پرویز الٰہی حکومت کے خاتمے کی تین آپشنز پرغورشروع


معروف اینکرپرسن اورتجزیہ کارجاوید چوہدری نے کہا ہے کہ پنجاب میں حمزہ شہبازکی حکومت جانے کے بعد بننے والی پرویز الٰہی کی حکومت بھی ڈاواں ڈول دکھائی دے رہی ہے اورزیادہ عرصہ چلتی نظر نہیں آتی۔ انہوں نے مسلم لیگ ق کے دس اراکین پنجاب اسمبلی کو حکومت کی بساط قائم رکھنے یا اُلٹنے میں انتہائی اہم قراردیا ہے۔ جاوید چودھری کے مطابق مسلم لیگ ق کے دس اراکین کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں ان کا کلیدی کردار ہے، اور شاید یہی وجہ ہے کہ ان دس کے دس اراکین نے پرویز الٰہی سے کابینہ میں وزارتیں مانگ لی ہیں۔ لیکن دوسری جانب عمران خان نے پرویز الٰہی پر واضح کر دیا ہے کہ انکی دس سیٹوں کے عوض انہیں وزارت اعلیٰ مل چکی ہے اور اب انکی جماعت کا کوئی ایم پی اے کابینہ میں شامل نہیں ہو سکتا۔ ایسے میں پرویزالٰہی شدید مشکل میں ہیں کیونکہ اگر وہ اپنی جماعت کے اراکین اسمبلی کو وزارتیں نہیں دیتے تو وہ ان کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں جس سے حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ پرویزالہٰی کی پنجاب میں حکومت بن تو گئی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی ق لیگ میں بھی عجیب سی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، صورت حال بڑی دلچسپ ہے، مسلم لیگ ق کے اس وقت دس ایم پی ایز پرویز الہٰی کے ساتھ ہیں، جنہوں نے شجاعت حسین کی جانب سے حمزہ شہباز کو ووٹ دینے کی واضح ہدایت کے باوجود پرویز الٰہی کو ووٹ دیا تھا۔ اگر یہ دس ایم پی ایز پرویز الہٰی کے ساتھ نہ ہوں تو وہ وزیر اعلیٰ نہیں رہیں گے، یوں پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پنجاب حکومت ختم ہو جائے گی جو کہ چند ووٹوں کی اکثریت پر قائم ہے۔ اگران دس لوگوں کو وزارتیں نہیں ملتیں اور یہ پرویزالٰہی کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں تو حمزہ شہباز بطور وزیر اعلیٰ واپس آ جائیں گے کیونکہ ان کے ووٹ بڑھ جائیں گے۔ لہٰذا پرویز الٰہی کے لیے یہ دس ووٹ فیصلہ ساز حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ قاف لیگ کے دس اراکین پنجاب اسمبلی کا گروہ دراصل پرویز الٰہی حکومت کے جہاز کا وہ تختہ ہے جو کشتی کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے۔ اگر یہ تختہ نکل جائے تو جہاز کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، فوری ڈوب جائے گا، دوسری طرف پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان ان دس اراکین کو کسی صورت وزارت دینے کے لیے تیار نہیں، ان کا موقف ہے کہ جب قاف لیگ کو وزارت اعلیٰ دے دی گئی ہے تو اب اسکے لیے مزید وارتوں کی گنجائش باقی نہیں بچتی، اس صورتحال میں چودھری پرویزالہٰی خوفزدہ ہیں کہ اگر انکے دس ایم پی ایز ناراض ہو گئے تو وہ انکا ساتھ چھوڑ کر چودھری شجاعت کے پاس بھی جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب سے چوہدری شجاعت حسین بھی ان دس اراکین پنجاب اسمبلی کو واپس لینے کو تیار بیٹھے ہیں۔

اسی لیے جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اس مشکل ترین صورتحال میں پھنسے ہوئے چوہدری پرویز الٰہی اپنے نئے قائد عمران خان کو سمجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ اگر ان ایم پی ایز کو وزارتیں نہ ملیں توحکومت کا چلنا مشکل ہو جائے گا، لیکن عمران ابھی تک نہیں مانے، اس صورتحال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئندہ حالات کس طرف جا سکتے ہیں۔

جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اگرپرویز الٰہی عمران خان کو منا کراپنے ایم پی ایز کووزارتیں دلوانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بھی حکومت جانے کا خطرہ برقرار رہے گا۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ چوہدری شجاعت حسین کسی بھی وقت اپنے اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف الیکشن کمیشن کوریفرنس بھجوا سکتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ ڈی سیٹ ہو جائیں گے۔ یاد رہے کہ عمران خان نے بھی بطور پارٹی چیئرمین الیکشن کمیشن کو اپنے 25 اراکین پنجاب اسمبلی کے خلاف ریفرنس بھیجا تھا جنہوں نے وزیراعلیٰ کے الیکشن میں حمزہ شہباز کو ووٹ دیے تھے۔ چنانچہ وہ 25 اراکین اسمبلی ڈی سیٹ کر دیے گئے تھے۔ ایسے میں پرویز الٰہی کی اکثریت ختم ہو جائے گی اور حمزہ شہباز دوبارہ وزیر اعلیٰ بن جائیں گے۔ جاوید چوہدری کے بقول ایک آپشن یہ بھی ہے کہ چوہدری شجاعت حسین اپنے 10 باغی اراکین اسمبلی کو ڈی سیٹ کرنے کے دھمکی دے کر واپس آنے کی آفر کریں اورساتھ میں یہ پیش کش کر دیں کہ ان میں سے کسی ایک کو وزیر اعلیٰ بنا دیا جائے گا جبکہ باقی ایم پی ایز کو وزارتیں مل جائیں گی۔ ایسی صورت میں بھی پرویز الٰہی حکومت ختم ہو جائے گی۔

Back to top button