اراکین پارلیمنٹ نے اپنے اثاثے چھپانے کا پورا بندوبست کر لیا

اراکینِ اسمبلی کی جانب سے اپنےکالے دھن اور اثاثہ جات کو عوام کی نظروں سے اوجھل رکھنے اور اثاثہ جاتی گوشواروں تک عوامی رسائی کو محدود کرنے کے لیے کی جانے والی قانون سازی شدید عوامی اور سیاسی تنقید کی زد میں ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام نہ صرف شفافیت کے اصولوں سے متصادم ہے بلکہ جمہوری احتساب کے بنیادی تقاضوں کو بھی کمزور کرتا ہے۔ ان کے مطابق جب عوام کے نمائندے ہی اپنے مالی معاملات پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کے حوالے سے عوام میں موجود بدعنوانی کے شکوک مزید گہرے ہو جاتے ہیں۔ ناقدین کے مطابق حکومت کی جانب سے پیش کی گئی مجوزہ قانون سازی نے شفافیت اور احتساب کے حوالے سے سنگین خدشات کو جنم دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگر اثاثہ جاتی معلومات تک عوام اور میڈیا کی رسائی محدود کر دی گئی تو یہ اقدام عملاً بدعنوانی کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے اور منتخب نمائندوں کو عوامی نگرانی سے بچانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی خبردار کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں پیش کی جانے والی مجوزہ ترامیم منتخب نمائندوں کے احتساب کے نظام کو کمزور کر سکتی ہیں ایسی تبدیلیاں نہ صرف پاکستان کے انسدادِ بدعنوانی سے متعلق عالمی وعدوں کو متاثر کریں گی بلکہ ملک کی شفافیت اور گورننس کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر بھی منفی تاثر پیدا کر سکتی ہیں۔ اس لئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے فوری طور پر حکومت سے الیکشن ایکٹ میں کی جانے والی مجوزہ تبدیلیوں کا بل واپس لینے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
تاہم بل کے حامیوں کا موقف ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد ارکانِ پارلیمنٹ اور ان کے اہلِ خانہ کی سکیورٹی اور نجی زندگی کا تحفظ ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات اثاثوں کی تفصیلات کی مکمل اشاعت سے سکیورٹی خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، اسی لیے شفافیت اور نجی زندگی کے تحفظ کے درمیان توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ دوسری جانب قانونی ماہرین کے مطابق اثاثوں کی تفصیلات کو عوامی دسترس سے نکالنے کا مطلب یہ ہو گا کہ عدالتی احتساب تو کسی حد تک باقی رہے گا مگر عوامی احتساب تقریباً ختم ہو جائے گا۔ ناقدین کے مطابق ’پاکستان میں مالیاتی گوشواروں نے دراصل پہلی بار سیاست دانوں کو یہ احساس دلایا کہ اب سیاست صرف جلسوں اور نعروں کا کھیل نہیں رہی بلکہ نمبرز، ٹیکس اور ذرائع آمدن بھی عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال گوشوارے جاری ہونے پر سب سے زیادہ بے چینی اقتدار کے حلقوں میں نظر آتی ہے۔‘
تاہم مبصرین اس دلیل سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اثاثوں کی تفصیلات کو عوامی دسترس سے نکالنے کا مطلب یہ ہوگا کہ عوامی احتساب تقریباً ختم ہو جائے گا۔ ان کے مطابق ماضی میں یہی معمول رہا ہے کہ الیکشن کمیشن ہر سال ارکانِ اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات جاری کرتا تھا، جس کے بعد میڈیا، صحافی اور سول سوسائٹی ان اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لے کر سوال اٹھاتے تھے کہ اگر کسی رکن کی دولت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے تو اس کا ذریعہ کیا ہے یا اگر کسی سیاست دان کے اثاثے کروڑوں میں ہیں تو اس نے ٹیکس کی مد میں اتنی کم رقم کیوں ادا کی۔ قانونی مبصرین کے مطابق اثاثوں کی تفصیلات کو عوامی دسترس سے نکالنے کا مطلب یہ ہو گا کہ عدالتی احتساب تو کسی حد تک باقی رہے گا مگر عوامی احتساب تقریباً ختم ہو جائے گا۔ ناقدین کے مطابق ’پاکستان میں مالیاتی گوشواروں نے دراصل پہلی بار سیاست دانوں کو یہ احساس دلایا کہ اب سیاست صرف جلسوں اور نعروں کا کھیل نہیں رہی بلکہ نمبرز، ٹیکس اور ذرائع آمدن بھی عوامی بحث کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال گوشوارے جاری ہونے پر سب سے زیادہ بے چینی اقتدار کے حلقوں میں نظر آتی ہے۔‘
اسرائیل،امریکہ اور ایران کی جنگ پاکستانیوں کو کیوں بھگتنا پڑگئی؟
ناقدین کے مطابق اثاثہ جات کی رپورٹس سیاست دانوں کے لیے محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور سیاسی مسئلہ بھی بن چکی ہیں۔ کئی مواقع پر عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات بارے خبریں براہِ راست ان کی نااہلی کا باعث نہ بھی بنیں مگر ووٹرز کے اعتماد کو ضرور متاثر کرتی رہی ہیں۔ یہی عوامی شرمندگی اور مسلسل سوالات وہ اصل دباؤ تھا جس نے مالیاتی گوشواروں کی پبلک دستیابی کو حکمران اشرافیہ کے لیے ایک مستقل دردِ سر بنا دیا۔‘ جس کے بعداب انھوں نے اپنے اثاثے عوام سے چھپانے کا بندوبست کر لیا ہے
ناقدین سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر کسی رکن کے اثاثے واقعی جائز، آمدن شفاف اور ٹیکس ادائیگیاں قانون کے مطابق ہیں تو انہیں عوام کے سامنے لانے سے خوف کیوں؟ ان کے مطابق شفافیت سے گریز دراصل اسی عدم توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے جسے عوامی بحث سے دور رکھا جا رہا ہے۔
