لاہور کے 3 اسپتالوں میں کورونا ویکسین ‘اسکینڈل‘ سامنے آگیا

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے تین سرکاری اسپتالوں میں کووڈ 19 ویکسین کا نیا ‘اسکینڈل‘ سامنے آگیا جہاں اسپتال انتظامیہ نے مبینہ طور پر غیر مجاز افراد کو ویکسین دی یا اس کی بہت سی خوراکیں ضائع کردیں جس کی وجہ سے صوبائی حکومت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اب تک اس طرح کی شکایات سروسز، جناح اور مزنگ اسپتالوں سے سامنے آئی ہیں۔ اب تک کی ابتدائی معلومات کے مطابق چین کی طرف سے عطیہ کی جانے والی ویکسین کی تقریباً ایک ہزار 400 خوراکیں یا تو ‘غیر مجاز افراد’ کو دی گئیں ہیں یا وہ ‘لاپتا’ ہیں۔ یہ ویکسین وفاقی حکومت نے صرف شعبہ صحت سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کو لگانے کےلیے اسپتالوں کو فراہم کی تھیں۔ محکمہ صحت کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا شکایات کے بعد حکومت پنجاب نے حقائق تلاش کرنے کےلیے تحقیقات کا آغاز کیا۔ نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے کہا کہ سروسز اسپتال لاہور کو معروف شخصیات کو ویکسین دینے کے الزامات کا سامنا ہے جن میں وزرا کے والدین اور حکمران طبقے کے دیگر افراد شامل ہیں۔ یہ ویکسین سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (سروسز اسپتال) ڈاکٹر سلیم چیمہ کے دور میں دی گئی تھی جنہوں نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر یہ ویکسین صرف شعبہ صحت سے وابستہ پیشہ ور افراد کو دی جارہی تھی پھر بعد ازاں 60 سال سے زائد اور حال ہی میں 50 سال سے زائد افراد کو یہ ویکسین دینے کی پالیسی مرتب کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد سروسز اسپتال میں ایم ایس کی حیثیت سے اپنے دور میں (جو 19 مارچ کو ختم ہوا تھا) بزرگ افراد کو پن کوڈ کے ساتھ صحت کی سہولت کا دورہ کرنے پر ٹیکے لگائے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویکسین کی تمام شیشیاں دستیاب ہیں، استعمال شدہ / خالی شیشیوں کا اسٹاک اور ریکارڈ بھی برقرار ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کورونا ویکسین بد انتظامی کا معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب این سی او سی کا نظام بیٹھ گیا اور ویکسینیشن کا ریکارڈ سسٹم میں شامل نہیں کیا جاسکا۔ سابق ایم ایس نے بتایا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ اب تک یہ نظام صحیح کام نہیں کر رہا ہے اور اسپتالوں اور ویکسینیشن مراکز کو ڈیٹا کے اندراج میں مسئلہ درپیش ہے۔ دریں اثنا سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پنجاب حکومت کے تشکیل کردہ انکوائری پینل نے سروسز اسپتال کا ریکارڈ محفوظ کیا اور انتظامیہ کے چند عہدیداروں اور دیگر متعلقہ افراد پر دباؤ ڈالا۔ اسی طرح انہوں نے کہا کہ جناح اسپتال اور گورنمنٹ ٹیچنگ اسپتال مزنگ کو بھی غیر مجاز لوگوں کو قطرے پلانے اور شیشیوں کے ضیاع کا مسئلہ درپیش ہے۔ دریں اثنا کورونا ویکسین ختم ہونے پر میو اسپتال کو ایک سنگین مسئلے کا سامنا کرنا پڑا اور صحت کے پیشہ ور افراد کو گزشتہ تین روز سے ویکسین نہیں مل سکی ہے۔ میو اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر افتخار احمد نے تصدیق کی کہ ویکسین کی عدم دستیابی کے سبب صحت کے پیشہ ور افراد کو کورونا سے بچاؤ کے قطرے نہیں پلائے جاسکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت پوری کوشش کر رہی ہے کہ وفاق سے نیا اسٹاک حاصل کیا جاسکے اور اس مسئلے کو ‘خوش دلی سے’ حل کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میو اسپتال میں 3 ہزار سے زائد صحت کے پیشہ ور افراد کو قطرے پلائے گئے اور بہت سے افراد اپنی باری کے منتظر ہیں۔
