فوج کو دھمکیاں دینے والے کپتان کا راستہ کون روکے گا؟


معروف لکھاری اور کالم نگار عطاء الحق قاسمی نے کہا ہے کہ عمران خان فوج کو بھی دھمکاتے ہیں، عدلیہ کو بھی دھمکیاں دیتے ہیں، انتظامیہ کو بھی تڑیاں لگاتے ہیں اور شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا تو ان کا روز مرہ کا معمول ہے۔لہٰذا میں یہ کہنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ اس سے بڑا پاکستان کا دشمن اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا جو ہماری سیسہ پلائی فوج میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرے۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنی تازہ تحریر میں عطاالحق قاسمی کہتے ہیں کہ افواج پاکستان کے سربراہ قمر جاوید باجوہ کے ساتھ یہ کیا ہو رہا ہے کہ جو اٹھتا ہے ان کے بارے میں دریدہ دہنی شروع کر دیتا ہے۔ میں یہ سطور لکھتے وقت سخت حیران ہو رہا ہوں کہ کیا کبھی ایسا وقت بھی آنا تھا کہ پاکستان کے کسی جنرل کو اس طرح موضوعِ گفتگو بنایا جا سکے، جیسے وہ جنرل نہ ہو جنرل مرچنٹ ہوں۔ دراصل میں یہ بات بہت عرصے سے محسوس کر رہا ہوں کہ کبھی فوج کے حوالے سے کہی گئی ذرا سی بات پر بندہ ہی غائب ہو جاتا تھا یا اس کی اچھی خاصی دھلائی کی جاتی تھی بلکہ بطور یادگار اسکے پیٹ میں دو تین گولیاں رہنے بھی دی جاتی تھیں تا کہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔

عطاالحق قاسمی کہتے ہیں کہ ابھی چند روز پیشتر فوجی ہیلی کاپٹر حادثے میں ہمارے نہایت قیمتی جوان شہید ہوئے جس کا شدید دکھ میرے علاوہ پوری قوم کو تھا، ان سے کسی کا کوئی خونی رشتہ نہیں تھا مگر وہ ہمارے لیے اپنا خون بہانے والوں میں سے تھے، اس دردناک قومی سانحہ پر چند بدبختوں نے سوشل میڈیا پر یقیناً ایسی کوئی یاوہ گوئی کی ہو گی جس پر فوج کی طرف سے سخت ردعمل آیا۔عطاء الحق قاسمی کا کہنا ہے کہ ان بدبختوں کا تعلق پی ٹی آئی سے نکلا ہے، مگر زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ نوجوان زندہ سلامت اور بقائمی ہوش وحواس ٹی وی پر پیش کیا گیا جس نے اپنی سیاسی وابستگی بتائی اور اپنی حرکت پر شرمندگی بھی ظاہر کی۔ ظاہر ہے وہ نوجوان اس وقت اپنے گھر پر اپنے اہلخانہ کے ساتھ بخیرو عافیت گپ شپ کر رہا ہو گا۔

قاسمی کہتے ہیں کہ میری اٹھک بیٹھک عامل صحافیوں کے ساتھ بہت کم ہے، آئی ایس پی آر سے بھی رابطہ نہیں۔ آئی ایس آئی کے کسی افسر یا کلرک سے بھی علیک سلیک نہیں سوشل میڈیا پر صرف فنی قسم کی پوسٹس دیکھتا ہوں۔ ان رابطوں سے کچھ نہ کچھ ضرور پتہ چل جاتا ہےکہ آخر بات کیا ہوئی کہ صدرِ مملکت کو شہیدوں کے جنازے میں جانے سے روک دیا گیا؟ ملزم کو زندہ سلامت ٹی وی پر بھی پیش کیا گیا تاہم اس کے ساتھ شدید غم و غصہ والا بیان ضرور جاری کیا گیا۔ دوسری طرف میں دیکھتا ہوں کہ جنرل باجوہ کی ٹیم کھل کر 2018 کے الیکشن میں عمران خان کے ساتھ کھڑی ہوئی مگر جب موصوف کے مطالبات حد سے بڑھے تو غیر جانبداری کی روش اپنائی گئی۔ عمران خان نے اس پر سخت غم وغصہ کا اظہار کیا کہ اب کچھ لوگ نیوٹرل ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔ بقول عمران خان نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے انسان تو حق کے ساتھ ہوتا ہے، اپنے حق پر ہونے کا فیصلہ انہوں نے خود کیا اور یہ بھی نہیں سوچا کہ ادارے نیوٹرل ہی ہوتے ہیں، اور انہوں نے نیوٹرل ہونے کا حلف اٹھایا ہوتا ہے۔ اب آپ سوچیں کبھی یہ گمان بھی کیا تھا کہ کسی آرمی چیف کے بارے میں اول فول بکا جائے اور فوج کے جذبات مجروح نہ ہوں۔

عطاء الحق قاسمی کہتے ہیں کہ بدبختوں کی بکواس سن کر مورچوں میں موجود ہماری جانوں کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے نوجوانوں کے دلوں پر کیا بیتتی ہو گی؟ آپ یقین کریں میں نے کئی بار سوچا تھا کہ پاک فوج کی اس طرح توہین کرنے والوں کے بارے میں کچھ لکھوں۔ جب ریٹائرڈ فوجی جتھے کی صورت میں بالواسطہ طور پر پی ٹی آئی کی حمایت میں نکل آئے تو میں سوچتا تھا کہ یہ لوگ پی ٹی آئی کے دوست ہیں یا دشمن جو اس جماعت کی مقبولیت کو کسی کا ’’دان‘‘ قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ مگر میں نے تب بھی اپنا قلم اپنے اصل مزاج یعنی طنزو مزاح کے مضامین پر ہی مرکوز رکھا لیکن اب حد ہو گئی ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے کہ عمران خان فوج کو بھی دھمکاتے ہیں، عدلیہ کو بھی دھمکیاں دیتے ہیں، انتظامیہ کو بھی ’’تڑیاں‘‘ لگاتے ہیں اور شرفاء کی پگڑیاں اچھالنا تو ان کا روز مرہ کا معمول ہے۔ لہٰذا میں یہ کہنے کی جسارت ضرور کروں گا کہ اس سے بڑا پاکستان کا دشمن اور کوئی ہو ہی نہیں سکتا جو ہماری سیسہ پلائی فوج میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کرے۔ لہذا ایسے بدبختوں کا بندوبست کرنا اشد ضروری ہو چکا ہے۔

Back to top button