کیا عمران کے بیٹے پاکستان پہنچ کر احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے ؟

تحریک انصاف کے اینٹی مذاکرات اڈیالہ گروپ اور پرو مذاکرات کوٹ لکھپت گروپ کے مابین جاری جنگ میں تیزی آنے کے بعد عمران خان نے بالآخر اپنی ویٹو پاور استعمال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کی حکومت سے مذاکرات کی تجویز سختی سے رد کر دی ہے اور پانچ اگست سے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے۔ عمران خان نے اس تحریک کی قیادت اپنے بیٹوں قاسم اور سلمان کو سونپنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ ان اس کے بیٹے پاکستان آتے ہیں یا نہیں اور ان کا یہ آخری کارڈ کامیاب ہوتا ہے یا نہیں؟
یاد رہے تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور کوٹ لکھپت جیل میں قید چند دیگر پارٹی رہنماؤں نے عمران خان کے نام ایک خط میں تجویز دی تھی کہ بند گلی سے نکلنے کا واحد راستہ حکومت کے ساتھ مذاکرات ہیں۔ اس خط کے بعد سے تحریک انصاف کے اندر یہ بحث زور پکڑ گئی تھی کہ آیا حکومت سے مذاکرات ہونے چاہییں یا نہیں۔ عمران خان ابھی تک اس حوالے سے خاموش تھے کیونکہ ان کی خواہش تھی کہ اگر حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات ہونے ہیں تو پہلے ان کے ساتھ بات کی جائے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مذاکرات کی تجویز حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ تحریک انصاف کی طرف سے آئی تھی۔
بتایا جاتا ہے کہ شاہ محمود قریشی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے عمران خان کے نام مذاکرات کے لیے خط لکھنے کی وجہ یہ تھی کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کی روشنی میں 9 مئی کو فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں میں ملوث پارٹی ورکرز اور رہنماؤں کے خلاف دائر کیسز کے فیصلوں کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی یے۔ شاہ محمود قریشی اور ان کے ساتھیوں کو یہ خدشہ ہے کہ ان کیسز کے فیصلوں کے نتیجے میں وہ کئی برسوں کے لیے جیلوں کی چکیوں میں بند ہو جائیں گے لہذا ابھی موقع ہے کہ حکومت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے کوئی راستہ نکالا جائے۔
دوسری جانب حکومتی حلقوں کا یہ موقف ہے کہ انہوں نے مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا لیکن وہ عدالتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی پوزیشن میں نہیں کیونکہ یہ معاملہ فوجی تنصیبات پر حملوں کا ہے۔ یاد رہے کہ عمران خان پر بھی 9 مئی کے حملوں کے حوالے سے کئی کیسز درج ہیں لیکن اب حکومت قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ نظر نہیں آتی۔ دراصل اسے اب ایسا کوئی فوری چیلنج درپیش نہیں جس سے نمٹنے کے لیے وہ خان سے بات چیت کرے۔ ویسے بھی موجودہ ہائبرڈ نظام حکومت میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ ایک ہی صفحے پر نظر آتے ہیں۔
ایسے میں اب ہر طرف سے مایوس ہو جانے کے بعد عمران خان نے شاہ محمود قریشی اور ان کے ساتھیوں کی جانب سے مذاکرات کی تجویز کو سختی کے ساتھ رد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ’’مذاکرات کا وقت ختم ہو چکا ہے۔‘‘ 8؍ جولائی کو اڈیالہ جیل سے جاری سخت لہجے پر مبنی ایک پیغام میں عمران نے اپنی پارٹی قیادت کی مفاہمانہ کوششوں کو عملاً ویٹو کر دیا۔ انہوں نے ’’امپورٹڈ حکومت‘‘ کے خلاف ’’فیصلہ کن جدوجہد‘‘ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ 5؍ اگست سے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا جائے گا۔ دراصل 5 اگست ان کی گرفتاری کے دو برس مکمل ہونے کا دن ہے۔ خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اعلان کیا ہے کہ اس تحریک میں حصہ لینے کے لیے ان کے دونوں بیٹے سلمان اور قاسم بھی لندن سے پاکستان آ رہے ہیں۔
علیمہ خان کے مطابق عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ اب کسی سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، اب صرف سڑکوں پر احتجاج ہو گا تاکہ قوم زبردستی مسلط کردہ کٹھ پتلی حکمرانوں سے نجات حاصل کر سکے۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کی اس احتجاجی کال کے کامیاب ہونے کا امکان بھی کافی کم نظر آتا ہے، بنیادی وجہ یہ ہے کہ 26 نومبر کی احتجاجی کال کے دھڑن تختہ ہونے کے بعد سے عمران کے ووٹرز اور سپورٹرز سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار نظر نہیں آتے۔
مصنوعی ذہانت کا”گروک“نامی چیٹ بوٹ پاکستان میں نیا ٹاپ ٹرینڈ
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ عمران خان نے اپنے بیٹوں سلمان اور قاسم کو احتجاجی تحریک میں شامل کرنے کا فیصلہ کر کے آخری کارڈ کھیلا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ شاید ان کے بیٹوں کے سامنے آنے سے تحریک انصاف کی سٹریٹ پاور ایک مرتبہ پھر بحال ہو جائے۔ لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ عمران خان یہ فیصلہ کرتے ہوئے بھول گئے کہ ان کے دونوں بیٹے ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ حقیقت الٹا ان کے گلے پڑ سکتی ہے۔ یاد رہے کہ جمائمہ کے بطن سے پیدا ہونے والے قاسم اور سلمان کے نانا کا نام جیمز گولڈ سمتھ تھا جو کہ ایک معروف یہودی ارب پتی تھے۔
