پہلگام حملہ بھارتی را اور اسرائیلی موساد کی واردات نکلا

 

 

 

اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی معاہدے پر رضامند ہونے کی ایک بڑی وجہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین حال ہی میں ہونے والا دفاعی معاہدہ ہے۔

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری اپنے تحریر میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے کی چار بڑی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی نیوکلیئر پاور ہے‘ دوم یہ کہ پاکستانی فوج بے انتہا تگڑی‘ پروفیشل‘ اور نڈر ہے‘ اہم بات یہ ہے کہ کبھی کوئی سیاست دان اس فوج پر اثر انداز نہیں ہو سکا، حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو کے قد کاٹھ کا بڑا لیڈر بھی فوج کو قابو نہیں کر سکا‘ سعودیہ کے پاکستان سے دفاعی معاہدے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم سعودی عرب کو سستے پڑتے ہیں‘ سعودیہ کی حفاظت ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور ہم یہ خدمت مفت بھی سر انجام دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، آخری وجہ یہ ہے کہ اسرائیل بھی صرف پاکستان سے ڈرتا ہے، چناںچہ سعودی عرب نے 17 ستمبر 2025 کو پاکستان کیساتھ دفاعی معاہدہ کر لیا۔ اس معاہدے کا پہلا کمال یہ ہوا کہ اسرائیل غزہ میں جنگ بندی پر رضا مند ہو گیا۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے پاکستان سے دفاعی معاہدہ کرنے کی ایک فوری وجہ 9 ستمبر 2025 کو قطر پر ہونے والا حملہ بھی بنا۔ یہ 1981 میں بغداد کے ایٹمی ریکٹر جیسا حملہ تھا‘ جو اچانک کیا گیا اور کسی کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی‘ دوحہ میں حماس کی لیڈر شپ کی رہائش گاہیں اسرائیل کا ٹارگٹ تھیں‘ اس آپریشن کے بارے میں دو معلومات اہم ہیں‘ پہلی اطلاع یہ کہ اسرائیل نے ریڈ سی سے میزائل داغے جو انتہائی بلندی سے سعودی عرب کے اوپر سے گزر کر دوحہ جا کر گرے‘ دوسری اطلاع کا ذریعہ ترکی ہے جس کی انٹیلی جنس کے مطابق اسرائیلی ائیرفورس ایف 15 طیاروں کے ذریعے شام کے راستے عراق اور وہاں سے قطر میں داخل ہوئی اور براہ راست ہدف کو نشانہ بنایا‘ ترک انٹیلی جنس کو یہ طیارے نظر آتے ہی حماس کی لیڈر شپ کو اطلاع دے دی گئی جس کے بعد خالد مشعل اور دیگر حماس رہنما وہاں سے نکل گئے اور یوں اسرائیلی حملہ ناکام ہو گیا۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسرائیل نے بڑی بے شرمی کے ساتھ یہ حملہ کیا حالانکہ قطر میں امریکی سینٹ کام کی سب سے بڑی ملٹری بیس ہے جہاں دس ہزار امریکی فوجی موجود ہیں جن کا سربراہ فور سٹار جنرل ہوتا ہے‘ اس ملٹری بیس پر دنیا کے جدید ترین سسٹم لگے ہیں‘ قطر کی سیکیورٹی امریکا کے پاس ہے اور قطر ہر سال امریکا کو اس کے بدلے کئی بلین ڈالرز ادا کرتا ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ قطری حکومت نے امریکا کی ہدایت پر ہی دوحہ میں حماس سے دفتر بنوایا تھا اور امریکا کی خواہش پر ہی حماس کی لیڈرشپ مذاکرات کر رہی تھی۔ لہذا اسرائیل کے اچانک حماس کے آفیشل دفتر پر حملے کے بعد بے شمار سوال کھڑے ہو گئے، مثلاً پہلا سوال یہ تھا کیا امریکا کو اس حملے کا علم تھا؟ وائیٹ ہاؤس کے مطابق اسرائیل نے امریکا کو تب بتایا جب جہاز روانہ ہو چکے تھے اور ٹرمپ کچھ نہیں کر سکے‘ دوسرا سوال یہ ہے کہ ‘کیا اسرائیل نے دوحہ میں امریکا کے تمام آلات جام کر دیے تھے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر تو امریکا کو اس حملے کا پیشگی علم تھا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا عربوں کا اتحادی ہونے کے باوجود انکی حفاظت نہیں کرنا چاہتا اور اسے جب بھی عرب اور اسرائیل میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو اس کا ووٹ اسرائیل کے لیے ہو گا۔ لہذا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب ممالک بلاوجہ اپنی سکیورٹی کے لیے امریکہ کو پیسے دے کر اپنا سرمایہ ضایع کر رہے ہیں۔

 

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی جانب سے قطر پر حملے کے فوری بعد پاکستان کے ساتھ ہوئے دفاعی معاہدے کو اس پس منظر میں دیکھنا ضروری ہے۔ انکا کہنا یے کہ اسرائیل کی نظر میں امریکا کی کوئی اہمیت نہیں اور یہ امریکا کے کسی بھی دوست کو کسی بھی وقت ٹارگٹ بنا سکتا ہے۔ امریکا اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا‘ یہ صورت حال پہلی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ اگر تو اسرائیل نے قطر پر حملے کے وقت امریکی ٹیکنالوجی بھی جام کر دی تھی اور امریکی سیٹلائیٹ اور ریڈار اپنے ہی بنائے ہوئے ایف 15 طیاروں کو فضا میں ٹریس نہیں کر سکے تو یہ امریکا سمیت پوری دنیا کے لیے تشویش ناک بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسرائیل اب ٹیکنالوجی میں امریکا کا باپ بن چکا ہے جسے کوئی نہیں روک سکتا۔

 

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے اگر اسرائیل نے سعودی عرب کے اوپر سے گزر کر قطر پر حملہ کیا اور اسے بھی امریکی آلات ٹریس نہیں کر سکے تو پھر کوئی عرب ملک اسرائیل سے محفوظ نہیں حتیٰ کہ امریکا بھی ان کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ جاوید چوہدری کے مطابق اب امریکا کو عربوں کی ضرورت نہیں رہی ‘ امریکا سال 2000 تک دنیا بھر میں تیل کا سب سے بڑا خریدار تھا لیکن پھر شیل ٹیکنالوجی آئی اور امریکا دنیا میں تیل کا سب سے بڑا ذخیرہ بن گیا‘ امریکہ اب خود تیل کا ایکسپورٹر ہے چناں چہ اب وہ عربوں کا محتاج نہیں رہا۔ اب یہ گلف میں صرف روس اور چین کی وجہ سے بیٹھا ہے‘ اور سمجھتا ہے اگر یہ یہاں سے نکل گیا تو روس اور چین تیل کے اس دہانے پر آ بیٹھیں گے جس سے امریکا کو نقصان ہو گا لہٰذا یہ گلف کی ریت نہیں چھوڑ رہا۔

صنم جاوید کی گرفتاری پر جنید اکبر نے گنڈاپور حکومت سے وضاحت طلب کرلی

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اسرائیل نے اکتوبر 2023 میں غزہ پر حملہ شروع کیا‘ عرب ممالک دو برس سے امریکا سے جنگ بندی کی درخواست کر رہے ہیں‘ غزہ میں 70 ہزار لوگ مر گئے‘ پورا خطہ مٹی کا ڈھیر بن گیا لیکن امریکا جنگ نہیں رکوا سکا‘ اس کے بعد اسرائیل نے اپریل میں انڈیا کو پاکستان پر حملہ کرنے پر بھی رضا مند کر لیا‘ اب ثابت ہو رہا ہے کہ پہلگام کا حملہ موساد اور را کا منصوبہ تھا جس کا اصل مقصد پاکستان پر حملے کا جواز پیدا کرنا تھا‘ افغانستان اور ایران میں را اور موساد مدت سے سرگرم عمل ہیں۔ جون میں ایران پر اسرائیلی حملے کے بعد ثابت ہو گیا کہ اسرائیلی اور بھارتی ایجنٹوں نے پہلے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے ذریعے پاکستان پر مغربی سائیڈ سے دباؤ بڑھایا پھر سوشل میڈیا کے ذریعے پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کیا پھر پی ٹی آئی کو فوج کے سامنے کھڑا کیا اور پھر پہلگام کا ڈرامہ رچا کر پاکستان پر حملہ کر دیا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اس حملے میں پہلی مرتبہ اسرائیل نے کھل کر بھارت کا ساتھ دیا اور اسے ڈرونز اور سیٹلائیٹ کی مدد دی لیکن اللہ کا خاص فضل تھا کہ پاکستان نہ صرف بچ گیا بلکہ دنیا میں اس کی عزت میں بھی اضافہ ہو گیا جس کے بعد سعودی عرب نے پاکستان سے فوری طور پر دفاعی معاہدہ کر لیا۔

Back to top button