آن لائن جوئے کی تشہیر ، کیا ڈکی بھائی کو ریلیف مل پائے گا ؟

وفاقی حکومت نے ڈکی بھائی کے آن لائن جوا سکینڈل کو ٹیسٹ کیس بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستانی نوجوانوں کو کروڑوں روپے کا چونا لگانے والے یوٹیوب انفلوئنسر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کا ٹھکنا یقینی ہو گیا ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے نوجوان نسل کو جوئے کی طرف راغب کرنے اور غیر قانونی پیسہ کمانے کے الزام میں گرفتار معروف یوٹیوب انفلوئنسر سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی ڈیڑھ ماہ بعد بھی جیل میں قید ہیں۔ عدالت نے دو بار ملزم کی ضمانت خارج کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ’ڈکی بھائی کی سرگرمیاں معاشرے میں بڑے پیمانے پر اثرانداز ہوئیں۔ انھوں نے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اس لئے وہ ضمانت سمیت کسی ریلیف کے حقدار نہیں۔ تاہم ڈکی بھائی کے وکیل اس کیس کو ہی سرے سے ہی ’غیر قانونی‘ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’ ڈکی بھائی پر جوئے کی تشہیر کا الزام بے بنیاد ہے کیونکہ سرکاری ٹی وی اور پی ایس ایل کے دوران بھی انہی ایپس کی تشہیر کی گئی جن کی ترویج پر سعد الرحمٰن کو گرفتار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سوشل میڈیا اور آن لائن بڑے پیمانے پر فراڈ اور جوئے پر قابو پانے کے لیے کچھ عرصہ قبل ہی نیشنل سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی قائم کی گئی ہے، جس کے تحت فیصل آباد آن لائن سکینڈل سمیت کئی کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ حکام کے مطابق آن لائن فراڈ یا سوشل میڈیا پر جوئے میں ملوث ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے تاکہ نوجوان نسل کو راہِ راست پر رکھتے ہوئے شہریوں کو لٹنے سے بچایا جا سکے۔
تایم نیشنل سائبر کرائم تحقیقاتی ایجنسی این سی سی آئی اے کے پراسیکیوٹر منعم بشیر چوہدری کے مطابق ڈکی بھائی کا کیس سوشل میڈیا ایپس پر جوئے کا بہت بڑا سکینڈل ہے، جس میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر جوئے سے پیسے کمانے کی ترغیب دے کر کروڑوں روپے کمائے جا رہے تھے۔ ’اس حوالے سے وسیع پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں، یہ ایک بڑا نیٹ ورک ہے جس میں مزید ملزمان کے خلاف بھی ثبوت جمع کیے جا رہے ہیں۔ ملزم نے نہ صرف عوام کو کروڑوں کا چونا لگایا ہے بلکہ ریاست کو بھی مالی نقصان پہنچانے کا سبب بنا ہے۔‘یہی وجہ ہے کہ عدالتوں نے دو بار ضمانتیں مسترد کرتے ہوئے اس کیس کی تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ کیس صرف ایک شخص کا نہیں بلکہ سوشل میڈیا پر جوا مافیا کے خلاف جنگ ہے۔‘
یاد رہے کہ این سی سی آئی اے لاہور نے 17 اگست 2025 کو علامہ اقبال ایئر پورٹ سے معروف سوشل میڈیا ایکٹوسٹ سعد الرحمٰن عرف ڈکی بھائی کو اس وقت حراست میں لیا جب وہ لاہور سے ملائیشیا جانے کی کوشش میں تھے۔حکام نے میڈیا کو بتایا تھا کہ ملزم ڈکی بھائی پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی جوا ایپس کی بڑے پیمانے پر ’تشہیر‘ کی، جو خاص طور پر نوجوانوں اور نابالغوں کو نشانہ بنا رہی تھیں۔ یہ ایپس آن لائن بیٹنگ اور جوئے کی آڑ میں چلتی تھیں، جو لاکھوں پاکستانی نوجوانوں کو مالی تباہی کی دلدل میں دھکیل چکی ہیں۔گرفتاری کے فوری بعد ملزم سے دو موبائل فونز اور ایک لیپ ٹاپ برآمد ہوئے۔ ایف آئی اے کی فرانزک اور تکنیکی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ ان ڈیوائسز میں جوا ایپس کی پروموشنل ویڈیوز، ایپ انتظامیہ کے ساتھ خفیہ وائس چیٹس اور مالی ٹرانزیکشنز کا مکمل ریکارڈ موجود تھا۔
این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ملزم کےمختلف اکاؤنٹس سے تین لاکھ 26 ہزار چار سو 20 امریکی ڈالر تقریباً 9 کروڑ پاکستانی روپے برآمد ہوئے ہیں، جو مبینہ طور پر تشہیر کی آمدنی تھی۔ مگر مزید چھان بین کے دوران یہ رقم 21 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔این سی سی آئی اے نے ڈکی بھائی کی گرفتاری کے بعد آن لائن فراڈ اور جوئے کی ایپس کو پروموٹ کرنے والے مزید سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے خلاف کارروائیوں کا اعلان کر رکھا ہے، جس کے بعد مسٹر پتلو، رجب بٹ، مان ڈوگر، اقرا کنول، ذوالقرنین چوہدری، مناہل ملک، وسیم اکرم (کرکٹر)، خرم گجر کو بھی طلبی کے نوٹسز جاری کئے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق بیگو لائیو، ٹک ٹاک لائیو سمیت جوئے کی پروموشن کرنے والے ایکٹوسٹس کا ساتھ دینے والے اداکاروں خوشبو ارباز، دیدار، خوبصورت کیف، شیزا بٹ، نگار چوہدری، گڈو کمال، عمران شوکی، قیصر پیا، امجد رانا، وکی کوڈو، ندا چوہدری، سلک جٹ، راشد کمال و دیگر کی بھی مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔این سی سی آئی اے حکام کے مطابق ’پاکستان میں آن لائن فراڈ یا جوئے کو روکنے کے لیے کریک ڈاؤن جاری ہے، جب تک اس پر قابو نہیں پایا جائے گا کارروائی بھی جاری رہے گی۔‘
