9 مئی والے عمران خان کو اپنے کرتوتوں کا حساب دینا پڑے گا، نواز شریف

مسلم لیگ ن کے نومنتخب صدر نوازشریف کاکہناہے کہ 9 مئی والے عمران خان کو اپنے کرتوتوں کا حساب دینا پڑے گا۔
مسلم لیگ ن کے نو منتخب صدر نواز شریف کا جنرل کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ثاقب نثار نے مجھے زندگی بھر کے لیے مسلم لیگ ن کی صدرات سے ہٹا دیا تھا۔آج اگرمیں واپسی آیا ہوں تو یہ خا موش کیوں بیٹھیں۔آپ نے خوشی منانی ہے تو اس لیے نہیں کہ نواز شریف آج دوبارہ پارٹی کا صدر بنا ہے۔ بلکہ اس لیے کہ ثاقب نثار کا فیصلہ ٹوکری کی ردی میں پھینک دیا گیا ہے۔ آج آج نواز شریف پھر سے ایک دفعہ دوبارہ کھڑا ہے آپ کے سامنے ہے ۔نواز شریف تم نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی تمہارے بیٹے سے تنخواہ تو نہیں مانگی میں نے اپنے کارکناں کو یہ کہنا چاہتا تھا کہ اللہ کے فضل و کرم سے آج کئ برسوں کے بعد میں آپ سے مل رہا ہوں۔
نواز شریف کاکہنا تھا کہ آپ مسلم لیگ ن کے چلانے والے اور اس کی بنیاد رکھنے والے لوگ بیٹھے ہیں یہاں ہمیں آپ پر فخر ہے آندھی طوفان آئے آپ نے کسی کی پرواہ نہیں کی ۔اس بات پر دل کی گہرائیوں سے مسلم لیگ ن کے کارکنوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ آپ کے ساتھ ساتھ میں شہباز شریف کو جو میرے چھوٹے بھائی بھی ہیں دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔بہت اتار چراؤ آئے لیکن شہباز شریف پورے استحکام کے ساتھ کھڑے رہے اور پارٹی کے امتحان پر پورے اترتے۔
ڈیفالٹ کی باتیں کرنے والوں کو مضبوط معیشت ہضم نہیں ہو رہی: عطا تارڑ
نومنتخب صدرکاکہنا تھاکہ شہباز شریف وہ شخص ہیں جن کو کہا کہ شہباز شریف صاحب آپ وزیر اعظم بنیں۔لیکن شہباز شریف نے بے وفائی نہیں کی ۔کہ آپ جانتے ہیں بہت سے لوگوں نے شہباز شریف کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوشش کی۔لیکن آفریں ہے شہباز شریف صاحب پر جو نہ جھکے نہ بکے اور کھڑے رہے۔مجھے ان پر فخر اور ناز ہے۔
نوازشریف کاکہنا تھا کہ مریم نواز شریف کو بھی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔ بہت کڑے وقت میں پارٹی کو متحرک کیا اور ہر امتحان میں پوری اتری ہیں۔وہ بھی وقت تھا جب میں جیل میں تھا جب مجھے ملنے آئیں تو میری آنکھوں کے سامنے ان کو ہتھکڑی لگائی گئی۔حمزہ شہباز نے بھی جوان مردی ک ساتھ جیل کاٹی اور آف تک نہیں کی۔یہ سب کچھ اپنی پارٹی اور اپنے ملک کے لیے تھا۔
نوازشریف کاکہنا ہے کہ رانا ثناء اللہ ، بشیر میمن ، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری ، اقبال ظفر جھگڑا سب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔یہاں وہ لوگ بھی بیٹھے ہوئے ہیں جن لوگوں نے جیلیں کاٹی ہیں۔جب سے میں وزیر اعلیٰ بنا پنجاب کا 1985 سے لے کر اب تک کا سارا مرحلہ میری آنکھوں سے سامنے سے گزر رہا تھا۔اللہ نے کون کون سے کام ہم سے لیے ہیں۔جب جب ن لیگ کی حکومت آئی ہے چاہے مرکز میں ہو یا صوبے میں اگر ہم کو سازش کے تحت نہ اتارا جاتا ہو پاکستان براعظم ایشیا میں ایک بڑی طاقت ہوتا۔ٹانگیں کھینچنے کا طریقہ بہت پہلے سے جاری ہے جس نے پاکستان کو کمزور کیا۔ہم نے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑیاں ناریں ہیں یہ ہم کو مان لینا چاہیے۔1990میں جب میں نے حکومت سنبھالی تھی میری ٹانگیں نہ کھینچی جاتی تو پاکستان میں غربت نام کی کوئی چیز نہ ہوتی ۔میرے زمانے میں ڈالر 104 پر تھا وہاں بھی نہ پہنچتا ڈالر 50.60 روپے پر ہوتا۔
سابق وزیراعظم کاکہنا تھا کہ ہمارے ہاتھ میں کشکول نہیں تھا سب کچھ اپنے وسائل سے کیا تھا۔کراچی کا امن ہم نے قائم کیا تھا موٹروے ہم نے بنائیں تھی۔لوڈ شیڈنگ کا اس ملک میں خاتمے ہم نے کہا تھا۔سٹاک مارکیٹ عروج پر تھی اور سی پیک زورو شور سے جاری تھا۔پاکستان کی خوشحالی صرف چار پانچ لوگوں نے چھین لی۔کیا یہ کوئی بات تھی کہ آپ نے اپنے بیٹے سے تنخواہ نہیں لی آپ اب فارغ ہی۔ کیا ایسا کسی ملک میں ہوتا ہے۔آپ نے ہماری پارٹی کا ستیا ناس کر دیا۔اپنے ہمیں جھوٹے مقدمات میں ملوث کر دیا 150 پیشیاں میں نے بھگتی۔اعلی عدلیہ نے تمام کیس کو ختم کر دیا ہمارے خلاف جھوٹے کیس کیؤں بنائے گئے۔عمران خان کے خلاف کیس سچے ہیں۔آپ ان کے کاندھوں پر بیٹھ کر سیاسیات میں آئے ہیں۔آپ وہ ٹیپ نکالیں کہ آئیں بنی گالا چلتے ہیں۔ہمیں اس وقت کسی کی ضرورت نہیں تھی ہمارے پاس مینڈیٹ تھا۔
