تاریخ میں کوئی انقلاب اتنی جلدی نہیں بھاگا جتنی جلد کل بھاگے : عظمیٰ بخاری

وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےکہا ہےکہ تاریخ میں کوئی انقلاب اتنی جلدی نہیں بھاگا جتنی جلد کل بھاگے۔
صوبائی وزیر پنجاب عظمیٰ بخاری کاکہنا ہےکہ تحریک فساد کی طرف سے 5 مختلف کالز دی گئیں لیکن پنجاب کےلوگ تحریک فسادکی کسی کال میں شامل نہیں ہوئے اور پنجاب،سندھ اور بلوچستان کے لوگوں نے ہر طرح کی کالز کو مسترد کیا۔
پریس کانفرنس کرتےہوئے صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کاکہنا تھاکہ اسلام آباد کی سڑکوں پر دوڑتے اور فرار ہوتےعالمی ریکارڈ بنتے دیکھا،دنیا کی کوئی تاریخ میں انقلاب اس طرح نہیں بھاگا،وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب کےعوام کا شکریہ ادا کیا ہےاور کی محنت پر ہی پنجاب کےلوگ فساد کی کال کو مسترد کرتےہیں۔
ان کاکہنا تھاکہ سوشل میڈیا پر کہا جارہا ہے بشریٰ بی بی ملک بچانے نکلی ہیں، اب تو پوری پارٹی بتاچکی عمران خان نے سنگجانی پر جلسے کی اجازت دےدی تھی لیکن بشریٰ بی بی نے سنگجانی پر جلسے کو ویٹو کردیا،اب بھی کوئی سمجھا دے بشریٰ بی بی گھریلو خاتون ہیں، گھریلو خاتون 3 دن تک کنٹینر پر دندناتی رہیں اور مشکل وقت میں علی امین گنڈاپور کو کہا تم آگےجاؤ میں پیچھے آتی ہوں۔
عظمیٰ بخاری کاکہنا تھاکہ بشریٰ بی بی لوگوں سے وعدے لے رہی تھیں،انہیں اکسا رہی تھیں اور پختونوں کا خون گرما رہی تھیں،وہ بیچارے کھڑےرہے لیکن بشریٰ بی بی خود بھاگ گئیں،انہوں نے کہا خان کو لیےبغیر نہیں جاؤں گی لیکن گنڈاپور سمیت دیگر خانوں کےساتھ ہی واپس چلی گئیں۔
انہوں نےکہا کہ جنہوں نے آخر تک کھڑےرہنا تھا وہ سب سے پہلے بھاگیں،ڈی چوک پر آگے جانا تھا تو گنڈاپور کو کہا تم آگے جاؤ، علی امین گنڈاپور نفرت اور جہاد کے نعرے لگوا کر لوگوں کو لایا تھا لیکن انہیں خود وہ سب بھگتنا پڑا، انہیں گالیاں اور ڈنڈے پڑے،ان کی گاڑی توڑی گئی اور کنٹینر کو بھی آگ لگادی گئی،گاڑی کے ٹائر بھی پھاڑ دیے گئےکہ یہ بھاگ نہ جائے۔
ان کاکہنا تھاکہ بشریٰ بی بی کو لگ رہاتھا جیسے پاکپتن کی گلیوں میں گھوم رہی تھیں،انہوں نے عمران خان کی سیاست کا بیڑہ غرق کیا اور خود کو عقل سے عاری خاتون ثابت کیا۔
انہوں نےکہاکہ سیاسی خاتون مریم نواز اور کلثوم نواز جیسی ہوتی ہیں، بینظیر بھٹو اور نصرت بھٹو کے بھی سر پھٹے تھے،تعویزوں،مؤکلوں اور ٹونوں پر آپ سیاسی خاتون نہیں بن سکتیں،ان کے لوگ کپڑے اور جوتےچھوڑ کر بھی بھاگ گئے، کچھ دیر تو انقلاب کا انتظار کرتے،ریاست کے پاس بہت سارےطریقہ کار ہوتے ہیں،ریاست کو اپنی حکمت عملی بنانے اور طریقہ کاروضع کرنےکا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔
بیرسٹر سیف نےاحتجاج کےلیے ڈی چوک جانے کا قصور وار بشریٰ بی بی کو قرار دے دیا
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھاکہ احتجاج کے دوران 171 پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور 4 رینجرز اور پولیس کےجوان شہید ہوئے،جوانوں کی شہادتیں رائیگاں نہیں جائیں گی، ایک افسوس ناک واقعہ کو بھی ڈالرز کےلیے استعمال کیاگیا،ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے لڑکے ہاشم کی گاڑی نے رینجرز اہلکاروں کو کچلا، ایک وزیرستان کا لڑکا کہہ رہا تھا ہم لاشیں لینے آئے ہیں لےکر واپس جائیں گے، ایک کہہ رہا تھا ہم نے پارلیمنٹ ہاؤس،وزیراعظم ہاؤس جانا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قانون حرکت میں آنے پر کہتے ہیں ہماری بنیادی حقوق خراب ہو رہے ہیں، باہر بیٹھ کر جہاد لوگوں کو کہہ رہے تھے انٹرنیٹ ڈیوائس ساتھ لے آئیں، افغانیوں اور طالبان کے جوتے میں موزے بھی نہیں تھے، افغانیوں اور طالبان کے پاس کھانے کیلئے روٹی نہیں تھی، باہر سے بیٹھ کر کہہ رہے ہیں انٹرنیٹ ڈیوائس ، خشک میوہ جات ضرور لے جائیں، ان کے فساد اور ذلالت کا شکار ہونےوالے لوگ پکڑے گئے ہیں۔
