ایشیا کپ سے پہلے پاکستانی اور انڈین جواری ایجنسیوں کے ریڈار پر

ایشیا کپ سے پہلے پاکستان اور بھارت نے اربوں ڈالر کی غیر قانونی آن لائن جوا انڈسٹری کو لگام ڈالنے کا فیصلہ کر لیا۔ کریک ڈاؤن کے دوران درجنوں بیٹنگ ایپس پر پابندی اور مارکیٹنگ کرنے والے انفلوئنسرز کی گرفتاریوں کے بعد کرکٹ کے میدان سے شہرت پانے والے وسیم اکرم،سریش رائنا اور گوتم گھمبیر جیسے نامور کھلاڑی بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر آ گئے۔ ناقدین کے مطابق آن لائن بیٹنگ جوئے کی یہ دنیا صرف کھیلوں کی ساکھ کو ہی داغدار نہیں کر رہی بلکہ اربوں ڈالر کی غیر قانونی منی لانڈرنگ اور کروڑوں افراد کے مالی نقصان کا سبب بھی بن رہی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے دونوں متحارب ممالک نے ملوث افراد کیخلاف شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
خیال رہے کہ نو ستمبر سے شروع ہونے والے ایشیا کپ میں پاک بھارت میچ کیلئے دونوں حکومتوں کی جانب سے کلیئرنس مل چکی ہے۔ ایشیا کپ میں دونوں ٹیمیں متوقع طور پر تین مرتبہ آمنے سامنے آسکتی ہے۔ جبکہ ان کے درمیان پہلا ہائی پروفائل ٹی ٹوئنٹی مقابلہ 14 ستمبر کو طے پایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے اس بڑے مقابلے پر جوئے کا ریٹ آسمان کی بلندیوں کو چھوتا دکھائی دیتا ہے اور اس بات کے امکانات ظاہر کیے جارہے ہیں کہ دونوں ممالک کے جواریے پاک بھارت میچز سے دو سے ڈھائی بلین ڈالر کا جیک پوٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاک بھارت میچ سے قبل بیٹنگ ایپس سابق کرکٹرز اور سوشل میڈ یا انفلوئنسز کو بیٹنگ ایپس کی مارکیٹنگ کیلئے 20ہزار ڈالر سے دولاکھ ڈالر تک کی رقم ادا کر رہی ہیں۔ جس کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی سبق سکھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق کپتان وسیم اکرم کیخلاف لاہور میں ایک شکایت درج کی گئی ہے۔ جس میں ان پر آن لائن بیٹنگ ایپ کی تشہیر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت درج کرائی گئی شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ وسیم اکرم ایک غیر ملکی بیٹنگ ایپ ‘باجی کے برانڈ ایمبیسیڈر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک پوسٹر اور ایک ویڈیو کلپ میں اکرم کو اس پلیٹ فارم کی تشہیر کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ درخواست گزار نے استدلال کیا ہے کہ وسیم اکرم کی تشہیر کی وجہ سے عوام میں اس ایپ کے بارے میں دلچسپی پیدا ہوئی ہے اور یہ صارفین میں جوا کھیلنے کے رویے کو فروغ دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ درخواست گزار نے این سی سی آئی اے سے 2016ء کے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ کے تحت سابق کرکٹر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے کی درخواست کی ہے۔
این سی سی آئی اے کے مطابق وسیم اکرم کے خلاف شکایت موصول ہوئی ہے۔ اگر الزامات سچ ثابت ہوتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔ تاہم دوسری جانب اب تک وسیم اکرم نے ان الزامات پر کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی اس معاملے پر کوئی بیان جاری کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وسیم اکرم کے خلاف کارروائی کی درخواست اس وقت سامنے آئی ہے جب اسی بیٹنگ ایپ کی تشہیر کرنے پر مقبول یو ٹیو بر اور ٹک ٹاکر سعد الرحمن عرف ڈکی بھائی کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسری جانب قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے آن لائن جوئے کے پلیٹ فارمز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے پاکستان بھر میں 46 موبائل ایپلی کیشنز کوغیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ ایپس نہ صرف جوئے کو فروغ دیتی ہیں بلکہ غیر قانونی مالی لین دین اور صارفین کے ذاتی ڈیٹا کی چوری جیسے خطرات بھی پیدا کر رہی تھیں۔ یہ ایپس پرائیویسی کی خلاف ورزیوں ، حساس ڈیٹا کے غلط استعمال اور ممکنہ شناخت کی چوری کا سبب بن سکتی ہیں۔ غیر مجاز ڈیٹا اکٹھا کرنے کے خطرات کو مد نظر رکھتے ہوئے ان ایپس کو غیر قانونی فہرست میں شامل کیا گیا ہے
ماہرین کے مطابق آن لائن جوا ایپس نے صرف پاکستان میں ہی نوجوانوں کو چونا نہیں لگایا بلکہ بھارت میں غیر قانونی آن لائن گیمنگ کا بازارساڑھے آٹھ لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ان آن لائن جوا ایپس سے ہر سال تقریباً 450 ملین صارفین 2.3 بلین ڈالر کا نقصان اٹھاتے ہیں۔ یہ نقصان صرف پیسے تک محدود نہیں بلکہ عوام بھاری قرضوں، ذہنی دباؤ اور سماجی بگاڑ کا بھی شکار ہو رہے ہیں۔ تاہم پاکستان میں وسیم اکرم کے خلاف درخواست دائر ہونے کے بعد بھارتی حکام نے بھی سابق کرکٹرز سریش رائنا اور گوتم گھمبیر کو آن لائن جوئے کی پرموشن بارے تحقیقات کے لیے طلب کر لیا ہے، جبکہ دھونی، کوہلی، یوراج سنگھ اور ہربھجن سمیت کئی بڑے نام واچ لسٹ میں شامل کر لئے ہیں جبکہ بھارتی پارلیمنٹ نے ’’پروموشن اینڈ ریگولیشن آف آن لائن گیمنگ بل‘‘ منظور کرکے درجنوں آن لائن جوا ایپس پر پابندی لگا دی ہے۔
مبصرین کے بقول ایشیا کپ کے آغاز سے پہلے آن لائن جوا ایپس کے خلاف کریک ڈاؤن کھیل سے زیادہ قومی سلامتی، معیشت اور معاشرتی استحکام کا معاملہ بن چکا ہے۔ ایشیا کپ میں جہاں کھیل کے میدان میں پاکستان اور بھارت کے کھلاڑی رنز اور وکٹوں کی جنگ لڑیں گے، وہیں دوسری جانب دونون ممالک کی حکومتیں جوئے کے بین الاقوامی نیٹ ورکس مدمقابل نظر آئیں گی۔ تاہم یہ آنے والا وقت بتائے گا کہ ایشیا کپ کرکٹ کے دیوانوں کیلئے خوشیوں کا سبب بنتا ہے یا اربوں ڈالر کے غیر قانونی کاروبار کا ایندھن۔
