مشرق وسطیٰ کی کشیدگی: حکومت کا پارلیمانی لیڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

حکومت نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے سے مشرق وسطیٰ میں پیدا شدہ صورتحال کے پیشِ نظر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے پارلیمانی لیڈروں کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
وزیراعظم کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، پارلیمانی لیڈروں کو مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال پر بریفنگ کل ساڑھے 11 بجے دی جائے گی۔ بریفنگ کے لیے کوآرڈینیشن کی ذمہ داری رانا ثناءاللہ کو دی گئی ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی شروع کردہ جنگ اب پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب نے بحرین میں امریکی اڈے کو نشانہ بنایا، جس میں تقریباً 20 ڈرونز اور 3 میزائل داغے گئے۔ امریکی سینٹ کام نے پاسداران انقلاب کے کنٹرول اینڈ کمانڈر سنٹر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے اور ایرانی میزائل لانچنگ سائٹس سمیت دیگر اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایران پر جنگ مسلط کرنے کا اصل مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک پہنچانا ہے، خواجہ آصف
سعودی عرب میں بھی امریکی سفارتخانے پر ڈرون حملہ ہوا، جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بھی حملوں کا تبادلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فضائیہ نے بیروت پر شدید بمباری کی اور لبنان کے 59 قصبوں کو انخلا کی وارننگ جاری کی۔ حزب اللہ نے بھی اسرائیلی ایئربیس پر ڈرون حملے کیے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق، گزشتہ روز ایرانی پاسداران انقلاب کے 13 اہلکار کرمان صوبے میں امریکی اور اسرائیلی حملے میں جاں بحق ہوئے۔
