پیسہ جیت گیا، باپ بیٹی کو کچلنے والی بااثر امیر زادی رہا

دولت کی طاقت نے کراچی کی بگڑی امیر زادی کو سزا سے بچا لیا۔کراچی میں کارساز روڈ پر ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور ان کی بیٹی آمنہ عارف کے ورثا کی جانب سے ملزمہ کو معاف کردینے کے بعد عدالت نے ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزمہ نتاشا اقبال کی ضمانت منظور کر لی۔
واضح رہے کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر 19 اگست 2024 کو ملزمہ نتاشا دانش نے ٹریفک حادثے میں موٹرسائیکل سوار عارف اور ان کی بیٹی آمنہ کو اپنی ایس یو وی کار سے کچل کر ماردیا تھا۔ملزمہ کے وکیل نے عدالت میں اپنی مؤکلہ کو نفسیاتی مریض ثابت کرنے کی کوشش کی تھی تاہم جناح اسپتال کے شعبہ نفسیات کے سربراہ نے ملزمہ کو نفسیاتی اور دماغی طور پر تندرست قرار دیا تھا۔بعد ازاں لیبارٹری رپورٹ کے مطابق ملزمہ نتاشا سے حاصل کیے گئے نمونوں میں آئس کی موجودگی ثابت ہوئی تھی۔لیبارٹری رپورٹ کی بنیاد پر ملزمہ کے خلاف منشیات کے استعمال کے قانون کے تحت ایک اور مقدمہ بھی درج کردیا گیا تھا۔ ملزمہ نتاشا کی امتناع منشیات ایکٹ کے مقدمہ میں بھی ضمانت کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے، درخواست ضمانت پر فیصلہ 9 ستمبر کو سنایا جائے گا۔
قانونی ماہرین کے مطابق لواحقین سے صلح کے بعد بھی نتاشا اقبال کو بغیر لائسنس نشے کے زیر اثر گاڑی چلانے کی دفعات کے تحت مجموعی طور پر 4 سے پانچ سال کی سزا ہوسکتی ہے۔
سویلین ہونے کے باوجود عمران خان کا کورٹ مارشل یقینی کیوں ہے ؟
دوسری جانب س مقدمے کے مدعی اور حادثے میں جں بحق ہونے والے عمران عارف کے بھائی امتیاز عارف نے تصدیق کی ہے کہ لواحقین نے ملزمہ نتاشہ کو ’فی سبیل اللہ معاف کیا ہے‘ اور ایسا بغیر کسی معاوضے کہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ’کچھ عرصہ قبل نتاشہ کی فیملی بھابھی کے پاس آئی تھی اور تعزیت کی تھی اور معذرت طلب کی تھی۔ میری بھابھی کا دل بڑا ہے انہوں نے انہیں معاف کر دیا۔‘
تاہم ذرائع کے مطابق کارساز حادثہ کیس کی مرکزی ملزمہ نتاشہ دانش اور جاں بحق ہونے والے دو افراد کے لواحقین کے درمیان باقاعدہ معاہدہ طے پایا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ نتاشہ کے اہل خانہ نے آمنہ کے اہل خانہ کو ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد دیت کے طور پر رقم ادا کردی، رقم کی ادائیگی پے آرڈر کے ذریعے کی گئی۔معاہدے کے مطابق آمنہ کے کسی رشتے دار کو کمپنی میں ملازمت بھی دی جائے گی۔ذرائع کے مطابق واقعہ میں زخمی ہونے والے افراد کے ساتھ بھی ملزمہ کی صلح ہوگئی ہے اور زخمیوں کو الگ سے رقم ادا کردی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ فریقین کے درمیان دیت کا معاہدہ شرعی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
جاں بحق افراد عمران عارف اور آمنہ عارف کے ورثا کی جانب سے عدالت میں پیش کیا گیا حلف نامہ اور نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ بھی سامنے آ گیا ہے۔ حادثے میں جاں بحق ہونے والے عمران عارف کی بیوہ رومانہ عمران، بیٹے اسامہ عارف اور بیٹی عمیمہ کی جانب سے جمع کروائے گئے حلف نامے کے مطابق ’ہمارے درمیان معاملات طے پا گئے ہیں، ہم نے ملزمہ کو اللہ کے نام پر معاف کیا ہے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے ، ملزمہ کو ضمانت دینے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے ، جو حادثہ ہوا تھا وہ جان بوجھ کر نہیں کیا گیا ہے اور ہم نے بغیر کسی دباؤ کہ یہ نو آبجیکشن سرٹیفیکٹ دیا ہے‘۔
فریقین کے درمیان معاملات طے ہونے کی خبر پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے بھی ردعمل دیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سلمان درانی نے لکھا کہ ساڑھے 5 کروڑ روپے سے زائد کی رقم دیت کے طور پر ادا کر دی گئی اور ورثا نے نتاشا کو معاف کر دیا۔
الطاف حسین لکھتے ہیں کہ افسوس کی بات ہے کہ پیسہ جیت گیا اور انصاف ہار گیا، نتاشا کی جانب سے باپ اور بیٹی کا قتل کرنے کے عوض متاثرہ فیملی کو ساڑھے 5 کروڑ روپے دے کر صلح نامہ کر لیا گیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ قومیں کبھی بھی ترقی نہیں کرتیں جہاں غریب کے لیے انصاف اور ہو اور امیر کے لیے اور ہے۔
صحافی سبوخ سید نے لکھا کہ نتاشا دانش کی مقتول خاندان کے ساتھ دیت کے تحت صلح ہو گئی ہے، انہوں نے نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ اسلام کا وہ حصہ جس میں امیروں کو فائدہ ہے کم از کم وہ تو اس ملک میں نافذ ہے، ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس کیس سے ریمنڈ ڈیوس یاد آ گیا۔
عامر بٹ لکھتے ہیں کہ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ سانحہ کارساز کی ملزمہ اور امیر زادی نتاشا دانش کی غریب باپ بیٹی آمنہ عارف کے خاندان کے ساتھ دیت کے تحت صلح ہو گئی ہے۔
جہاں کئی صارفین اس پر تنقید کرتے نظر آئے، وہیں اشفاق شاہ نامی صارف کا کہنا تھا کہ یہ بہتر ہوا ہے کیونکہ نتاشا کی عمر بھر قید یا سزائے موت سے اس فیملی کا کچھ بھی بھلا نہ ہوتا، البتہ دیت سے ان کے بہت سارے مسائل حل ہوجائیں گے۔
