MTJ نمبر پلیٹ والی لیکسز کار کیا مولانا طارق جمیل کی ہے؟

کیا سوشل میڈیا پر وائرل MTJ نمبر پلیٹ والی نئی نویلی لینڈ کروزر تبلیغی جماعت کے روح رواں مولانا طارق جمیل کی یے یا نہیں؟ اس حوالے سے کنفیوژن میں تب مذید اضافہ ہو گیا جب اس لینڈ کروزر کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد عوامی تنقید کے باعث طارق جمیل نے پہلے ایک ٹویٹ میں کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی سے اظہار لاتعلقی کیا لیکن پھر کچھ ہی دیر بعد یہ ٹوئٹ بغیر کوئی وجہ بتائے ڈیلیٹ کردی۔

مولانا طارق جمیل کا شمار ان پاکستانی شخصیات میں ہوتا ہے جن کے حامی اور مخالفین کثیر تعداد میں موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ وہ اکثر خبروں کی زینت بنے رہتے ہیں۔ حال ہی میں جب انہوں نے اپنے ملبوسات کے برانڈ کی لانچنگ کا اعلان کیا تو ان کے برانڈ نام MTJ، یعنی مولانا طاق جمیل، کے نمبر پلیٹ والی ایک پر تعیش لینڈ کروزر کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ایک عالم دین ہونے کے باوجود کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی لینے پر عوام نے سوشل میڈیا پر مولانا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ کئی صارفین نے یہ نکتہ اٹھایا کہ مولانا نے اپنے کپڑوں کا فیشن برینڈ لانچ کرتے وقت یہ موقف اختیار کیا تھا کہ اب ان کے پاس تبلیغی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے سرمایہ ختم ہوتا جا رہا ہے اور ان کے مدرسوں کو چلانے کے لیے بھی فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے اسلیے وہ کپڑوں کا کاروبار شروع کر رہے ہیں۔ لہذا صارفین کا یہ سوال تھا کہ اگر مولانا طارق جمیل کے معاشی حالات اتنے ہی برے تھے تو پھر انہوں نے کروڑوں روپے مالیت کی نئی لینڈ کروزر کی سے خرید لی۔

سوشل میڈیا پر مولانا کی سفید گاڑی کی تصاویر وائرل ہونے پر مولانا محسن نامی صارف نے ٹوئٹ کی کہ ‘میں تو کہتا ہوں اللہ مجھ سمیت تمام علمائے دین کو مولانا طارق جمیل جیسی گاڑی دے آمین’۔ اسد اللہ یوسفزئی نے ٹوئٹ کی کہ ‘اگر یہ گاڑی واقعی مولانا طارق جمیل کی ہے تو بہت خوشی کی بات ہے، میں تو کہتا ہوں کہ ہر امام کے پاس بہترین گاڑی ہونی چاہیے جس میں وہ بیٹھ کر مسجد آئے اور خوش و خرم زندگی گزارے آمین’۔

تاہم دوسری جانب ایسی ٹویٹس کے بعد مولانا طارق جمیل نے خود سے منسوب گاڑی کی تصویر پر ردعمل دینے کا فیصلہ کیا۔ مولانا کے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ‘سوشل میڈیا پر ایک گاڑی کی تصویر مجھ سے منسوب کرکے پھیلائی جا رہی ہے جب کہ درحقیقت اس سے میرا کوئی تعلق نہیں اور یہ بالکل بے بنیاد بات ہے’۔ ٹوئٹ میں انہوں نے مذید کہا کہ ﷲ تعالیٰ ہم سب کی حق اور سچ کی طرف رہنمائی فرمائے اور ہمیں جھوٹ پھیلانے سے باز رکھے! آمین۔ تاہم کچھ ہر دیر بعد مولانا طارق جمیل کے دل میں نجانے کیا بات آئی کہ انہوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ سے مذکورہ ٹوئٹ ڈیلیٹ کردی جسکی کوئی وجہ تاحال سامنے نہیں آئی۔

اس سے قبل فروری 2021 میں مولانا طارق جمیل نے اعلان کیا تھا کہ انہوں نے کپڑے کا کاروبار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وہ اپنے نام سے برانڈ قائم کر رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس میں یہ بتایا گیا تھا کہ اس برانڈ کے زیر اہتمام مولانا شلوار قمیض اور کُرتے فروخت کریں گے۔ تاہم سوشل میڈیا پر اس حوالے سے سوالات اٹھائے جارہے تھے کہ مولانا طارق جمیل کو اب کاروبار کرنے کا خیال کیوں آ گیا۔ اس پر مولانا نے وضاحت دی تھی کہ اس برانڈ سے انکا مال بنانے کا کوئی ارادہ نہیں بلکہ اسکی آمدن وہ اپنے دینی مدرسے چلانے والی فاؤنڈیشن کو دیں گے۔

کپڑوں کا فیشن برانڈ شروع کرنے کے بعد سوشل میڈیا پر مولانا سے یہ سوال پوچھا جانے لگا تھا کہ کیا وہ اس کاروبار کے ساتھ دین کی تبلیغ کا کام بھی جاری رکھیں گے یا نہیں۔ طارق جمیل نے ایک ویڈیو پیغام میں اسکا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مذہبی سرگرمیوں، خاص کر مدرسے چلانے کے لیے کاروبار کرنے کا بہت عرصے سے سوچ رہے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ’برصغیر میں علما کا کاروبار کرنا یا تجارت کرنا عیب سمجھا جاتا ہے۔ یہ بات پتا نہیں یہاں کہاں سے آ گئی ہے۔‘

لیکن اب سوشل میڈیا صارفین یہ سوال کر رہے ہیں کہ کیا مولانا طارق جمیل کا کپڑے کا بزنس دو ماہ میں ہی میں اتنا پیسہ بنانا شروع ہو گیا ہے کہ ایک نئی لینڈکروزر خرید لی جائے۔ یاد رہے کہ طارق جمیل کے نام سے منسوب کپڑے کی کمپنی ’ایم ٹی جے‘ کراچی میں رجسٹرڈ ہے۔ لیکن طارق جمیل کہتے ہیں کہ ’میں یہ کاروبار اس لیے نہیں کر رہا کہ پیسے بناؤں۔ میں نے ساری زندگی پیسے نہیں بنائے۔ ہمارا کوئی کاروباری ذہن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کپڑوں کے فیشن برانڈ سے میرا مال بنانے کا ارادہ نہیں ہے۔ اس کی کمائی میں فاؤنڈیشن پر لگانا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اس کمائی سے ایک اچھا ہسپتال اور سکول بنائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں مولوی کا تصور یہ ہے کہ وہ لوگوں سے مانگتا ہے۔ ہم نے کسی کاروباری نیت سے یہ کام نہیں کیا، کسی کے مقابلے میں نہیں کیا۔‘ ’کم از کم میرے مدارس اس سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں اور میرے دنیا سے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ چلتا رہے۔‘ تاہم سوشل میڈیا صارفین کا اصرار ہے کہ مولانا طارق جمیل اپنی گاڑی کی تصویر کے حوالے سے وضاحت کریں کہ کیا وہ ان کی ملکیت ہے یا نہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button