12 برس میں پہلی بار سیکیورٹی فورسز سے زیادہ دہشت گرد مارے جانے لگے

گزشتہ 12 سالوں میں پہلی مرتبہ ریاست پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے دہشتگردوں کی ہلاکتوں کی تعداد سکیورٹی فورسز کے جوانوں کی تعداد سے بڑھ گئی ہے۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کی سال 2025 کی پہلی سہ ماہی رپورٹ کے مطابق جنوری 2025 سے مارچ 2025 کے دوران پاکستان کے سیکیورٹی منظر نامے میں کچھ امید افزا رجحانات دیکھے گئے، اور عسکریت پسندوں اور باغیوں کی ہلاکتیں 12 سالوں میں پہلی مرتبہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور سویلینز کی اموات سے زیادہ ہو گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت خیبر پختون خواہ اور بلوچستان دہشت گردی کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں مجموعی ہلاکتوں کا 98 فیصد ریکارڈ کیا گیا، اسکے علاوہ دہشت گرد حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور عسکریت پسندوں کی جانب سے خودکش اور فدائی حملے بڑھ گے ہیں۔ حال ہی میں جعفر ایکسپریس کی ہائی جیکنگ اور پھر شہریوں کا قتل عام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق اگر ملک میں دہشت گردی کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو 2025 کے آخر تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کا خدشہ ہے، اگر ایسا ہوا تو 2025 کا سال پاکستان کے لیے دہشت گردی کے حوالے سے مہلک ترین سالوں میں سے ایک بن جائے گا۔ سال 2025 کی پہلی سہ ماہی کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 897 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ 542 زخمی ہوئے، مارے جانے والوں میں عام شہری، سیکیورٹی اہلکار اور دہشت گرد شامل تھے۔ مجموعی طور پر 254 دہشت گرد حملوں اور انسداد دہشت گردی کے آپریشنز میں 1439 ہلاکتیں ہوئیں۔
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق سال 2024 کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 1028 ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں، یہ اعداد و شمار مجموعی تشدد میں تقریباً 15 فیصد کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ زیادہ تر ہلاکتیں اور تشدد کے واقعات صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ریکارڈ کیے گئے، دونوں صوبوں میں مجموعی طور پر 98 فیصد مجموعی ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ سال 2024 کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں مجموعی طور پر خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے واقعات میں 63 فیصد سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔
اس عرصے کے دوران ہونے والی مجموعی ہلاکتوں میں سے 35 فیصد اموات بلوچستان میں ہوئیں، تاہم 2024 کی آخری سہ ماہی کے مقابلے میں 2025 کی پہلی سہ ماہی میں بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں 15 فیصد کا خطرناک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان واقعات میں 495 دہشت گرد ہلاک ہوئے جبکہ 402 عام شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔
آرمی چیف کا پاکستان کو ہارڈ سٹیٹ بنانے کا خواب کیسے پورا ہو گا ؟
سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی سٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 12 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی ایک سہ ماہی کے دوران دہشت گردوں کی ہلاکتوں کی تعداد عام شہریوں اور سیکیورٹی فورسز کی مجموعی اموات سے زیادہ رہی ہے۔ اسکے علاوہ 2024 کی چوتھی سہ ماہی کے مقابلے میں 2025 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سویلینز اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو بالترتیب 50 فیصد اور 15 فیصد کم جانی نقصان اٹھانا پڑا، اس کے برعکس عسکریت پسندوں اور باغیوں کی ہلاکتوں میں 20 فیصد سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کا تعلق تحریک طالبان پاکستان، ٹی ٹی پی گل بہادر گروپ، داعش خراسان، بلوچستان لبریشن آرمی اور سندھودیش ریولوشنری آرمی سے تھا۔
