منی بجٹ سے مہنگائی کی کتنی تیز لہر آنے والی ہے؟

اگرچہ عمران حکومت یہ بھونڈا دعویٰ کر رہی ہے کہ ضمنی بجٹ کا عام آدمی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا تاہم معاشی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ روزمرہ استعمال کی کئی آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور نئے ٹیکس لگانے سے اٹھنے والی مہنگائی کی لہر میں عوام مکمل طور پر غرق ہو جائیں گے۔ یہ اور بات کہ کپتان حکومت کو اس غیر مقبول اور عوام دشمن فیصلے کی سیاسی قیمت بھی ضرور چکانا پڑے گا۔

یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرنے کے بعد وزیرِ خزانہ شوکت ترین نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ذریعے 343 ارب روپے کے ٹیکس چھوٹ واپس لی جا رہی ہے اور عام آدمی پر صرف دو ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ تاہم معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ شوکت ترین کا یہ بیان عوام کو ماموں بنانے کے مترادف ہے چونکہ جب 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لی جائے گی تو یہ پیسے بھی عوام کی جیب سے ہی ٹیکسوں کی صورت میں نکلوائے جائیں گے، یوں مجموعی طور پر عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ 345 ارب روپے بن جائے گا جس سے انکے کڑاکے نکل جائیں گے۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق منی بجٹ میں روزمرہ استعمال کی 42 اشیا پر ٹیکسوں کی چھوٹ ختم کیے جانے کی تجویز ہے جس میں مقامی سطح پر فروخت ہونے والی اشیا، بیکری آئٹمز، ڈبل روٹی اور مٹھائی شامل ہیں جب کہ ساشے میں فروخت ہونے والی اشیا پر ٹیکس 8 فیصد سے بڑھا کر 17 فی صد کرنے کی تجویز ہے۔ پراسس کیے ہوئے دودھ پر ٹیکس 10 سے 17 فی صد، پیکنگ میں دہی، پنیر، مکھن، دیسی گھی اور بالائی پر ٹیکس 10 سے بڑھا کر17 فی صد کرنے کی تجویز ہے۔ بچوں کے دودھ پر ٹیکس صفر سے بڑھا کر 17 فی صد عائد کرنے کی تجویز ہے۔ زرعی بیجوں، پودوں، آلات اور کیمیکل پر 5 سے 17 فی صد، ادویات کے خام مال پر 17 فی صد، درآمدی سبزیوں پر 10 فی صد اور پیکنگ میں فروخت ہونے والے مصالحوں پر 17 فی صد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے۔

مختلف اقسام کے پلانٹس اور مشینری پر پانچ سے 10 فی صد ٹیکس کی تجویز ہے جب کہ سونے چاندی کے زیورات پر ایک سے 17 فی صد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ 850 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ٹیکس میں بھی 17 فی صد اضافے جب کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن فیس بھی دگنی کرنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح درآمدی موبائل فون پر بھی ٹیکس میں اضافہ کیا گیا ہے اور 200 سے 500 ڈالر کی قیمت کے درآمد شدہ موبائل فونز پر 17 فی صد ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگایا جائے گا۔ اس کے علاوہ موبائل فون کمپنیوں کی سروسز پر ایڈوانس ٹیکس میں 10 سے 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔غیر ملکی ٹی وی سیریلز پر 10 لاکھ روپے فی قسط، ڈرامے پر 30 لاکھ روپے جب کہ اشتہارات میں غیر ملکی اداکاروں کو دکھانے پر پانچ لاکھ روپے فی سیکنڈ ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔

حکومت نواز شریف کو واپس لانے کا شور کیوں مچا رہی ہے؟

تاہم سرکار کے ماؤتھ پیس کاکردارادا کرنے والے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد یہ بھونڈا دعوی کر رہے ہیں کہ ضمنی بجٹ میں عام آدمی کے استعمال کی صعف چند اشیا پر ٹیکس لگایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کا مطالبہ تھا کہ تمام اشیا پر 17 فی صد جی ایس ٹی لگائیں اور اگر کسی کو سہولت دینی ہے تو سبسڈی کے ذریعے دی جائے۔ایف بی آر کے چیئرمین ڈاکٹر اشفاق احمد کہتے ہیں کہ ضمنی بجٹ میں عوام پر دو ارب روپے کا بوجھ ڈالا گیا ہے تاہم اس سے کھانے پینے کی مقامی اشیاء مہنگی نہیں ہوں گے۔ اسکے علاوہ انہوں نے غریب عوام پر احسان جتاتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ لنڈے کے کپڑوں اور جوتوں پر بھی کوئی ٹیکس نہیں لگایا گیا۔

دوسری جانب بھاڑے پر حاصل کئے گئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے یہ تسلیم کیا ہے کہ امریکی دباؤ کی وجہ سے اس مرتبہ آئی ایم ایف کا پاکستان کے ساتھ رویہ کافی سخت یے اور ہمیں کچھ ایسی شرائط بھی مجبوری میں ماننا پڑیں جن کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگتیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پٹرولیم ٹیکس بھی آئی ایم ایف کے کہنے پر لگایا ہے اور اب سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مکمل خودمختاری مل جانے کے بعد حکومت اسے صرف ایڈوائس دے سکے گی، کوئی ہدایت جاری نہیں کر پائے گی۔ یعنی انہوں نے اپوزیشن کا یہ الزام تسلیم کر لیا کہ پاکستان کے مرکزی بینک کا کنٹرول اب عالمی مالیاتی ادارے کے پاس چلا گیا ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ 17 فیصد جنرل سیلز ٹیکس لگانا ہمارے جیسی معیشت کے لیے مناسب فیصلہ نہیں تھا لیکن آئی ایم ایف کے دباؤ پر حکومت کو ایسا کرنا پڑا۔

لہٰذا معاشی ماہرین کے مطابق منی بجٹ آنے سے مہنگائی کی لہر میں اور بھی تیزی آ جائے گی جس سے مہنگائی کے مارے عوام کی مشکلات مزید بڑھیں گی۔ ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ جب کوئی ٹیکس لگایا جاتا ہے یا ٹیکس استثنیٰ کا خاتمہ ہوتا ہے تو پہدے عوام کی جیب سے ہی نکالے جاتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ صرف ریسٹورنٹ کی بریڈ سے لے کر بیکری کی اشیا تک تین ارب روپے تک کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے جو کہ براہِ راست عام آدمی کو متاثر کرے گی۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو ٹیکس چھوٹ ختم کیے بغیر ٹیکس لگانے کے لیے نئے ایریاز تلاش کر کے بھی پورا کر سکتی تھی۔ وہ کہتے ہیں کہ زرعی انکم، ریٹیلر اور ہول سیلر پر ٹیکس لگا کر بھی آئی ایم ایف کی شرائط پوری ہو سکتی تھیں اور با آسانی بجٹ خسارے میں کمی لائی جاسکتی تھی تاہم حکومت یہ اقدامات لینے کو تیار نہیں تھی جس کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آئی۔

Back to top button