انڈیا کی نئی واردات، پہلگام حملہ تین پاکستانی شہریوں پر ڈال دیا

کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر پہلگام حملے کا الزام عائد کرتے ہوئے حملہ آور ہو جانے والے بھارت نے شکست کی خفت مٹانے کے لیے اب ایک نئی واردات ڈالتے ہوئے یہ دعوی کر دیا ہے کہ پہلگام اٹیک میں ملوث تینوں ملزمان نہ صرف پاکستانی شہری ہیں بلکہ انکا تعلق کالعدم تنظیم لشکر طیبہ سے ہے۔
انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیٹو ایجنسی کا یہ دعوی دو مقامی افراد کو حملہ آوروں کو پناہ دینے کے الزام میں گرفتار کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کو دو ماہ گزرنے کے باوجود بھی پہلگام حملے کے تینوں ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
پاکستان نے تاحال اس انڈین دعوے پر تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم اپریل میں انڈیا کی جانب سے پہلگام حملے کا الزام سختی سے رد کرتے ہوئے پاکستان نے 26 افراد کی ہلاکت کے واقعے کی غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ اس حملے کے بعد بھارتی سکیورٹی فورسز نے کشمیر میں بڑے پیمانے پر آپریشن کیا اور تفتیش کے لیے ہزاروں افراد کو حراست میں لیا تھا۔ اس حملے کی تحقیقات نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی یا این آئی اے کے حوالے کی گئی تھیں۔ اب این آئی اے نے کہا کہ گرفتار شدہ دو افراد نے جان بوجھ کر تین مسلح دہشتگردوں کو 22 اپریل کے حملے سے قبل پناہ دی تھی۔ لیکن ان گرفتاریوں کے حوالے سے بھی کوئی انفارمیشن میڈیا کو نہیں دی گئی۔
یاد رہے کہ پہلگام میں سیاحوں پر ہونے والے حملے کے 9 دن بعد انڈیا نے پاکستان پر حملہ کر دیا تھا لیکن پاک فضائیہ نے بھارتی ایئر فورس کو ناکوں چنے چبوا دیے جس کے بعد وزیراعظم مودی نے ٹرمپ کے ذریعے سیز فائر کروانے میں ہی عافیت سمجھی۔ پہلگام کے فوراً بعد انڈیا کی جانب سے ذمہ داران کا دنیا کے آخری کونے تک پیچھا کرنے کے اعلانات سامنے آئے۔ انڈیا نے پاکستان کو اس واقعے کا ذمہ دار ٹھہرا کر انڈس واٹر معاہدہ معطل کرتے ہوئے، سرحد بند کر دی اور ویزے منسوخ کرنے کے علاوہ سفارتی عملے کی بے دخلی جیسے اقدامات کر دیے۔
پاکستان کی جانب سے بھی انڈین اقدامات کے جواب میں ویسے ہی اقدامات سامنے آئے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستان نے پہلگام حملے کو ایک ’فالس فلیگ‘ آپریشن قرار دے دیا۔ اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ اس حملے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور یہ کہ پاکستان اس سلسلے میں تعاون کے لیے تیار ہے۔
پاکستان کی اس پیشکش پر انڈیا کی جانب سے ابھی کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا حالانکہ سیز فائر کے وقت صدر ٹرمپ نے یہ ٹویٹ کی تھی کہ دونوں ملک بیٹھ کر اپس میں اختلافی معاملات کا حل نکالیں گے۔
ایرانی حملوں کے بعد امریکہ اور اسرائیل نے گھٹنے کیوں ٹیک دیے ؟
یاد رہے کہ ماضی میں جموں کشمیر میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری مختلف عسکریت پسند اور شدت پسند تنظیمیں قبول کرتی رہی ہیں لیکن پہلگام کے حملے کی ذمہ داری کسی نے نہیں لی تھی۔ لہذا پاکستان کے اس موقف میں وزن تھا کہ یہ حملہ ایک فالس فلیگ آپریشن ہے جو بھارت نے خود کروایا اور اس کا مقصد پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔
22 اپریل کو ہونے والے اس حملے کے بعد اگرچہ انڈین حکام نے بھی فوری طور پر کسی مخصوص گروپ کو ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا لیکن انڈین ذرائع ابلاغ میں سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک مبینہ بیان کی بنیاد پر ‘دا ریزسٹنس فرنٹ’ نامی گروپ کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ لیکن دی ریزسٹنس فرنٹ نے اس سے لاتعلقی ظاہر کی تھی۔ خیال رہے کہ انڈیا اس تنظیم کو کالعدم شدت پسند تنظیم لشکرِ طیبہ کا گماشتہ یا بازو قرار دیتا ہے۔
اب اننت ناگ کی پولیس کی جانب سے تین افراد کے خاکے جاری کرتے ہوئے ان کے نام ہاشم موسیٰ عرف سلیمان، علی بھائی عرف طلحہ اور عادل حسین ٹھاکر بتاتے ہوئے انھیں پاکستانی شہری قرار دیا گیا ہے۔پولیس نے تینوں ملزمان کے بارے میں اطلاع دینے پر 20 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا۔ پولیس کی جانب سے اس معاملے کی جو ایف آئی آر درج کی گئی اس میں کہا گیا کہ ’نامعلوم دہشت گردوں نے سرحد پار بیٹھے اپنے آقاؤں کی ایما پر غیرقانونی اسلحے سے ان سیاحوں کو بلا امتیاز نشانہ بنایا جو سیاحت کی غرض سے پہلگام آئے تھے۔‘
