پائے گئے، تاہم تفتیشی افسران پی ٹی آئی کے رہنما شاہ محمود قریشی سمیت چھ ملزمان کے خلاف قابل قبول شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔ عدالت نے ان تمام چھ ملزمان کو بری کرنے کا حکم دیا۔
تحریری فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی کسی بھی غیر قانونی احتجاج میں شریک نہیں تھے اور وہ 9 مئی کے روز کراچی میں موجود تھے۔
عدالت نے قرار دیا کہ پراسکیوشن نے پی ٹی آئی رہنما اعجاز چوہدری، ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید سمیت آٹھ ملزمان کے خلاف الزامات ثابت کردیے۔
فیصلے کے مطابق ان مجرموں کو مختلف دفعات کے تحت مجموعی طور پر 38،38 سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی ہے۔
مجرم افضال عظیم، علی حسن اور ریاض حسین پہلے ضمانت پر تھے،جنہیں عدالت کے حکم پر حراست میں لےکر جیل حکام کے حوالے کردیا گیا۔
عدالت نے ہر مجرم کو 3،3 لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی اور ہدایت دی کہ عدم ادائیگی کی صورت میں انہیں مزید قید کا سامنا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ منگل کی رات عدالت نے اسی مقدمے میں پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی کو بری کیا تھا جبکہ ڈاکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید اور دیگر کو 10،10 سال قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔
