سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا : احسن اقبال

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا،ترقی کےلیے امن،یکجہتی، سیاسی استحکام اور اصلاحات پر عمل کرنا ہوگا۔
اڑان پاکستان سے متعلق تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا کہ یہ ملک بنا تو وسائل نہیں تھے لیکن آج ساتویں ایٹمی طاقت ہے،آج 250 سے زیادہ یونیورسٹیاں ہیں،ہمارا مقصد ہےکہ ہر صوبے میں اعلیٰ تعلیم کے مراکز قائم کریں۔
مرکزی رہنما مسلم لیگ ن احسن اقبال کا کہنا تھا کہ آج چین کی فی کس آمدنی 16 ہزار ڈالر اور ہماری فی کس آمدنی 1600 ڈالر ہے،دیگر ممالک نے حالات کےمطابق اصلاحات کیں،جس ملک کے اندر امن اور یکجہتی نہیں ہوگی وہ ملک ترقی نہیں کرسکتا، جو نظام امن کے اصولوں کے مطابق نہیں ہوگا وہ کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا، ہم دنیا کے ساتھ مل کر 1960 کےبعد آگے نہ چل سکے،چین،جنوبی کوریا اور تھائی لینڈ بہت آگے چلےگئے۔
وفاقی وزیر احسن اقبال کاکہنا تھاکہ پاکستان کے بارے میں مشہور ہےکہ ہم زیادہ ذہین ہیں،تمام ترقی یافتہ ممالک میں ایک بات مشترکہ ہے وہ امن اور ہم آہنگی ہے،ہمیں یہ جاننا ہےکہ کیا وجہ ہے کہ سب ممالک آگے نکل گئے اور ہم پیچھے رہ گئے،سیاسی استحکام کے بغیر کوئی ملک ترقی نہیں کر سکتا، اگر باعزت مستقبل بنانا ہےتو اگلے 22 سالوں میں تیزی سے آگے بڑھنا ہے،ترقی کےلیے امن،یکجہتی، سیاسی استحکام اور اصلاحات پر عمل کرنا ہوگا۔
انہوں نےکہا کہ 2017 تک پاکستان سے بجلی لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی کا خاتمہ ہوگیا تھا، سی پیک کا منصوبہ شروع کیاگیا تھا، 2018 میں جو تبدیلی آئی، اس سے ہم پیچھے رہ گئے،ہمیں یہ سبق سیکھنا ہےکہ ہم نے اس ملک کی پالیسی کے ساتھ سیاست نہیں کرنی،ہم جس دور میں داخل ہوچکے ہیں،انسانی تاریخ میں ایسی تبدیلیاں نہیں دیکھیں،ہمیں اپنے نوجوانوں کو نئی اسکلز دینی ہیں،جو یہ تبدیلیاں مینیج کرسکیں۔
احسن اقبال کاکہنا تھا کہ ہمارے ہمسایہ ملک کی سافٹ ویئر برآمدات 200 ارب ڈالرز تک چلی گئیں،اگر ہمسایہ ملک برآمدات 200 ارب ڈالرز کرسکتا ہے تو ہم 100 کیوں نہیں کرسکتے، پنجاب اور مرکز میں حکومت آئی تو ہم نے طالب علموں کو لیپ ٹاپ دیے،لیپ ٹاپ اس لیے دیے کہ ہمارے نوجوان کا ہتھیار گالی گلوچ نہ ہو بلکہ لیپ ٹاپ ہو۔
ان کاکہنا تھاکہ پاکستان کے 5 چیلنجز کو ٹھیک کرنا ہے، انٹرپرینیور شپ اینڈ ایکسپورٹ مینجمنٹ کو ٹھیک کرنا ہے،ورلڈ مارکیٹ کے اندر میڈ ان پاکستان کو اچھی کوالٹی کے ساتھ لانا ہے،ہم ایک ایکسپورٹ لیڈ گروتھ میں جائیں تو ہم کامیاب ہو سکیں گے،ہم نے اپنی یونیورسٹیوں کو آئیڈیل بنانا ہےتاکہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کاکہنا تھاکہ امریکا سپرپاور اپنی یونیورسٹیوں کی وجہ سے ہے،آج ہم مقابلہ کررہے ہیں کہ کون کس کی مسجدوں پر قبضہ اور حملہ کرتا ہے،وہ لوگ اس مقابلہ میں ہیں کہ کون خلا کی بلندیوں کو چھوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں کھبی خشک سالی کا تو کھبی سیلابوں کا سامنا کرنا ہوگا جس کےلیے ہمیں اب پانی کے ذخائر کو محفوظ بنانا ہے،ہمیں موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنا ہوگا، کراچی سے لے کر پشاور تک بجلی کی بہت بڑی چوری ہے،یہ بھی ایک چیلنج ہےکہ بجلی چوری کو ختم کرنا ہے،جو جتنی بجلی استعمال کررہا ہے وہ اپنا بل دے،حکومت اس کےلیے مزید اصلاحات لےکر آرہی ہیں۔
احسن اقبال کاکہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کے ساتھ مل کر تعلیم اور صحت پر اصلاحات لائیں گے، ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں،جب تک بچے اسکول نہیں جائیں گے ہمارا ملک ترقی نہیں کرسکتا،ہمیں سیاسی لانگ مارچ کی نہیں ملک میں استحکام پیدا کرنےکی ضرورت ہے۔
ان کاکہنا تھاکہ جب تک کسی ملک کی شرح خواندگی 90 فیصد نہ ہو وہ ترقی کا اہل نہیں ہوتا،آج پاکستان کی شرح خواندگی صرف 60 فیصد ہے، سیاست کےمیدان میں مقابلہ نہیں بلکہ تعلیم اور صحت میں مقابلے کی ضرورت ہے۔
وفاقی وزیر کاکہنا تھاکہ پاکستان میں آبادی بڑھنے کی شرح 2 فیصد سے بڑھ کر 9 فیصد تک پہنچ گئی ہے،آبادی بڑھنے کی شرح پر بریک لگایاگیا تھا لیکن دوبارہ ایکسیلیٹر پر پاؤں رکھ دیاگیا۔
ایک حکومتی سال میں جو کچھ کرسکتے تھے ہم نے کر کے دکھایا : مراد علی شاہ
انہوں نے کہاکہ ہمیں اختلاف رائے کو نفرت میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے،ہمارے رنگ،نسل الگ ہوسکتے ہیں لیکن ہمارا ڈاک خانہ ایک ہےوہ ہے پاکستان، ہم سب برابر کے پاکستانی ہیں اور پاکستان کا بھلا چاہتے ہیں، الگ پسند اور اختلاف کی وجہ سے ہم دشمن نہیں بن جاتے،اختلاف کو جب نفرت میں لےجائیں گے تو تباہی آئے گی،اختلاف رکھیں لیکن مل کر کام کرنےکی صلاحیت رکھیں۔
