ممبئی ہائی کورٹ : ٹرین بم دھماکوں میں سزا یافتہ تمام مسلم ملزمان بری

ممبئی ہائی کورٹ نے 7 نومبر 2006 کے ٹرین بم دھماکوں میں دہشت گردی کے الزام میں سزا پانے والے تمام 12 افراد کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ استغاثہ ملزمان کے خلاف الزامات کو معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

تمام ملزمان مسلمان تھے، جن میں سے پانچ کو سزائے موت اور سات کو عمر قید سنائی گئی تھی۔ یہ فیصلہ جسٹس انیل ایس کلور اور جسٹس شیام سی چندک پر مشتمل ڈویژن بینچ نے سنایا، جس میں 2015 میں انسداد منظم جرائم کی خصوصی عدالت کی دی گئی سزاؤں کو کالعدم قرار دے دیا گیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا "یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ ان ملزمان نے یہ جرم کیا۔ مقدمے کے شواہد غیر مربوط، متضاد اور ناکافی تھے۔”

عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی بے گناہ کو سزا دینا انصاف کے اصولوں کے منافی ہے، اور اگر کسی مقدمے کو غلط طور پر حل شدہ ظاہر کیا جائے تو اس سے عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچتی ہے۔

11 جولائی 2006 کو ممبئی کی 7 مختلف لوکل ٹرینوں میں شام 6:23 سے 6:29 کے درمیان بم دھماکے ہوئے، جن میں 187 افراد جاں بحق اور 824 زخمی ہوئے تھے۔ بعد ازاں اے ٹی ایس نے 13 افراد کو گرفتار کیا، جن کے خلاف دہشت گردی، سازش اور دیگر الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔

سزائے موت پانے والے ملزمان کمال احمد محمد وکیل انصاری (2021 میں جیل میں انتقال کرگئے)، محمد فیصل اطہر الرحمٰن شیخ، احتشام قطب الدین صدیقی، نوید حسین خان، آصف خان بشیر خان تنویر انصاری، محمد ماجد شفیع، محمد علی عالم شیخ، محمد ساجد انصاری، مزمل شیخ، سہیل شیخ، ضمیر شیخ ایک اور ملزم عبد الواحد شیخ کو 9 سال بعد بری کر دیا گیا تھا۔

شہری کو کراچی کے بجائے جدہ پہنچادیا : نجی ایئرلائن اور ایف آئی اے کو نوٹس

 

ہائی کورٹ نے استغاثہ کی جانب سے پیش کردہ عینی شاہدین، اعترافی بیانات، برآمدگیوں اور دیگر شواہد کو ناقابل اعتماد قرار دیا۔ عدالت کے مطابق واقعات کی کڑیاں مکمل طور پر نہیں جوڑی جا سکیں اور ملزمان کے ملوث ہونے کے کوئی ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کیے جا سکے۔

عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمان کسی اور کیس میں مطلوب نہیں تو انہیں فوری رہا کیا جائے۔ ساتھ ہی ہر ملزم کو 25 ہزار روپے کے ذاتی ضمانت نامے جمع کرانے کی ہدایت کی گئی تاکہ اپیل کی صورت میں عدالت میں پیش ہو سکیں۔

یہ فیصلہ ویڈیو لنک کے ذریعے سنایا گیا، جس میں مختلف جیلوں سے ملزمان نے شرکت کی۔ کئی ملزمان فیصلہ سن کر آبدیدہ ہوگئے اور اپنے وکلاء کا شکریہ ادا کیا۔

Back to top button