کیا متنازعہ چیف جسٹس سیاسی جماعتوں میں صلح کروا سکتےہیں؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مزمل سہروردی نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرانا اور ان کے درمیان صلح کرانا عدلیہ کی ذمے داری ہے ہی نہیں، یہ کام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں نے خود کرنا ہے، چیف جسٹس کو سیاسی جماعتوں سے سیاسی درجہ حرارت کم کرنے کی انڈر ٹیکنگ مانگنی ہی نہیں چاہئے جو چیف جسٹس ساتھی ججز کے ساتھ باہمی اختلافات ختم نہیں کر سکتے، وہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کیسے ختم کرا سکتے ہیں۔

مزمل سہروردی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں کہ سیاسی درجہ حرات میں کمی کے لیے چیف جسٹس نے حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان ایک معاہدہ کروانے کی کوشش کی ہے۔ پنجاب اور کے پی کے انتخابات کے حوالے سے سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے  ایک انڈر ٹیکنگ مانگی جس میں سیاسی درجہ حرات کمی کی یقین دہانی ہو۔ تحریک انصاف کے وکیل نے فوری کہا کہ وہ تحریک انصاف کے چیئرمین کی جانب سے عدالت کو یہ یقین دہانی کروانے کے لیے تیار ہیں تاہم حکومت نے موقف دیا ہے کہ ایک کاغذ پر یقین دہانی سے سیاسی درجہ حرات کم نہیں ہو سکتا۔ ایک کاغذ کی انڈر ٹیکنگ کافی نہیں ہے، اس کے لیے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھے بیٹھنا ہوگا اور ایک روڈ میپ طے کرنا ہوگا۔

سیاسی جماعتوں سے ایسی انڈر ٹیکنگ مانگی ہی نہیں چاہیے کیونکہ سیاسی جماعتوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرانا، ان کے درمیان سیاسی سیز فائر کرانا عدلیہ کی ذمے داری ہے ہی نہیں، یہ کام سیاسی جماعتوں کی قیادت اور کارکنوں نے خود کرنا ہے، اس کا بہترین فورم پارلیمان ہے۔ پارلیمان میں اپنے اپنے بات کہنے کی مکمل آزادی ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کسی سیاسی تنازعہ کے حل کا بھی بہترین فورم پارلیمان ہے۔

اگر کوئی سیاسی جماعت پارلیمان کو خود ہی چھوڑ جائے تویہی کہا جائے گا کہ اس نے ڈائیلاگ کا فورم خود چھوڑ دیا۔ سیاسی گرما گرمی کم کرنے اور تنازعات حل کرنے کے لیے پارلیمان کا کوئی متبادل نہیں، اگر ہم پارلیمان کے متبادل فورم بنانے شروع کر دیں گے تو یہ پارلیمان کا حیثیت و اہمیت کم کرنے کی کوشش ہوگی۔ عدلیہ کسی بھی طرح پارلیمان کا متبادل نہیں ہو سکتی، مزمل سہروردی کہتے ہیں کہ پنجاب اور کے پی کے انتخابات کا معاملہ سننے والا بینچ ٹوٹ گیا ہے۔ یہ بینچ جسٹس قاضی عیسیٰ کے ایک فیصلے کے بعد ٹوٹ گیا۔ ۔ یہ سپریم کورٹ میں کوئی نیا تنازعہ نہیں، اس سے پہلے بھی سوموٹو کے حوالے سے ایک تنازعہ موجود ہے کہ کیا سوموٹو کا فیصلہ چار تین سے تھا یا دو تین سے تھا۔ محترم چیف جسٹس اس تنازعہ کو طے کیے بغیر معاملات آگے بڑھانا چاہتے تھے لیکن جب ایک تنازعہ حل کیے بغیر آگے بڑھیں گے تو تنازعہ ختم نہیں ہوتا بلکہ اوربڑھتا جاتا ہے۔

اس لیے اگر پہلے چار تین اور دو تین کا معاملہ طے کر لیا جاتا تو شاید تنازعہ وہیں حل ہو جاتا۔ لیکن اس کو نظر انداز کرنے سے معاملہ مزید پیچیدہ ہوگیا۔ عدالتی اصلاحات کے لیے فل کورٹ کا اجلاس بلایا جانا چاہئے لیکن اگر چیف جسٹس ساتھی ججز کے ساتھ باہمی اختلافات ختم نہیں کر سکتے تو وہ سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات کیسے ختم کرا سکتے ہیں۔

ججز کے درمیان تو اقتدار کی کوئی جنگ نہیں، ان کے درمیان آئینی وقانونی معاملات پر اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن سیاسی جماعتوں کے درمیان تو اقتدار کی جنگ ہے، ججز کے درمیان تو سپریم کورٹ کو چلانے کے حوالے سے اختلافات ہیں ۔ لیکن سیاسی جماعتوں کے درمیان تو میں نہیں یا تو نہیں کی جنگ بن چکی ہے ، اس صورتحال میں کوئی ادارہ سیز فائر نہیں کرا سکتا ہے۔

سیاسی جماعتوں میں اختلافات کوئی عجیب بات نہیں۔ جمہوری نظام میںسیاسی جماعتوں کے درمیان اختلاف کا ہونا لازم ہے۔ امریکا میں بھی یہ اختلاف ہیں، بھارت میں بھی اور برطانیہ میں بھی ہیں لیکن ججز کے درمیان اختلافات کوئی جمہوریت کا حسن نہیں ہے۔ یہ اختلافات کسی صورت نہیں ہونے چاہیے۔ عدلیہ خود اصلاحا ت نہیں کرے گی تو پارلیمان کو کیسے روک سکتے ہیں۔ جو کام وہ خود نہیں کریں گے، وہ کسی کو بھی نہیں کرنے دیں گے، ایسا تو ہونہیں سکتا۔

مزمل سہروردی کے مطابق آج پارلیمان بہتر پوزیشن میں نظر آرہی ہے، وہ اس لیے ہے کہ پارلیمان میں جو بات کی جا رہی ہے، جو قانون سازی پارلیمان کر رہی ہے، اسے اکثریت ارکان کی حمایت ہی حاصل نہیں ہے بلکہ اس کو سپریم کورٹ کے اندر سے حمایت بھی حا صل ہے۔

جب سپریم کورٹ کے سینئر ججز بھی وہی بات کر رہے ہیں جو پارلیمان میں کی جارہی ہے تو پھر الگ سے کوئی بات کرنے کی گنجائش نہیں رہتی ہے۔ بینچ کی تشکیل کے اختیارات کے حوالے سے بات آج شروع نہیں ہوئی، اس پر پہلے بھی بات ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح سوموٹو پر بھی اعتراضات کوئی نئے نہیں ہیں۔ لیکن ان اعتراضات کا کوئی حل نہیں نکالا گیا، اب یہ اعتراضات ایک سیاسی بیانیہ کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔وزیر اعظم پاکستان نے جسٹس قاضی عیسیٰ کے خلاف عمران خان حکومت کی جانب سے دائر کیوریٹو ریفرنس واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے مطابق یہ ریفرنس سیاسی بنیادوں پر دائر کیا گیا ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ بھی بروقت فیصلہ ہوا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ آنے والے چیف جسٹس ہیں۔ حکومت کو ان کے خلاف کسی بھی معاملے میں فریق نہیں ہونا چاہئے۔اب تو عمران خان بھی یہ مانتے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس دائر کرنا ان کی غلطی تھی.  سپریم کورٹ میں اختلاف اس ریفرنس سے ہی شروع ہوا، اگر یہ ریفرنس نہ دائر کیا جاتا تو آج یہ حالات نہ ہوتے، یہ ریفرنس تقسیم کی بنیادی وجہ بن گیا۔

سینیٹ نے بھی قانون پاس کر دیا ہے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ صدر مملکت اس پر دستخط کریں گے کہ نہیں۔ اگر صدر مملکت دستخط نہیں کریں گے تو پھر پارلیمان کو یہ بل دوبارہ پا س کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ کو اس بل کے مطابق فل کورٹ میں اصلاحات کر کے اس تنازعہ کو حل کرنا چاہیے۔ معاملات کو حل کرنا چاہیے ورنہ بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔

کیا اسٹیبلشمنٹ عمران خان پر آخری وار کرنے والی ہے؟

Back to top button