عمران خان سے ملنے کافیصلہ مشاورت سے ہوگا،مولانافضل الرحمان

جے یوآئی کے امیر مولانافضل الرحمان کاکہنا ہے کہ عمران خان ملاقات کا پیغام ملا توسوچ سمجھ کرفیصلہ کیاجائے گا۔
پشاور میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے مولانافضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی سے وفاق میں ورکنگ ریلیشن ہے، صوبائی معاملات پر جے یوآئی کا اپنا مؤقف ہے، عام انتخابات میں لیول پلینگ فیلڈ نہ ملنے کا گلہ ہے۔
جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا تھا کہ انتخابات میں کچھ لوگ استعمال ہوئے، جے یوآئی نے استعمال ہونے سے انکار کیا۔26 ویں ترمیم میں شخصیت کی بجائے اداروں کی مضبوطی کو مقدم رکھا، خیبر پختونخوا میں حکومت کی کہیں رٹ نظر نہیں آرہی، مدارس کی رجسٹریشن پر طے شدہ معاملات کوخواہ مخوا چھیڑا گیا۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا ڈیرہ اسمٰعیل خان ،بنوں اور ٹانک دہشت گروں کے حوالے ہیں۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ جے یو آئی (ف) کے سینئر رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان مولانا فضل الرحمٰن سے ملنا چاہتے ہیں، یہ بات پی ٹی آئی کی دوسرے تیسرے درجے کی قیادت ذریعے بطور ’’گپ شپ‘‘ ہم تک پہنچی تھی۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا تھا کہ جب جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن تک یہ بات پہنچی کہ عمران خان ان سے ملنا چاہتے ہیں تو انہوں (مولانا فضل الرحمٰن ) نے اس پر کوئی خاص رد عمل نہیں دیا اور نہ ہی یہ معاملہ پارٹی کے سامنے رکھا۔
انہوں نے واضح کیا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کی اتنی خواہش ضرور تھی کہ پی ٹی آئی اور جے یوآئی کے درمیان رابطوں کے لیے فوکل پرسن ضرور ہونا چاہیے تاکہ اس حوالے سے کوئی کنفیوژن نہ پیش آئے کہ پی ٹی آئی کی طرف سے کس کی بات پر یقین کریں اور کس کی بات پر یقین نہ کریں۔
