جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر برقرار

چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ بدستور جسٹس یحییٰ آفریدی کے پاس ہی رہے گا۔ وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم میں کی گئی تبدیلیوں کے بعد ملک کے قانونی وسیاسی حلقوں میں جاری بحث کو ختم کر دیا۔
خیال رہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ سے منظوری کے بعد سوال اٹھایا جا رہا تھا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کا ’ٹائٹل‘ کس کے پاس رہے گا؟ کیا جسٹس یحیٰی آفریدی ہی چیف جسٹس آف پاکستان کہلائیں گے یا نئی قائم ہونے والی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کو چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ دیا جائے گا؟ تاہم اب وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 176 کی شق 23 میں کی گئی تبدیلی سے یہ ابہام دور کر دیا ہے، جس میں واضح کر دیا گیا کہ موجودہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اپنی مدتِ ملازمت کے ختم ہونے تک چیف جسٹس آف پاکستان ہی رہیں گے۔
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے اس تاثر کو بے بنیاد قرار دیا کہ ترمیم کے ذریعے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی بدستور سپریم جوڈیشل کونسل اور جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے سربراہ رہیں گے۔
ترمیم سے قبل یہ خیال تھا کہ وفاقی آئینی عدالت کے قیام کے بعد وہ عدالتی درجہ بندی میں سب سے بالا عدالت ہوگی ۔
ان کا کہنا تھا کہ ترمیم میں موجودہ چیف جسٹس کے عہدے کے تسلسل کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے اور یہ کسی نئے استحقاق کا اضافہ نہیں، بلکہ ایک تسلسل کی توثیق ہے جو پہلے سے قانون میں موجود تھی۔
انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی نے چیف جسٹس کے عہدے کے تسلسل اور مدت کی تعبیر کو آئینی اصولوں کے مطابق واضح کر کے عدالتی نظام میں استحکام پیدا کیا ہے۔
