صادق اور امین عمران خان کا اخلاقی دیوالیہ کیسے نکلا؟


معروف صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ آنے کے بعد تحریک انصاف کا اخلاقی دیوالیہ نکل گیا ہے اور عمران خان پہلی بار بیک فٹ پر جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلہ نے کپتان کی صداقت، امانت اور شرافت کے تمام دعوے تار تار کر دیے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں امتیاز عالم کہتے ہیں کہ 8 سال کی تحقیقات کے نتائج اور شواہد سے ثابت ہو گیا کہ عمران کی تحریک انصاف جانتے بوجھتے ہوئے ممنوعہ ذرائع سے بڑے پیمانے پر فنڈز جمع کرتی رہی جن میں 315 کمپنیاں اور تین درجن غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ اسکے علاوہ پارٹی کے 16 بینک اکاؤنٹس کو چھپایا گیا جب کہ ان میں سے 13 اکاؤنٹس بے نامی ہونے کے باوجود آٹھ آفیشل اکاؤنٹس سے جڑے پائے گئے، جن کے دستخط کنندگان میں عمران خان سمیت دیگر لیڈر بھی شامل پائے گئے۔ اوپر سے پارٹی چیئرمین کے چار پانچ سال کے اکاؤنٹس پر عمران خان کے سرٹیفکیٹس کو غلط قرار دیا گیا ہے۔ جہاں تک فارن ایڈ یعنی ”بیرونی امداد“ کا تعلق ہے، ابراج گروپ کے ذریعے خلیجی وزیر کے 20 لاکھ ڈالرز کی پیچیدہ ٹرانزیکشن بھی کی گئی ہے جس کی گتھی فنانشل ٹائمز کی سٹوری میں بدرجہ اتم آشکار کی گئی ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے ایک شوکاز نوٹس تحریک انصاف کو دیا ہے کہ کیوں نہ یہ فنڈز بحق سرکار ضبط کرلئے جائیں۔ ساتھ ہی عمران خان کی نااہلی کے لئے ریفرنسز پہ کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

امتیاز عالم کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت نے آئین کی شق 17(3) کے تحت تحریک انصاف پر پابندی کیلئے ڈکلیئریشن جاری کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ ڈکلیئریشن ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے جاری کیا جاتا ہے یا ”بیرونی امداد“ سے چلنے والی پارٹی کے حوالے سے کیا جاتا ہے جو پاکستان کی خود مختاری اور سلامتی کے لئے خطرے کا باعث ہے؟ بادی النظر میں ”فارن ایڈڈ“ پارٹی کے طور پر بندش کے لیے مواد ناکافی لگتا ہے اور اسے سپریم کورٹ میں ثابت کرنا مشکل ہوگا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ فل کورٹ بینچ ہوگا یا چھوٹا ’’ہم خیال‘‘ بینچ؟ جوڈیشل کمیشن کی کارروائی کے حوالے سے پہلے ہی سپریم کورٹ تقسیم ہوئی نظر آتی ہے۔ یہ یاد رہے کہ حنیف عباسی بمقابلہ عمران خان کے مقدمے کے حوالے سے پہلے ہی میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک بینچ بہت سے آئینی سوالات پہ رائے دے چکا ہے اور ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے معاملے کو الیکشن کمیشن کے حوالے کرچکا تھا۔ بظاہر زیادہ سے زیادہ تحریک انصاف کے فنڈز ضبط ہوسکتے ہیں اور بے نامی کھاتہ داروں بشمول عمران خان کی نااہلی کا کیس آگے بڑھ سکتا ہے۔ صادق و امین نہ رہنے پر 62 ایف کے تحت نا اہلی کا کیس عمران خان کے سیاسی کیریئر کے لئے بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ انکا کہنا تھا کہ جو کانٹے نواز شریف کے لئے بوئے گئے تھے اور انہیں تاحیات نااہل قرار دے کر پارٹی صدارت سے بھی علیحدہ کردیا گیا تھا وہ اب عمران کے بھی گلے پڑنے والے ہیں۔ پارٹی اکاؤنٹس بارے انکے جھوٹےسرٹیفکیٹس اب انہیں کٹہرے میں کھڑے کرنے والے ہیں۔

لیکن امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کو نااہل بھی قرار دے دیا جاتا ہے تو انہیں نواز شریف کی طرح پارٹی رہبر کے طور پر کردار ادا کرنے سے سوائے جیل کے کوئی نہیں روک سکتا۔ جس ملک میں ذوالفقار علی بھٹو جیسے عظیم اور پاپولر لیڈر کو پھانسی پہ چڑھایا جاسکتا ہے ، دو بار منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو سرِ راہ قتل کروایا جاسکتا ہے، تین بار منتخب وزیراعظم کو تاحیات نااہل قرار دیا جاسکتا ہے۔

وہاں کھلنڈرے کراؤڈ کے چاکلیٹی ہیرو کے ساتھ کیا نہیں کیا جاسکتا؟ لیکن عوامی قائدین اور عوامی جماعتوں کو تکنیکی طریقوں سے سیاسی میدان سے باہر کیا جاسکتا ہے اور نہ کرنا چاہئے۔ جو دو عناصر عمران خان اور تحریک انصاف کی بڑی قوت تھے، لگتا ہے وہی ان کے گلے میں کانٹوں کے ہار بن گئے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو کو لوگ ووٹ اور نوٹ دیتے تھے۔ عمران نے بھی شوکت خانم کے حوالے سے خوب خیراتی فنڈز اکٹھے کئے اور اسی تجربے سے انہوں نے سیاسی فنڈز بھی اکٹھےکئے۔ لیکن خیرات سے حاصل کردہ فنڈز بھی تحریک انصاف کے کھاتے میں استعمال ہوئے جس کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ جس طرح سمندر پار پاکستانیوں نے پی ٹی آئی کے لیے فنڈز دیے انکی اجازت ان ممالک کے اپنے قوانین بھی نہیں دیتے ۔ سب سے خطرناک اور بری مثال ابراج گروپ کی فنڈنگ کی ہے۔ ابراج کے مالک عارف نقوی کے الیکٹرک میں بڑے شیئر ہولڈر تھے، انہوں نے عمران خان سے بڑے مالی فوائد بھی حاصل کئے اور اب ایک عالمی مالیاتی اسکینڈل میں پھنس چکے ہیں۔ تحریک انصاف کا دوسرا بڑا پلر اس کا سوشل میڈیا اور بے لگام یوتھ اور ٹرولز ہیں جن کی رہنمائی عارف علوی اور اسد عمر کرتے رہے ہیں۔ اپنی عالمی سازش کی کہانی کے غبارے سے ہوا نکلتی دیکھ کر اور خود کو ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا دیکھ کر تحریک انصاف عمران خان اور ان کے جانثار کئی سرخ لائنیں کراس کرگئے۔ لسبیلہ قومی سانحہ ہو یا کابل میں امریکی ڈرون کے ذریعہ ایمن الظواہری کا قتل، پی ٹی آئی کے آفیشل ٹرولز نے اس پر جس طرح کی گمراہ کن اور بیہودہ مہم چلائی۔ اس سے لگا کہ جس ففتھ جنریشن وار فیئر کےلئے جو کھیپ تیار کی گئی تھی وہ اب اپنے سرپرستوں کے خلاف پلٹ پڑی ہے۔ افواج پاکستان کی طرف سے اس پر ردِعمل آنا ایک فطری عمل تھا اور صدر عارف کو شہدا کے جنازے میں شرکت سے روک دیا گیا ۔

امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ اب عمران بہت بے چین ہو چکے ہیں اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں جس کے باعث وہ غلطیوں پہ غلطیاں کرتے جارہے ہیں۔ اگلے دنوں میں وہ پھر ایک جلسے میں حکومت کو الیکشن کے لیے ایک ماہ کی ڈیڈ لائن دینے والے ہیں۔ یہ وہی وقت ہو گا جب آئی ایم ایف کا بورڈ پاکستان کے ساتھ معاہدہ کرنے کے معاملے پر غور کررہا ہوگا۔ ایسے میں سوال اٹھے گا کہ کیا عمران خان نہیں چاہتے کہ پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچے؟ ساتھ ہی انکی جانب سے یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ وہ 9 خالی ہونے والی قومی اسمبلی کی نشستوں پر خود اُمیدوار ہوں گے جب کہ وہ اسمبلی میں ہوتے ہوئے بھی اس میں واپس جانے کو تیار نہیں۔ لیکن امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے نتیجے میں عمران خان کی ساکھ جس طرح متاثر ہوئی ہے، تحریک انصاف کو اس سے سنبھلنے کی ضرورت ہے۔ اسے ایک قدم پیچھے ہٹ کر اپنا دفاع کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن کپتان کو کون سمجھائے کہ وہ اب لاڈلے نہیں رہے اور اگر انہیں 9 نشستوں پر انتخاب لڑنے سے نااہل کردیا گیا تو پھر کیا ہو گا؟

Back to top button