شمالی کوریا کا ہائپرسونک میزائل کے تجربے کا دعویٰ

شمالی کوریا نے ہائپر سونک میزائل کا تجربہ کر کے ایٹمی قوت کے حامل ممالک کیلئے خطرے کی گھنٹی بجا دی، یہ کسی بھی ایٹمی ملک کی جانب سے ایسا پہلا میزائل حملہ ہے۔
عالمی پابندیوں اور مذمت کے باوجود شمالی کوریا کا جدید ترین ٹیکنالوجی کے حصول کی کوششوں میں یہ دوسرا رپورٹ شدہ ٹیسٹ تھا، شمالی کوریا کے مطابق یہ ہائپرسونک گلائیڈنگ میزائل ہے۔ہائپر سونک میزائل روایتی میزائلوں کی نسبت زیادہ تیزی سے سفر کرتے اور بہت زیادہ متحرک ہوتے ہیں، یوں امریکا میزائلوں سے تحفظ کے جن نظاموں پر کام کر رہا ہے، ان کیلئے اس میزائل کو ہدف بنانا مشکل ہے۔
پاکستانی امریکن دانیال شون “مین آف دی ائیر 2021“ قرار
کے سی این اے نے میزائل کے لانچر کی تفصیلات بتائے بغیر کہا کہ بدھ کے روز فائر کیے گئے میزائل پر ہائپر سونک گلائیڈنگ وارہیڈ نصب تھا جس نے 700 کلومیٹر دور ہدف کو باریکی سے نشانہ بنایا تھا۔ہائیپر سونک میزائل کے وار ہیڈ نے ایک نئی صلاحیت کا بھی مظاہرہ کیا اور لانچر سے الگ ہونے کے بعد 120 کلومیٹر عمودی پرواز کی، ہائپرسونک میزائل میں تجرباتی لانچوں میں پے در پے کامیابیاں اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں۔
شمالی کوریا نے اپنے ہائپر سونک میزائل ہواسنگ 8 کے پہلے تجربے کا اعلان گزشتہ سال ستمبر کے دوران کیا تھا۔
